مسئلہ کیا ہے ؟

میری سمجھ بوجھ کے مطابق ، جو کوئی حتمی رائے نہیں ، ہم پاکستانیوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے انفرادی وجود سے لے کر اجتماعی وجود تک اپنی اپنی ذات میں ایک لا ینحل مسئلہ ہیں ۔

ہم اپنے نیم نظریاتی جال میں مکڑیوں کی طرح اُلٹے لٹکے ہیں اور اپنی جدوجہد سے نہ تو اِس جال سے نکلنے کے اہل ہیں اور نہ ہی ستر برس میں  کوئی ایسا میکنزم  ایجاد کر پائے ہیں جو ہمیں ہمارے انفرادی اور اجتماعی طلسمِ باد گرد سے رہائی دلا سکے اور ہم بطور مسئلہ حل ہو جائیں ۔ مگر ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم نے ستر برس میں اپنی بستیوں ، شہروں اور قصبوں کے گلی کوچوں ، نالیوں اور گٹروں کو صاف کرنا نہیں سیکھا اور بڑے شہروں میں انگریز آقاؤں کے بچھائے ہوئے سیوریج سسٹم کو اس طرح سنبھال کر رکھا ہوا کہ کہیں اُن کی تبدیلی اور اوور ہالنگ گستاخی اور بد تہذیبی کی ذیل میں نہ آئے ۔ ہم نے اپنی معاشرت سے گالی گلوچ کی روایت کو معدوم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو بُرا کہنے ، ایک دوسرے پر الزام اور بہتان تراشنے کے ایک سو ایک پیرائے ایجاد کر لیے ۔

ہم نے حوصلے اور تحمل سے ایک دوسرے سے بات چیت اور مکالمے کا مہذب طریقہ نہیں اپنایا ۔ عامیوں کی بات سے تو قطع نظر ممکن ہے مگر ہمارے دانشور جب مل بیٹھتے تو اپنے سیاسی ، ادبی اور نظریاتی حریفوں پر ایسی ایسی پھبتیاں کستے ہیں اور غیبت کی ایسی ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں کہ شیطان بھی کانوں پر ہاتھ رکھ لے ۔ ہم نے ایک دوسرے کو عزت و احترام دینے کا کلچر نافذ نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم پاکستانیت کا کوئی اعلی ثقافتی معیار وضع نہیں کر سکے ۔ اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟ میں ، آپ اور وہ سب جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ہمیشہ دوسروں کو دوش دیتے ہیں ۔

مشرقی پاکستان تو ہم سے سینکڑوں میل دور تھا جس سے ہم اپنی سیاسی یک جہتی بر قرار نہ رکھ سکے مگر کشمیر کو تو ہم اپنی شہ رگ کہتے ہیں اور پچھلے ستر سال سے ہم نے اپنی شہ رگ کو بچانے کے لیے جتنی جد جہد کی ہے اس کو کشمیر کمیٹی کی کارگزاری میں تلاش کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے نام سے کمیٹی بنا کر اس پر مولانا فضل الرحمٰن کو بٹھا دو تو ان کی دعا سے کشمیر کو آزادی مل جائے گی ۔یہ ہماری تہذیبی تاریخ کے مختلف حصے ہیں جو یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم ایک غیر ذمہ دار نظریاتی بھیڑ ہیں جو خود کو بطور قوم نظم ہی نہیں کر سکے ۔

ہم نہ جانے کیوں اپنے سارے مسائل کا ملبہ فوج پر ڈال کر باقی سارے اداروں کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیتے ہیں ۔ فوج اکیلی تو ملک نہیں چلاتی ۔ بیوروکریسی ، عدلیہ ، پولیس ، وکلاء ، تاجر ، سرمایہ دار ، جاگیر دار اور میڈیا سب مل کر مارشل لاؤں کو بھی زندہ رکھتے ہیں اور مارشل لاؤں کی حمایت کی کھٹی کھاتے ہیں ۔ ضیاء الحق کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت حکمرانی کا جواز مہیا کرنے والا اے کے بروہی ہو یا جسٹس منیر  ہو ،سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جوعوام کا طاقت کا سرچشمہ ہونے کا حق غصب کر لیتے ہیں ۔ اور ہمارا نا عاقبت اندیش میڈیا اس سارے تاریخی تناظر سے چشم پوشی کر کے اُن سویلین بدعنوانوں کی کرسی کی جنگ لڑنے لگتا ہے جنہوں نے فوج کے مہرے کے طور پر ہر  مارشل لا کی بساط پر اپنی سیاست شروع کی ، ہوچھے جاٹوں کی طرح جھولیاں بھر بھر کر اقتدار کے آم کھائے اور جمہوریت کے نام پر شاہی کی ۔

