حالات کی سنگینی سے لاتعلق حکمران

پرانے قرضوں کے جرم پر تحریک انصاف کے راہنما ہر وقت شور مچاتے رہتے ہیں جبکہ وہ نئے قرضوں کے حصول پر جشن مناتے ہیں۔ اور عوام کو یہ خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ان کی حکومت پر عالمی مالیاتی اداروں اور اسلامی برادر ممالک کا اعتماد ہے۔ لہذا اسی لیے انہیں قرضے دیئے جا رہے ہیں۔

 مہنگائی کا سونامی تباہی اور بربادی پھیلا رہا ہے لیکن حکمرانوں کو اذیت ناک مہنگائی سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے عوام کی زندگیاں برباد کرنے والی کرپشن کے خلاف تاریخی مہم چلائی ہوئی ہے جس کہ نتیجہ میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت جیلوں میں بند ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں کوئی بھی کام رشوت دینے کے بغیر نہیں کروایا جا سکتا۔ یہاں پر بعض محکموں کے لوگ دفتر میں  حاضری لگوانے آتے ہیں جبکہ کام کے پیسے لیتے ہیں۔  سیاسی تحریک اور رجحان کو تابع کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس تسلط کو مسلط کرنے کے جنون سے ملک میں فسطائیت کا آ سیب چھا رہا ہے۔   سیاسی سر گرمیوں کو میڈیا پر نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ویسے بھی عوام کو مظاہروں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی کیونکہ ماضی میں جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان سے عوام کو فائدہ نہیں ہوا ہے۔ جبکہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نئی جماعتوں کے ٹائٹل کے ساتھ اقتدار میں آ جاتے ہیں۔

 یہی صورتحال سینیٹ کے اراکان کے بارے میں ہے جو کہ ہر مرتبہ سینیٹر بننے کیلئے نئی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں اور اس کا ٹکٹ لے کر سینیٹ کے ممبر بن جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی کوئی نظریاتی سمت یا کسی پارٹی کے ساتھ وابستگی نہیں ہوتی ہے اور یہ محض سرمایہ کے زور پر ٹکٹیں حاصل کرتے اور سینیٹر بن جاتے ہیں۔ حالیہ سینیٹ میں چیئر مین کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی وجہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن جمعیت علماء اسلام سینیٹر کی قلا بازی ہے۔ جنہوں نے 64ارکان میں شامل ہو کر اس تحریک کی حمایت کی لیکن چند ہی منٹوں بعد سارا منظر تبدیل ہو گیا۔

یہ  سانحہ ہر سیاسی پارٹی کیلئے یہ بہت بڑا لمحہ فکر یہ ہے۔ پارٹی کے مختلف انتخابات کے دوران اپنے سیاسی کارکنوں کو نظر انداز کر کے دوسرے مالدار لوگوں کو ٹکٹ جاری کر دیتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایسے ہی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بہر صورت اس انتخاب میں اپوزیشن کو بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ پیپلز پارٹی ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کی سیٹ کو بچانے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے پیچھے کیا کہانی ہے اس کے بارے میں سر دست کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ سینیٹ میں چیئر مین کی تبدیلی سے عوام کو کچھ فرق نہیں پڑنا تھا اور نہ ہی ان کے حالت زار تبدیل ہونی تھی۔محض یہ اپوزیشن اور حکومت کیلئے ایک پوائنٹ سکورنگ کا مسئلہ تھا کہ کس طرح ایک دوسرے کو سیاسی طور پر نیچا دکھایا جا سکے۔بہر صورت یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ایک سیاسی کارکن کے ناطے سے میں سمجھتا ہوں ہماری اپوزیشن اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملک میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔   اس تحریک عدم اعتماد کے نتیجہ میں آنے والا فیصلہ انتہائی معنی خیز ہے کہ کس طرح مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے کس نے منصوبہ بندی کی اور ظاہری طور پر اکثریت میں نظر آنے والی اپوزیشن اقلیت میں تبدیل ہو گئی۔

سینیٹ میں محاذ آرائی کا سلسلہ  تو ختم ہؤا لیکن ملک کے اصل مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ملک میں غربت تعلیم، صحت، بے روز گاری، اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام پریشان ہیں۔ حکومت صرف احتساب کے ذریعے ملک کے معاشی معاملات کو حل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔جبکہ اپوزیشن کا نقطہ نظر اس سے جدا ہے۔وہ سمجھتی ہے کہ معیشت کا پہہ چلائے بغیر ان مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔پاکستان میں  عقل مند لوگ بھی موجود ہیں مگر ان کو میڈیا میں مناسب پذیرائی نہیں ملتی ہے اور ان کی سفارشات پر کوئی غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ یہ وہ ملک کے چند ایک بائیں بازو کے اور تھینک ٹینکس ہیں جو کہ سائنسی حوالے سے سوچتے ہیں ان کے نزدیک جمہوریت اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جبکہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے۔مگر بد قسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کی نمائندگی کرنے والے بیشتر افراد کا تعلق جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقات سے ہے جو کہ روایتی طور پر عوام کے مسائل کے حل کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔

