مقبوضہ کشمیر کی آزادی یا آزاد کشمیر کی حفاظت

وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈروں کی طرح  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس  سے   پرجوش خطاب میں  پاکستان کی حفاظت کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کا اعلان کرنے کے باوجود ،  کشمیری باشندوں کے لئے  اتنا زبانی وعدہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے کور کمانڈر اجلاس میں کیا ہے کہ ’پاکستان کشمیریوں  کے حق خود اختیاری کے  لئے آخری حد تک جائے گا‘۔ شاید اسی کو عملیت پسندی کہتے ہیں۔ اسی خوبی کی وجہ سے سے ہی شاید عمران خان اس وقت ملک کے وزیر اعظم بھی ہیں۔

بھارت کی طرف سے گزشتہ روز کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے  کے بارے میں جاری ہونے والے صدارتی آئینی حکم کے بعد پاکستان اور بھارت میں یکساں طور سے پریشانی اور بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔  دونوں ملکوں کے وقتی  یا طویل المدتی مفادات سے لاتعلق مبصر بھی یہ سمجھتے ہیں  کہ  نئی دہلی کے اس اقدام سے  کشمیر ی عوام  کی مایوسی اور غصہ میں  اضافہ ہوگا  جو بھارت کے لئے نئے سیاسی، سفارتی اور  عسکری و سیکورٹی مسائل پیدا کرے گا۔

مقبوضہ کشمیر کی آئینی خصوصیت کو مسترد کرتے ہوئے نریندر مودی کی حکومت نے کشمیری عوام کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم  نے پارلیمنٹ سے خطاب میں اسے نسل پرستانہ پالیسی قرار دیا ہے  اور کہا  ہے کہ انہیں اندیشہ ہے کہ اس حکمت عملی سے بھارت مقبوضہ وادی میں  مسلمان آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کرے گا۔  اپوزیشن  لیڈر شہباز شریف نے بھی بھارتی حکومت کے ان جارحانہ اور غاصبانہ عزائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ  ’بھارت کو خبردار رہنا چاہئے کہ   نہ پاکستان  فلسطین ہے اور نہ ہی وہ خود اسرائیل  ہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کو ایک نیا فلسطین بننے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

اسی تناظر میں اپوزیشن کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ  کشمیر کی تازہ صورت حال اور بھارتی حکومت کی اشتعال انگیزی کے خلاف  ٹھوس اور جامع حکمت عملی کا اعلان کرے۔ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں کی جانے والی طویل تقریر میں   یہ بتانے سے قاصر رہے کہ  وہ  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم کو ناکام بنانے  کے لئے  کیا پالیسی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔  اپوزیشن  لیڈر کے اصرار پر  انہوں نے غصے میں  یہ ضرور کہا کہ ’ہم تمام ممکنہ سفارتی کوششیں کررہے ہیں ۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں بھارت  پر حملہ کا اعلان کردوں؟‘۔  تاہم اپوزیشن لیڈر پر  سخت الفاظ میں برہم ہونے  کے  باوجود عمران خان کی تقریر کا مفہوم بہر حال یہی تھا کہ پاکستان  بھارتی حکومت کے اقدامات پر تقریریں  کرنے اور مذمت کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔  اور اس بے بسی کو انہوں نے ان الفاظ میں چھپانے  کی کوشش کی کہ ’  جن کشمیریوں نے گزشتہ پانچ برس میں بھارتی  مظالم کے باوجود جد و جہد جاری رکھی ہے۔ کیا ایک قانون بدلنے سے وہ اپنی جد و جہد ترک کردیں گے؟ اسی لئے اندیشہ ہے کہ یہ بڑا مسئلہ بن جائے گا‘ ۔

عمران خان  کا کہنا ہے کہ’ بھارتی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنےکی کوشش کرے گی اور جب وہ ایسا کرے گی تو ردعمل آئے گا ۔  پھر پلوامہ کی طرز کا واقعہ ہوگا اور بھارت  کہے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد آئے۔ جبکہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا‘۔انہوں نے  اندیشہ ظاہر کیا کہ’ بھارت اب کشمیریوں کی نسل کشی کرے گا۔ لوگوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کرے گا  تاکہ وہاں دوسری اکثریت آجائے اور کشمیری غلامی تلے دب جائیں۔ بھارت جب یہ سب کچھ کرے گا اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے‘۔

  اسی تناظر میں عمران خان نے بھارت کے پاکستان پر حملہ اور خون کے آخری قطرے تک لڑنے کی  بات بھی کی۔ وزیر اعظم کے اس بیان سے    مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے  پر پاکستان کی طرف سے زیادہ جارحانہ یا سخت رد عمل کی امید رکھنے والوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ کیوں کہ ملک میں   ایسے لوگوں کی کمی نہیں  ہے جنہیں پاکستان کی  عسکری قوت اور پاک فوج کی صلاحیت کے بارے میں ایسا سبق ازبر کروادیا گیا ہے، جس کے سبب  وہ یہ سمجھنے لگے ہیں   کہ   پاک فوج جس مسئلہ کو چاہے چٹکی بجاتے  حل کر سکتی  ہے۔