 اپنے جان و مال کی حفاظت کے لیے مسلح باڈی گارڈ رکھے اور اقتدار کے تحفظ کے لیے لفافہ بٹالین اور خوشامد بریگیڈ منظم کیے جو اب ایک باقاعدہ منظم  مراعات یافتہ طبقہ بن کر ابھرے ہیں اور کچھ لفافے  تو ٹی وی چینلوں کے مالک اور فارم ہاؤسوں کے جاگیردار تک بن گئے ہیں ، جنہیں اپنے آقاؤں کی ڈوبتی ہوئی کشتی تو چوبیس گھنٹے نظر آتی رہتی ہے جس پر وہ نوحہ و ماتم کرتے ہیں مگر اُنہیں وہ ڈھائی کروڑ بچے نظر نہیں آتے جو ان کے جمہوریت کے پہلوانوں کے عہد میں تعلیم سے محروم رہے ، اور نہ ہی وہ سکول جن میں بھینسیں بندھی ہوتی ہیں اور وہ بھوت اساتذہ  اور اہل کار جو کہیں کام نہیں کرتے مگر تنخواہیں باقاعدہ  لیتے رہتے ہیں ۔

اس لفافہ بریگیڈ کا صرف ایک ہی کام ہے کہ جب اُن کے آقا بر سرِ اقتدار ہوں تو وہ اُن کی سٹھنیاں گائیں اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوں تو اُن کو دوبارہ برسرِ اقتدار لانے کے لیے میڈیا وار شروع کر دیں اور جمہوریت جمہوریت کی چانگریں ماریں ۔ اگر ان لوگوں نے ملک کے اصل مسائل کی طرف توجہ دی ہوتی تو اس ملک میں تعلیم عام ہوتی ، ہر بچہ سکول جاتا  ، ہر خاندان کے سر پر چھت ہوتی اور بے روزگاری کی شرح کنٹرول میں ہوتی اور بے روزگار لوگوں کو بے روزگاری الاؤنس ملتا تو یہ سچ مچ کی جمہوریت ہوتی ۔

 مگر یہاں جمہوریت مطلق العنان مراعات یافتہ طبقوں کا کاروبار ہے اور اس کاروبار کا شعبہ ء اشتہارات میڈیا ہے جو اپنے دام کھرے کرنے کے لیے کسی بھی سرمایہ دار ، جاگیردار ، جرنیل یا کسی بیرونی طاقت کی کٹھ پُتلی بن کر ڈالر کی کڑکڑ کی دھن پر مالی مفادات کا بھنگڑا  ناچ سکتا ہے۔تاہم سیاسی مداریوں نے اپنا بیانیہ رائج کر رکھا ہے جس میں وہ اپنے عالیشان محل کو غریب خانہ ، انواع و اقسام کی تعیشات کو روکھی سوکھی اور اپنی اکڑ فوں کو خدمت  کہ کر پوری لُغت کو کنفیوژن میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ اور یہ وہ عہد ِ نامراد  بھی ہے جس میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی مسندِ فقر پر ایسے ایسے متکبر ، دولت پرست اور مال پانی کے ذخیرہ  اندوز قابض ہوگئے ہیں جن کے عالیشان محلات ، قیمتی گاڑیوں اور  لباسِ فاخرہ اور مسلح باڈی گارڈوں کو دیکھ کر عام آدمی بے چارہ خوف زدہ ہوجاتا ہے اور اُن کے خطبوں ، مواعظ اور تقریروں کے آگے دم تک مارنے کی مجال نہیں رکھتا ۔

چنانچہ چار مارشل لاؤں اور اُن کی مسلم لیگوں کی گود میں پلی قوم  کے لیے نظریہ ء پاکستان ایک مفروضہ بن کر رہ گیا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں آئین، قانون اور نظم و ضبط وہ لفظی  شعبدے ہیں جو کبھی رو بہ عمل نہیں آتے اور نہ ہی ان کے آسکنے کے امکانات ہیں جس کی وجہ سے یہ غریب قوم ایک لانظام کی قیدی بن کر رہ گئی ہے ۔ میرا خیال ہے لا نظام کو  نان سسٹم کے انگریزی اظہار میں سمجھنا زیادہ سہل ہے ۔ اس لا نظام یا نان سسٹم  میں ملکی  آئین اور قانون کو یکسر نظر انداز کر کے مطلق العنانی کے طریقِ کار کے ذریعے قوم کو جانوروں کی طرح ہانکا جاتا ہے اور آئین اور قانون کا معاشرتی زندگی سے کوئی اطلاقی رابطہ پیدا  ہونے نہیں دیا جاتا ۔ ایسے لا نظام میں جمہوریت ایک جھنجھنا ہوتا ہے جسے بجا بجا کر خطِ غربت سے نیچے پلنے والے بچوں کو سلایا جاتا ہے ۔

اس جھنجھنے کی دھن پر تالیاں بجانے کے لیے لفافہ قوالوں کی پارٹیاں اور ہو جمالو کے بھنگڑا طائفے ہوتے ہیں جو گلی کوچوں میں ننگا ناچتے ہیں ۔ اور اس کی زندہ مثال آج ایک کہانی کی صورت میں سنائی دی کہ ایک شخص اپنے کپڑے اتار کر ہاتھ میں لیے ننگ دھڑنگ وفاقی دار الحکومت میں بنی گالہ کی طرف بھاگا جا رہا تھا کہ میرے پاس یہی کپڑے رہ گئے ہیں جو میں  حکومت کے مونہہ پر دے مارنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس یہی کچھ رہ گیا ہے ۔

پی ٹی آئی والو ، میں کس سے کہوں کہ " ہور چُوپو" !

loading...