کشمیر اور پاکستان: جنگ وتصادم کی بجائے امن و مفاہمت کا راستہ تلاش کیا جائے

پاکستان کی  قومی سلامتی  کمیٹی نے   مقبوضہ کشمیر  کی خصوصی آئینی حیثیت  ختم کرنے پر  بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات  محدودکرنے کے علاوہ  تمام تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  یہ قیاس بھی کیا جارہا ہے کہ پاکستان ایک  بار پھر بھارت کے لئے   اپنی فضائی حدود   بند کردے۔  یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب کشمیر کی صورت حال اور بھارت کے یک طرفہ   اچانک فیصلہ کے خلاف  احتجاج کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس  جاری تھا۔  مشترکہ اجلاس میں دو روز کی گرما گرم پرجوش تقریروں اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان دھینگا مشتی کے بعد  آج مذمتی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں    بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ کے  مشترکہ اجلاس میں  اتفاق رائے سے منظور ہونے والی قراداد میں  بھارتی  حکومت  کی جانب سے لائن آف کنٹرول  پر   بلااشتعال فائرنگ  و شیلنگ ، آزاد  کشمیر میں نہتے شہریوں پر کلسٹر بم استعمال کرنے، مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور دیگر حالیہ اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔ قرار داد میں اصرار کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے ۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے  ایجنڈا  کا حصہ ہے۔ بھارت  کے غیر قانونی اقدامات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ وزیر اعظم عمران خان  آج کے اجلاس میں موجود نہیں تھے ۔ البتہ گزشتہ روز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے   کشمیر کے بارے میں نریندر مودی حکومت کو نسل پرست  قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اس سے انتہا پسندی بڑھے گی اور دہشت گردی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت کے اقدامات خطے میں ایک نئے تصادم   کا سبب بن سکتے ہیں۔

حکومت کے ایما پر صدر عارف علوی نے   پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس  طلب کیا تھا لیکن  نہ تو وزیر اعظم نے  اپنی تقریر میں حکومت کے فیصلوں کا اعلان کیا اور نہ ہی ان کی تقریر کوئی جامع پالیسی بیان تھا۔  اس کی بجائے حکومت نے  اپنے  فیصلوں  کا اعلان کرنے  کے لئے قومی سلامتی کمیٹی  کا  ایک ایسا فورم  استعمال  کرنے کو ترجیح دی ہے  جس میں فوجی قیادت بھی موجود ہوتی ہے۔  حکومت اگر یہی فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعے کرتی یا  وزیر اعظم منتخب ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ان فیصلوں کا اعلان کرتے تو یہ قرار دیا جاسکتا تھا کہ پاکستانی عوام  کے منتخب نمائیندوں  نے بھارتی فیصلہ کے خلاف متفقہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پاکستان کی جمہوری شناخت اور حکومت کی  ساکھ  نمایاں ہوتی۔    ملک کی حکومت اور وزیر اعظم  نے منتخب ایوان  کو  بھارتی  فیصلہ  کا جواب دینے کا مناسب فورم     نہ سمجھ کر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ  ملک میں اہم قومی فیصلے کرنے کا اختیار   عوام کے نمائیندوں  کے پاس  نہیں ہے۔ ان سے  محض تقریریں  کروانے اور قرارداد منظور کرنے کا کام لینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔

عمران خان اگر  بھارت  کے خلاف کئے جانے والے  اقدامات  کو پارلیمنٹ  سے منظور کرواتے تو  یہ متفقہ قومی فیصلہ ہوتا جس میں اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں کو تحفظات کے باوجود شامل ہونا پڑتا ۔ شاید یہی نکتہ وزیر اعظم کے سیاسی ایجنڈے سے متصادم ہے۔   پاکستان اس وقت ایک سنگین سفارتی اور سیاسی بحران کا سامنا کررہا ہے ۔ اس موقع پر قومی یک جہتی کا مظاہرہ ہی  عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اور سیاسی پوزیشن مستحکم کرسکتا ہے۔ لیکن عمران خان اس اہم نکتہ کو سمجھنے اور اپوزیشن کی منتخب سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔   اس کا  نقصان تحریک انصاف یا عمران خان کی بجائے پورے ملک  کو ہورہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے معاملہ پر بھارتی حکومت کے غیراخلاقی اور غیر قانونی  اقدام کے خلاف  گفت و شنید کے علاوہ فیصلوں میں بھی  یک جہتی کا مظاہرہ اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت  اس موقع پر قومی یکجہتی  کو سامنے لانے  میں ناکام رہی ہے۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں  ہی حکومت کی  تیا رکردہ   قرار داد اپوزیشن کے مشورہ کے بغیر ہی ایوان میں پڑھ دی  گئی۔  اسی وجہ سے  اجلاس ابتدا سے ہی  بد مزگی کا شکار ہوگیا۔    اسپیکر اسد قیصر کو اجلاس بیس منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑا لیکن  اراکین تین گھنٹے کی تاخیر سے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے۔  وزیر اعظم نے اس دوران ایوان میں آنے کے لئے اپوزیشن لیڈر  سے ہنگامہ نہ کرنے  کی یقین دہانی حاصل کی ۔ یہ وعدہ بھی  لیا گیا کہ وزیر اعظم کی آمد پر اپوزیشن اراکین نعرے بازی نہیں کریں گے۔ ایک جمہوری لیڈر کا یہ طرز عمل  دراصل جمہوری طریقہ سے خوف کا مظہر ہے۔ اسی لئے وزیراعظم تقریر کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ایوان سے چلے گئے۔   پارلیمنٹ کے اجلاس میں گرم جوش تقریروں کے باوجود  اراکین نے پوری دل جمعی  سے   کارروائی میں  شرکت نہیں کی۔ اس کی طرف پیپلز پارٹی کے چئیرمین  بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں اشارہ بھی کیا تھا۔