اس دوران بھارتی راجیہ سبھا میں  جموں  وکشمیر کی نئی حیثیت کے بارے میں حکومت کے  نئے بل مجریہ 2019 پر بحث کے دوران اپوزیشن کی طرف سے  کشمیریوں کے آئینی حقوق سلب کرنے پر شدید نکتہ چینی کی گئی اور اسے جمہوری اقدار پر حملہ اور آئین سے کھلواڑ  کے مترادف قرار دیا گیا۔  اس موقع پر اپوزیشن کی  تند و تیز تقریروں کا جواب دیتے ہوئے  وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سربراہ امیت شاہ نے واضح کیا کہ مودی حکومت نے وہ کام کردکھایا ہے جو بھارت کی کوئی  بھی حکومت 70 برس میں کرنے میں ناکام رہی  تھی۔  انہوں نے کہا کہ اب کشمیر کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنا کر ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی گئی ہے۔ اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کا کام باقی ہے۔ انہوں نے  اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں تو اس مقصد کے لئے جان بھی  دینے کو تیار ہوں۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ سارا کشمیر بھارت کا حصہ بنے؟‘

پاکستانی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم یا اپوزیشن کی پرجوش تقریروں کے دوران امیت شاہ کے اس  چیلنج کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ اپوزیشن اور حکومت  پہلے اس سوال پر الجھے رہے کہ کیا قرار داد میں  بھارت کے آئینی ترمیمی  حکم کی مذمت  کے لئے   آرٹیکل 370 اور شق 35 اے کا ذکر کیا جائے یا  ان شقات کے حوالہ کے بغیر  ہی سرکاری قرارداد کافی ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر اس بات پر اتفاق نہ کرسکے کہ پاکستان  موجودہ صورت حال میں بھارت  کو  کس طرح  سخت پیغام دے سکتا ہے۔  ایسے میں یہ سوال ہنوز تشنہ جواب ہے کہ  کیا حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا معاملہ کشمیری عوام پر چھوڑ کر اب آزاد کشمیر کی حفاظت  کرنے کی  پالیسی بنا چکی ہے؟ تاکہ امیت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے  ان عزائم کو ناکام بنایا جاسکے کہ  پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھارت کا حصہ بنایا جائے؟

بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کا آئینی استحقاق ختم کرکے کشمیر کے سوال پر اسٹیٹس کو  کو توڑا ہے۔  اس طرح اس نے پاکستان کو اس مسئلہ کا فریق ماننے سے انکار کیا ہے۔ پاکستان  کی طرف سے بھی اس صورت حال کا جواب دینے  کے لئے مذمت کرنے،  سخت بیان دینے  یا سفارتی بھاگ دوڑ  کی بجائے  کوئی ایسا اقدام کرنا ہوگا جو اس  ساکت و جامد کشمیر پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکے۔ پاکستان  کی کشمیر پالیسی کو اگر ایک سطر میں بیان کیا جائے تو یہ ’کشمیر بنے گا  پاکستان‘ کے نعرے  یا گمان  پر استوار ہے۔  بھارت  نے اپنے اس گمان یعنی  ’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘  کو یقین میں تبدیل  کرنے کے لئے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان اس کا  جواب ’ کشمیر بنے گا پاکستان‘  کی حکمت عملی سے نہیں دے سکتا   بلکہ اسے اپنی کشمیر پالیسی    میں کشمیری  عوام کے حق خود اختیاری کو بنیادی اہمیت دینا  ہوگی۔

اس  پالیسی  کا عملی اظہار کرنے کے کئی سفارتی اور سیاسی طریقے ہوسکتے ہیں ۔ تاہم اس مقصد تک پہنچنے کے لئے پہلے ملک میں کشمیر کے سوال پر پیدا کی گئی انتہائی جذباتی صورت حال کو ختم کرنا ضروری ہے۔    پاکستان  کی حکومت اور عوام کشمیریوں  کے حق خوداختیاری  کا مقدمہ بھی اس طریقے سے سمجھتے اور پیش کرتے رہے ہیں جیسے کشمیری عوام اس کے علاوہ کوئی رائے نہیں   رکھتے  کہ وہ بالآخر پاکستان کا حصہ بن جائیں۔  حالانکہ یہ تفہیم کشمیر کے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

 وزیر اعظم نے جب آج  مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والے رد عمل اور  اس کے نتیجے میں ممکنہ دہشت گردی  کا ذکر کیا تو بالواسطہ طور سے  تو وہ یہ سچ تسلیم کررہے تھے  کہ کشمیری عوام کو اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہے۔ پاکستان کا اس میں کوئی کردار نہیں  ہے۔  اگر عمران خان اس سیاسی اور سفارتی سچائی کا سراغ لگا چکے ہیں تو وہ اسے  اپنی حکومت کی خارجہ و  داخلہ پالیسی  کے ذریعے واضح کرسکتے ہیں۔ پھر شہباز شریف کو بھی جواب مل جائے گا کہ حکومت کی کشمیر پالیسی کیا ہے اور عوام  کو بھی باور کروایا جاسکے گا کہ  کشمیری عوام کو  ہی اپنی سرزمین اور مستقبل کا فیصلہ کرنے  کا حق حاصل ہے۔ پاکستان اس اصول کو تسلیم کرلے تو  دنیا کو   اس بات پر آمادہ کرنا آسان ہو گا کہ  بھارت کو بھی کشمیریوں کے حق خود اختیاری کو  ماننے پر مجبور  کیا جائے۔

دہائیوں  کی نعرے بازی، گمراہ کن تفہیم اور پروپیگنڈا کے بعد اس سچائی کا اقرار آسان نہیں ہو گا۔ لیکن  پاکستان کے پاس اس راستے کے علاوہ کوئی باوقار اور قابل عمل آپشن بھی نہیں ہے۔ بصورت دیگر بھارت آزاد کشمیر  پر قبضہ کی دھمکیاں دیتا رہے گا اور پاکستان  اسے بچانے کے  لئے  سر دھڑ کی بازی لگانے کا اعلان کرتا رہے گا۔ اس  سفارتی دنگل میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا خواب بکھرتا رہے گا۔

loading...