پاکستان اور بھارت سمیت 17 ممالک میں پانی کے بحران کا خدشہ

  • ہفتہ 10 / اگست / 2019
  • 1060

دنیا کے کم از کم 17 ممالک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جن میں بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں جہاں پانی کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور دستیابی گھٹ رہی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ آئندہ چند سال میں وہاں پانی کا قحط پڑ سکتا ہے۔

ان 17 ممالک میں دنیا کے ایک چوتھائی لوگ رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کی آبادی میں مزید اضافے یا پانی کا استعمال بڑھنے سے پانی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن میں قائم ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کے ایک سائنس دان روٹگر ہوفسٹ کا کہنا ہے کہ خشک سالی یا کسی ناگہانی صورت حال میں ان ملکوں کو بہت ہی سنگین صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادارے نے پانی کی قلت کے خطرے کی نشاندہی سے متعلق 1961 سے 2014 کے عرصے کے دوران پانی کی دستیابی اور استعمال کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس میں پانی کے گھروں، صنعتوں اور زراعت میں استعمال اور بارشوں، دریاؤں اور زیر زمین موجود پانی کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبادی میں اضافہ اور معاشی ترقی دنیا بھر میں پانی کے وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن ملکوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ان کا تعلق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا سے ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں ہر سال دستیاب پانی کا کم ازکم 80 فی صد استعمال کر لیا جاتا ہے۔ سائنس دان ہوفسٹ کہتے ہیں کہ لوگ پانی کی قلت کا تعلق فوری طور پر آب و ہوا کی تبدیلی سے جوڑ دیتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی کمیابی کا براہ راست تعلق معاشی ترقی اور آبادی میں اضافے سے ہے۔ یہ وہ دو کلیدی عناصر ہیں جو مستقل بنیادوں پر پانی کے استعمال میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ ممالک میں 1961 کے مقابلے میں 2014 میں پانی کے استعمال میں 250 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ جن 17 ملکوں کو پانی کی شدید قلت اور بحرانی کیفیت کا سامنا ہے، ان میں سے 12 کا تعلق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے ہے۔ جب کہ جنوبی ایشیا دو ملک پاکستان اور بھارت بھی اس خطرناک صورت حال سے گزر رہے ہیں۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی تقریباً ایک ارب آبادی کو پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے جن میں ملک کے 21 اہم شہر بھی شامل ہیں۔ ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگلے برس تک ان بڑے شہروں میں زیر زمین پانی ختم ہو جائے گا اور وہاں کی مقامی آبادیوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانی بیرونی وسائل سے حاصل کرنا پڑے گا۔ ان شہروں میں نئی دہلی، امرتسر، موہالی، جےپور، حیدر آباد، چنائی، بنگلور، آگرہ، غازی آباد، جودھ پور، پٹیالہ، اور اجمیر بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں پانی کی قلت کا ملک کے سبز انقلاب سے گہرا تعلق ہے۔ چند عشرے قبل زرعی خودکفالت حاصل کرنے کے لیے حکومت نے بڑے پیمانے پر ٹیوب ویل لگانے کی حوصلہ افزائی کی۔ جس سے زرعی شعبے میں خوشحالی تو آئی لیکن زیرزمین پانی کی سطح کئی سو فٹ نیچے چلی گئی۔ اب وہاں کئی علاقوں میں زیر زمین پانی نایاب ہو چکا ہے۔

پاکستان بھی تقریباً اسی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ چند عشرے قبل پاکستان کے کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح اتنی بلند تھی کہ وہاں سیم اور تھور کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔ جس پر قابو پانے کے لیے سیم نالے بنائے گئے اور بڑے پیمانے پر سیفدے کے درخت لگائے گئے جو بڑی مقدار میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زرعی علاقوں میں ٹیوب ویلوں کی کثرت اور شہروں میں گھر گھر پانی کے پمپ لگائے جانے کے بعد کئی شہروں میں پانی 400 سے 500 فٹ تک نیچے چلا گیا ہے۔ اور یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ چند برسوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر خشک پڑ جائیں گے۔ جب کہ اسے دریائی پانی اور بارشوں کی قلت کا پہلے سے ہی سامنا ہے۔

آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا  تیسرا ملک ہے جو اس وقت پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 2009 میں صرف ایک ہزار کیوبک میٹر تھی، جس میں اب نمایاں کمی ہو چکی ہے۔

پاکستان کونسل ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2025 تک پاکستان میں پانی ختم ہو سکتا ہے جو ایک ایسے ملک کے لیے باعث تشویش ہے جس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اسے ضائع ہونے سے بچانے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے ، ڈیموں اور ان سے نکلنے والی نہروں کی حالت سدھارنے اور فصلوں کی آبپاشی کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...