آج بھارت سے احتجاج کرنے  کے لئے   قومی سلامتی  کمیٹی نے   پانچ اقدامات کا اعلان کیا ہے۔   1)سفارتی تعلقات کو محدود کیا جائے  گا۔ 2) دو طرفہ تجارت معطل کردی جائے گی۔ 3) دو طرفہ معاہدوں پر نظرثانی کی جائے گی۔ 4) اس معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا۔ 5)14 اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔  ان سارے فیصلوں سے سفارتی یا سیاسی لحاظ  سے کشمیر کی صورت حال  یا بھارت کی پوزیشن پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ ایمانداری سے دیکھا  جائے تو یہ اعلانات  اس معاملہ پر عوام کا ’غم و غصہ‘ دبانے اور یہ ظاہر کرنے کے  کئے گئے ہیں  کہ  پاکستانی حکومت کسی حالت میں کشمیر یوں کے حق خود مختاری سے دستبردار نہیں ہوگی۔ تاہم پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ سفارتی اور سیاسی  مقصد حاصل  کرنے کے لئے  بھارت کے ساتھ تعلقات کو خراب  یامحدود کرنے کی ضرورت ہے یا اسے  ’انگیج‘   کرنے سے مسئلہ کے کسی حل کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔

عوامی جذبات کی بنیاد پر کئے گئے غیر ضروری اعلانات اور فیصلوں سے  قومی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکمت عملی عوام   کی تشنگی    و بے یقینی میں اضافہ کرے گی اور وہ حکومت  سے  ایسی توقعات  وابستہ کرنے لگیں گے جنہیں پورا کرنا عملی طور سے ممکن نہیں ہے۔ کوئی دور اندیش لیڈر ایسے موقع پر جذبات سے کھیلنے کی کوشش نہیں کرتا۔   وزیر اعظم عمران خان کو گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنا پالیسی بیان ایک جامع اور مختصر تقریر کی صورت میں دینا چاہئے تھا۔ اسی طرح  حکومت کے دیگر نمائیندوں کو بھی نعرے بازی کی بنیاد پر تقریریں کرنے کا کام اپوزیشن پر چھوڑ کر خود ٹھوس اور   ایسی  بامقصد باتیں کہنی چاہئیں تھیں  جن سے مسئلہ حل کرنے اور ملک کو کسی غیر ضروری آفت سے محفوظ رکھنے کی راہ ہموار ہوتی۔ یا مقبوضہ  کشمیر میں اس وقت پائی جانے والی ابتر انسانی صورت حال ، پابندیوں اور  سیاسی لیڈروں کی حراست کو نمایاں کیا جاتا۔  اس کے برعکس وزیر اعظم عمران خان کی تقریر جذبات سے بھرپور اور بے مقصد نعرے بازی کا اعلیٰ نمونہ تھی۔  یہ طرز کلام  کسی حوصلہ مند ،  بہادر  اور سوجھ بوجھ رکھنے والے لیڈر کا نہیں ہوسکتا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  کی گئی تقریروں میں بار بار ملک کی حفاظت کے لئے خون کا آخری قطرہ تک  بہا دینے کے نعرے بلند کئے گئے ہیں۔ افسوسناک طور سے اس  طرز  تکلم  کا آغاز قائد ایوان عمران خان نے اپنی تقریر سے کیا اور  آدھی سے زیادہ گفتگو  جنگ کی باتیں کرنے میں ضائع کی۔  جو جنگ  لڑی نہیں جاسکتی اور جس کے لئے پاکستان کے پاس وسائل  ہی موجود نہیں ہیں ، اس کے بارے میں جذبات سے بھرپور باتیں کرنے سے کون سا  بین الملکی سیاسی و سفارتی مقصد حاصل ہوسکتا ہے؟  البتہ اس سے حکمران پارٹی   ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے اور   داخلی طور سے اپوزیشن کو نیچا دکھانے کا سیاسی فائدہ ضرور حاصل  کرسکتی ہے۔  قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے خلاف جن فیصلوں کا اعلان کیا ہے، وہ بھی اسی قسم کی سطحی  اور غیر حقیقی سوچ کا مظہر ہے ۔ اس کی معاشی اور سفارتی قیمت  ملک کے عوام کو  ادا کرنا پڑے گی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک وزیر بھارت سے سفارتی تعلقات توڑنے کا مطالبہ کررہا تھا جبکہ دوسرا جہاندیدہ وزیر چھے ماہ کے اندر جنگ کی نوید دے رہا تھا۔ ایک اور وزیر نے ایک علیحدہ بیان میں لال قلعے پر پاکستانی پرچم لہرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے  قرار دیا ہے کہ  اس جنگ میں کامیابی کی مذہبی بشارت موجود ہے۔   جس حکومت کے نمائیندے سیاسی چٹخارے  کے لئے ایسے احمقانہ بیانات دے سکتے ہیں ، وہ اس ملک کو جنگ جیسے ہولناک خطرے سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی کیسے  بنا سکتی ہے؟

اس وقت ملک میں جنگ کی باتیں  اور لائن آف کنٹرول پر جاکر جان دینے کا  اعلان کرنے والے تو بہت ہیں تاہم ملک کو ایسی رہنمائی کی ضرورت ہے جو  قوم کو  اس غیر متوقع  بحران سے کسی تصادم اور بڑے نقصان کے بغیر باہر نکال سکے۔

loading...