کرپشن سے کشمیر تک

آج پاکستان میں عید الاضحیٰ ہے ۔ گزشتہ روز یورپ اور دیگر کئی ممالک میں نمازِ عید ہو چکی ۔ پاکستان میں بارش کے پانیوں میں بھیگی ہوئی سُنّتِ ابراہیمی ؑ بے گناہ کشمیریوں کے لہو سے تر ہے جس پر ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور بوڑھوں کے آنسو ؤں کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا ہے ۔

اس موقعہ پر بازاروں اور مویشی منڈیوں میں مہنگائی کا بازار بھی گرم رہا ۔ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں اور بکروں کی کھالیں اُتارنے والوں کے مبالغہ آمیز حد تک گراں معاوضے کے خلاف دہائی اور احتجاجی آواز مسلسل سنائی دیتی رہی ہے ۔ہمارے یہاں مذہبی تہوار اپنے ساتھ کبھی عام آدمی کے لیے سہولتوں کا پیغام لے کر نہیں آتے ، بلکہ اس کے بر عکس یہ تہوار لالچی گراں فروشوں ، منافع خور دکانداروں اور قصابوں کے مال بنانے اور لوگوں کی جیبیں کاٹنے کے سنہری مواقع ہوتے ہیں ، جن میں جبری طور پر نافذ کی گئی قیمتوں سے   دولت سمیٹی جاتی ہے اور دونوں ہاتھوں سے سمیٹی جاتی ہے ۔قربانی کا گوشت بالعموم قربانی کرنے والوں کے اپنے ڈیپ فریزروں میں چھپ جاتا ہے ، جہاں سے وہ حسبِ ضروت سال بھر سنتِ ابراہیمی کے گوشت کا قورمہ کھاتے رہتے ہیں ۔

یہ ایک کرپٹ معاشرے کا المیہ ہے کہ وہاں ہر شخص دانستہ یا نا دانستہ کسی نہ کسی سطح پر کرپشن میں ملوث ہوتا ہے ، ہر شخص نہ چاہتے ہوئے بھی کرپشن کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلانے پر مجبور ہوتا ہے ۔ چنانچہ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ جس معاشرے کا حصہ ہوں ، اُس کے خلاف   لڑیں  بھی۔ اپنے خلاف لڑنا نفس کُشی کی جنگ ہوتی ہے ، جس کے اسرار و رموز سے واقف ہونا اور نفس کُشی کا عملی ہُنر سیکھنا  اُن اعلیٰ درجے کے لوگوں کا منصب ہے جنہیں قرآن نے مومن کا نام دیا ہے ۔

قرآن کریم نے سورہ ء بقر میں لوگوں کو تین قسم کے لوگوں میں تقسیم کیا ہے ۔ ان تین طرح کے لوگوں کو مومن ، منافق اور کافر کہا گیا ہے ۔ یہاں سرِ دست میں ان تینوں کی الگ الگ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا بلکہ اُن اعلیٰ ترین نفسیاتی صلاحیتوں کے لوگوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو مومن ہیں ۔ یہ لوگ اعلیٰ درجے کی اخلاقی ، روحانی اور ذہنی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں جو کتاب کے متن یا اہلِ کشف کے بیان کو سن کر اُسے سمجھنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور اپنی سمجھ بوجھ کو رو بہ عمل لانے کی کوالیفیکیشن پر مکمل دسترس رکھتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ اگر اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہوں تو لاقانونیت ، کرپشن اور نا انصافی ممکن ہی نہیں ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ شو بزنس کے اس عہد میں ایسے لوگوں کی نہ تو شناخت ہی آسان ہے اور نہ دوسرے اور تیسرے درجے کے مفاد پرست اُنہیں آگے آنے دیتے ہیں ۔

