میرے خلاف ریفرنس کے دائر کروانے نادیدہ ہاتھ سامنے نہیں آئے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • جمعرات 08 / اگست / 2019
  • 260

پاکستان میں سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف دائر ریفرنسز کو سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف اثاثے چھپانے سے متعلق  ریفرنس ’ لڑکی کے بھائی‘  والی اسٹوری کے مصنف صحافی کی شکایت پر بنایا گیا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس کا شکایت کنندہ ’صرف ایک پروکسی ہے، جبکہ یہ ریفرنس لانے والے نادیدہ افراد سامنے نہیں آ رہے‘۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 70 صفحات پر مشتمل یہ پٹیشن سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس خود جا کر جمع کروائی۔

پٹیشن میں صدر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، فیڈریشن آف پاکستان بوساطت سیکرٹری قانون و انصاف، وزیر قانون، اٹارنی جنرل انور منصور خان، سپریم جوڈیشل کونسل، رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف، شہزاد اکبر چیئرمین اثاثہ جات ریکوری یونٹ، وزیر اعظم ہاؤس کے قانونی ماہر ضیا المصطفیٰ نسیم، شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر اور وحید شہزاد بٹ، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست کے آغاز میں 55 سوالات تحریر کیے ہیں جن کا عنوان ’قانون کا سوال‘ ہے۔ اس سوالنامے میں جسٹس فائز عیسیٰ نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی طرف سے شکایت کنندہ کی سپریم کورٹ کے جج کے خلاف درخواست وصول کرنے، ایف بی آر کو ریکارڈ فراہم کرنے اور ایف آئی اے کی تحقیقات سے متعلق سوال اٹھایا ہے کہ ان تمام افراد نے کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ سب اقدام کیے ہیں؟ صدر عارف علوی نے یہ ریفرنس بھجوایا جبکہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف آنے والے ریفرنس کے فیصلے میں کہا جا چکا ہے کہ صدر اس میں اپنی رائے بھی شامل کریں گے۔ آیا اس ریفرنس میں بھی صدر نے اپنی رائے شامل کی یا صرف وزیر اعظم کے بھجوائے گئے ریفرنس کو چیف جسٹس کو بھجوا دیا؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نے اس میں اپنی رائے شامل کی جبکہ وہ اپنی اہلیہ کے اثاثے بھی اپنے اثاثوں کے ریکارڈ میں نہیں دکھا سکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق وفاقی حکومت کا مطلب وفاقی کابینہ ہے، ان کے خلاف دائر ریفرنس میں کیا وفاقی کابینہ کی منظوری لی گئی؟

جسٹس فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا ان کے خلاف ان کے سپریم کورٹ کے جج کا حلف اٹھانے سے پہلے کے معاملات پر ریفرنس لایا جاسکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 175(3) کے مطابق کیا ایک سیکرٹری سپریم کورٹ کے جج کو شوکاز نوٹس جاری کرسکتا ہے؟ اس طرح کا شوکاز نوٹس عدلیہ کو مقننہ سے الگ کرنے کے فیصلہ پر حملہ نہیں ہے؟ْ کیا ایک نامعلوم یا بے ایمان شکایت کنندہ کے کہنے پر جج کے ریفرنس بنایا جاسکتا ہے؟ جج اور اس کے اہل خانہ کے خلاف خفیہ معلومات حاصل کرکے ریفرنس بنانا کیا عدلیہ کی آزادی ہے؟ کیا کسی شکایت کنندہ کو جانے بغیر اور اس بے ایمان شکایت کنندہ کو جانچے بغیر ایک جج کے ریفرنس بھجوایا جاسکتا ہے؟‘

مرزا شہزاد اکبر اور ضیا المصطفیٰ ندیم آرٹیکل 240 اور242 کے تحت حکومت پاکستان کے ملازم نہیں تو کیا وہ ریاست کے معاملات اور ایک جج کے حوالے سے معاملات میں دخل دے سکتے ہیں؟ کیا ایسا مواد جو شوکاز میں نہ بتایا گیا ہو اور ریفرنس میں شامل ہو اس پر کارروائی کرنا فئیر ٹرائل کے اصول کے مطابق ہے؟

فائز عیسیٰ نے ریفرنس کی جلد بازی میں سماعت پر بھی سوال اٹھایا کہ جب وہ منظور شدہ چھٹی پر تھے اس وقت ان کے خلاف چھ سے پندرہ سال پرانے معاملات پر جو کہ کرپشن سے متعلق بھی نہ تھے، ریفرنس بھجوانے کی ضرورت تھی؟ انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر ہونے والے والی نظرثانی درخواست کے حوالے سے سوال کیا کہ اس نظرثانی درخواست میں میرے خلاف مخصوص عزائم رکھنے کا کہا گیا تھا، حکومت نے میرے خلاف اس ریفرنس کے خلاف سے پروپیگنڈہ کیا۔ کیا صدر کا میرے حوالے سے بلیک میل کرنے کا کہنا اور میڈیا ٹرائل کرنا منصفانہ عمل ہے؟ فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کے خلاف امتیازی سلوک کیا گیا اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ والا مواد جاری کردیا گیا جبکہ ان کا جواب کسی میڈیا پر نہیں آنے دیا گیا اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی خلاف ورزی کی گئی۔

loading...