 ان طبقات کے قیام پاکستان سے بعد سے بر سر اقتدار رہنے کے باوجود ملک میں صنعتی ترقی زوال پذیر ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی معیشت ہمیشہ سے پسماندہ ترقی پذیر ممالک کے تقاضوں کے مطابق پیچھے رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل صنعتی ترقی کی شرح گرتی جا رہی ہے۔ مینو فیکچرنگ شعبے کی کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی ہے۔ معیشت تیزی سے سکڑ رہی ہے۔پاکستان میں ڈی انڈسٹری لائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ایف بی آر کے چیئر مین شبر زیدی کے بقول پاکستان میں مینو فیکچر نگ کی ترقی کو ترجیح دینے کی بجائے تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس  ٹریڈنگ، پیکنگ، انشورنس، موبائل کمپنیاں، درآمدات اور ان کی پیکنگ اور ٹریڈنگ کے ذریعے سیل کرنا شامل ہے۔ جس سے منافع تو ملتا ہے مگر حقیقی سرمایہ تشکیل نہیں پا سکتا۔ جس کو صنعتوں میں لگانے سے جدیت کا عمل تکمیل میں آئے اور ہماری مصنوعات ویلیو ایڈیٹ ہونے سے برآمدات میں اضافہ کا باعث بن سکیں۔

 یاد رہے کہ دنیا میں تمام ممالک  نے برآمدات کے ذریعے ترقی کی ہے جبکہ پاکستان میں یہ عمل تنزل پذیر ہے۔ سی پیک اور چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کا عمل کو سست ہو چکا ہے جبکہ چینی مصنوعات کی آمد سے بڑے پیمانے پر پاکستانی صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ ملک میں درمیانے اور چھوٹے طبقے کی صنعتیں اور کاروبار سے سب سے زیادہ دو چار ہیں۔ مہنگائی سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہوئی ہے۔  غریب طبقات کی قوت خرید کم ہونے سے چھوٹی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں کیونکہ ان کو مالیاتی اداروں سے قرضہ جات کی سہولت نہیں حاصل ہوتی۔ جس کیلئے پراپرٹی اور دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔  جب مارکیٹ میں گاہک ہی نہیں ہوں گے  تو ان کو کس طرح بلوں کی ادائیگی ہو سکے گی لہذا ان کی وصولیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سیکٹر انتہائی پریشان ہے۔ دوسری طرف ان پر ایف بی آر کی طرف سے فائلر بننے کا دباؤ بھی ہے جس کیلئے ٹیئر ون اور ٹیئر ٹو کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔دکاندار اور کسٹمر دونوں ہی خریداری کے وقت شناختی کار نہیں دینا چاہتے۔ اس حوالے سے ملک کے تجارتی حلقے دوبارہ ہڑتال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

پاکستان کا معاشی بحران  زیادہ قرضے لینے اور ان کے استعمال میں بد انتظامی  کی وجہ سے ہے۔ فری مارکیٹ اکانومی کے تحت ضرورت سے زیادہ درآمدات نے ہماری مقامی صنعتوں اور کاروبار کر متاثر کیا ہے۔ دوسرے ملک کے بعض طبقات ٹیکس دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بظاہر  پاکستان کا ہر شہری بلاوسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہے مگر وہ شائد سرکاری خزانے میں نہیں پہنچ پا رہا۔  یاد رہے کہ ٹیکس کسی ریاست کو چلانے کیلئے انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس سے ریاستی اخراجات پورے کیے جاتے ہیں اور کم وصولی کی شکل میں ان کو قرضوں سے پوراکیا جاتا ہے۔  اس طرح پاکستان میں ٹیکسوں کی عدم وصولی کے حوالے سے بھی بحرانی کیفیت موجود ہے۔

عالمی معاشی بحران اور ترقی یافتہ ممالک میں قوت خرید میں کمی کے باعث ڈیمانڈ کی کمی کے پاکستانی برآمدات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان اکنامیکل ویو کے مطابق جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ کم ہو کر 13%آ پہنچا ہے۔ جس میں کمی کا رجحان گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے۔ آئندہ مالی سال میں یہ 11%سے گر جائے گی۔ صنعتی شعبے کی پیدا واری قیمت ڈالر کی قیمت بڑھنے سے انتہائی زیادہ ہو گئی ہے جس سے تیاری کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے۔ یاد رہے کہ پبلک سیکٹر میں ملکی صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔ اگر عمران خان پچاس لاکھ  مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کے کو عملی شکل دیتے ہیں تو اس سے یقینا تعمیراتی سامان تیار کرنے والی صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ عوام کو روز گار بھی میسر ہو گا۔

یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں جب بھی صنعتی ترقی کی بات ہوتی ہے تو مقامی سرمایہ دار ٹیکس میں رعایت یا سبسڈیاں لینے پہنچ جاتے ہیں۔ ہر حکومت ان کے مفادات کی نگہداشت کرتی ہے۔ انہیں  نوازا جاتا ہے۔ ہر نئی حکومت سے قرضے معاف کروائے جاتے ہیں۔ مہنگی بجلی کا رونا رویاجاتا ہے جبکہ بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔آج بھی ہم ایسی صورتحال سے دو چار ہیں پیپلز پارٹی کے حامی بلاول کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کوئی رائے ونڈ کی طرف دیکھ رہا ہے اور کوئی بنی گالا کو خوش کرنے کے جتن کر رہا ہے۔ کوئی وشنگٹن کی نظروں میں جگہ پانے کیلئے امریکہ جا پہنچتا ہے۔ کوئی فضل الرحمان کی طرح سٹریٹ پاور استعمال کر کے حکومت کو گرانا چاہتا ہے۔

مولانا کو پہلی ناکامی سینیٹ کے چیئر مین کو ہٹانے میں ہوئی ہے۔ہر طرف انتشار کا عالم ہے معیشت کو سدھارنے کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔ ہمارے حکمرانوں کو سیاسی انتشار کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

loading...