اس برس عیدِ قرباں کے موقعہ پر لہو کے دو  متوازی دھارے بہ رہے ہیں ۔ ایک دھارا مظلوم کشمیریوں کے لہو کا ہے اور دوسرا قربانی کے جانوروں کے لہو کا ہے ۔ کشمیر پچھلے ستر برس سے اپنی تقدیر کے فیصلے کا منتظر ہے لیکن نہ تو ہماری دعائیں ہی اس مسئلے کے حل میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں اور نہ ہی پاکستانی حکومتوں میں اتنا دم اور صلاحیت رہی ہے کہ  وہ ستر برس میں اقوامِ متحدہ کی استصواب رائے کی قرار داد پر عمل درامد کرا سکتیں ۔ ان ستر برسوں میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو نعرہ بنا کر طرح طرح سے سیاست تو کی گئی مگر کشمیر کی خود مختاری کا بھاری پتھر ذرا سا بھی سرک نہ پایا ۔ قوم کو کشمیر کمیٹیوں کی آڑ میں دھوکہ دیا جاتا رہا  اور یہاں تک کہ  چار مارشل لاؤں کے ہیرو بھی پاکستان کی شہ رگ کو پنجہ ء ہنود سے نہ چھڑا سکے ۔

 یہ سب قائد اعظم کی جیب کے وہ کھوٹے سِکّے ہیں جن کو کھرا ہونے کی توفیق ملی ہی نہیں ۔ اور بے چاری قوم پچھلے بہتر سالوں سے اپنی غربت ، بے چارگی اور بد قسمتی پر نوحہ کُناں ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقوں ، حکمرانوں ،   اُن کے خوشامدیوں ، جی حضوریوں ، جرنیلوں ، جاگیرداروں ، مذہبی ٹھیکیداروں اور بیوروکریٹوں کے اثاثے بڑھتے چلے گئے ہیں اور وہ ککھ پتی سے لکھ پتی ، کروڑ پتی اور ارب پتی تک بنتے چلے گئے ہیں ۔اس معاشی پالیسی کا نتیجہ یہ ہے  کہ غریب قوم کے کندھوں پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا ہے ۔ اس صورتِ حال پر پنجابی کی وہ کہاوت صدق آتی ہے کہ:

" کھانڑ پینڑ نوں بھاگ بھری تے دھونڑ بھنان نُوں جمّاں "

قوم اپنے کندھوں پر قرضوں کا بوجھ اُٹھائے سسک رہی ہے مگر  اُن سیاسی مغبچوں کے اللوں تللوں اور شاہانہ طرزِ زندگی  میں کوئی کمی نہیں آتی جو ان قومی قرضوں کو معاف بھی کروا لیتے ہیں اور اپنی خاندانی معیشت کو عیش و عشرت اور اسراف کی راہ پر چلاتے رہتے ہیں ۔ ایسے میں معاشرہ تین طرح کے لوگوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ۔ اول درجے والوں کو ائر کنڈیشنڈ کی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں ، درمیانے درجے میں وہ سرکاری ادارے شامل ہیں جن میں تنخواہوں کا معیار بہتر ہے  اور اُن کے بر وقت ملنے کی ضمانت بھی ہے ۔  مگر تیسرے درجے میں وہ بد قسمت لوگ ہیں جو درمیانے اور اول درجے کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی ہوا میں سانس نہیں لے سکتے ۔ اُن کے پاس قومی ٹرین کے ٹکٹ کے پیسے تک نہیں ہوتے اور وہ فٹ پاتھوں اور سرکنڈوں کی جھگیوں میں خطِ غربت سے نیچے نیم مردہ پڑے رہتے ہیں ۔

 اسی طرح عورتوں کے بھی درجے ہیں جن میں سے بعض کی حمایت میں قومی اسمبلی میں  گلا پھاڑنے کی مثال قائم ہوتی ہے اور تیسرے درجے کی وہ عورتیں بھی ہیں جن کو ماڈل ٹاؤن میں روبرو گولیاں ماری جاتی ہیں مگر اُن کو انصاف نہیں ملتا ۔

اور یہ ہے قائد اعظم کے پاکستان کا وہ چہرا جسے ہم خود سے بھی چھپاتے رہتے ہیں ۔

پاکستان پائند ہ باد ۔ قاءد اعظم زندہ باد

 یہ نعرے ہی ہماری اوقات ہیں اور ہم ان نعروں کے ٹانک پر بہتر سال سے زندہ ہیں ۔

loading...