سٹاپ پریس: ہیرالڈ کی یاد میں

انگریزی جریدے ہیرالڈ نے جولائی کے مہینے میں اپنی بندش کا اعلان کیا تو گویا انگریزی صحافت کے ایک پورے عہد کا اختتام ہوگیا۔ایک ایسا جریدہ جس نے پاکستان میں تحقیقاتی صحافت کو ایک نئی جہت دی۔ جس نے تجزیاتی رپورٹوں میں ایک نیا معیار قائم کیا اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر اس شان و شوکت کے ساتھ50سال کاسفر طے کیا کہ آج بھی سب اس پررشک کرتے ہیں۔

ڈان گروپ کے زیراہتمام اس جریدے کی اشاعت 1969ایک شوبز میگزین کی صورت میں ہوئی۔جواپنے ابتدائی دور میں فلم، ریڈیو اورٹی وی سے متعلق سرگرمیوں ،تبصروں اور تجزیوں تک محدود رہا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں مختلف انگریزی جرائد کی اشاعت شروع ہورہی تھی۔اسی زمانے میں کراچی سے خواتین کے لیے ” شی میگزین“ کا اجرا ہوا ۔یہی وہ زمانہ تھا جب کرکٹر نے اپنی اشاعت شروع کی ۔ اسی زمانے میں آﺅٹ لک بھی شائع ہوتا تھا اور اسی عہد میں

 ہیرالڈ نے اپنی اشاعت شروع کی۔ ہیرالڈ سے پہلے 60 کے عشرے میں السٹریٹڈ ویکلی نامی ایک

 جریدہ  تھا جو ایوب خان کے عتاب کے نتیجے میں اپنی اشاعت جاری نہ رکھ سکا۔ ہیرالڈ دراصل اس جریدے کی بندش سے پیدا ہونے والے خلا کو پرکرنے آیا۔ اور اسی لیے اس نے اپنی ابتدا ایک فلم میگزین کی حیثیت سے کی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں سیاسی جواربھاٹہ بھی اپنے عروج پر تھا۔ایوب خان کے زوال کے بعد سیاسی قوتیں متحرک ہورہی تھیں۔اس صورتحال میں فلم میگزین کے طورپر اپنے سفر کا آغاز کرنے والا ہیرالڈ خود کو سیاست سے الگ نہ رکھ سکا اور پھر چند برسوں کے دوران ہی اس جریدے کی پہچان سیاست ہی ٹھہری۔حالات حاضرہ کے حوالے سے ہیرالڈ کاشمارپاکستان کے معتبر ترین جرائد میں ہوتا تھا۔کیسے کیسے نام تھے جو اس ادارے سے منسلک رہے ہیں۔رضیہ بھٹی ، شیری رحمان، ادریس بختیار، حنیف ثاقب، عامر احمد خان اور محمد بدرعالم جیسی نامور شخصیات نے ہیرالڈ کے مدیر کے طورپر خدمات انجام دیں اور اس جریدے کا معیار بین الاقوامی جرائد کی سطح پرلے آئے۔رپورٹنگ ٹیم میں ظفرعباس، محمد حنیف، ضیغم خان، عباس ناصر جیسے نامور صحافی اس ادارے کے ساتھ منسلک رہے۔

ہیرالڈ کو ہیرالڈ بنانے میں رضیہ بھٹی جیسی شخصیت کا کردار کسی صورت نظراندازنہیں کیا جاسکتا ۔ رضیہ بھٹی کااصل نام رضیہ بوندرے تھا اور وہ نامورصحافی اور کرکٹر کے ایڈیٹر گل حمید بھٹی سے شادی کے بعد رضیہ بھٹی کے نام سے پہچانی گئیں۔انہوں نے کسی بھی دباﺅ یا لالچ سے متاثر ہوئے بغیر صحافتی فرائض انجام دیئے ۔ درحقیقت ایسی ہی ہستیوں نے صحافت کو عوام کی آواز بنادیا۔ رضیہ بھٹی ضیا دور میں اندرون سندھ ایم آرڈی کی تحریک کے دوران ہونے والے قتل عام کی کہانی پہلی بار منظرعام پر لائیں۔ یہ سٹوری انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گئی۔ لیکن اس کے بعد ان پر دباﺅ بھی بڑھ گیا۔

ہیرالڈ کی ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کے لیے سب سے مشکل لمحہ وہ آیا جب ڈان گروپ کے چیئرمین محمود اے ہارون کی جانب سے ان پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ ہیرالڈ کی ٹائٹل سٹوری تبدیل کردیں۔یہ ضیاءالحق کے دور کا آخری زمانہ تھا اور اس زمانے میں محمود اے ہارون ضیاءالحق کے وزیردفاع کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ رضیہ بھٹی نے محمود اے ہارون کے احکامات تسلیم کرنے کی بجائے ہیرالڈ کی ادارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

اورجب رضیہ بھٹی نے ہیرالڈ سے علیحدگی اختیار کی تو ان کے ساتھیوں نے بھی ان کے ساتھ ہی اس جریدے کو خیرباد کہہ دیا۔ان کے ساتھ استعفی دینے والوں میں ثمینہ ابراہیم اور ریحانہ حکیم کے نام قابل ذکر ہیں۔ رضیہ بھٹی کے سامنے اب دو ہی راستے تھے یا تو وہ گھر بیٹھ جاتیں یا کسی اور ادارے سے منسلک ہوکر کسی اور دباﺅ کاسامنا کرتیں لیکن انہوں نے جولائی1989میں اپنی مدد آپ کے تحت ” نیوز لائن“ کے اجرا کا فیصلہ کیا۔یہ ویسا ہی تجربہ تھا جیسا کسی زمانے میں جنگ سے الگ ہونے والے صحافیوں کی ٹیم نے کیاتھا اور انہوں نے جنگ سے الگ ہونے کے بعد امن کے نام سے اخبارکا اجرا کیا جس کی پیشانی پر لکھا تھا ” ہمارا نعرہ ، جنگ سے نفرت ، امن سے محبت “۔ رضیہ بھٹی نے بھی نیوزلائن شائع کرکے گویا ممولے کو شہباز سے لڑادیااور وہ ممولا کچھ اس طرح سے لڑا کہ اس کی پرواز آج بھی جاری ہے۔ ہیرالڈ تو بند ہوگیا لیکن نیوزلائن کی اشاعت آج بھی جاری ہے۔ ہیرالڈ کی طرح نیوزلائن نے بھی تحقیقاتی صحافت میں ایک معیارقائم کیا اوراس کے کئی یادگار شمارے صحافت میں دستاویزی اہمیت کے حامل ہیں۔

واپس ہیرالڈ کی جانب آتے ہیں۔ 80 اور 90 کے عشرے میں ہیرالڈ نے کئی یادگار نمبر شائع کیے۔اس زمانے میں اس جریدے کا ہرشمارہ واقعی خاص شمارہ ہوتاتھا۔ ہیرالڈ کا سالنامہ بھی خاصے کی چیز ہوتاتھا جس میں نہ صرف یہ کہ سال بھر کے سیاسی، سماجی ،معاشی اور ادبی منظرنامے کاعکس ہوتاتھا بلکہ اس میں سال کے دوران شروع اور ختم ہونے والے رجحانات کا تذکرہ بھی موجودہوتاتھا۔ سال بھر کی فلموں اور موسیقی کا احوال بیان کیاجاتاتھا۔ سال بھر میں پاکستان کی پہچان بننے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتاتھا اور رخصت ہونے والوں کاتذکرہ بھی اس خاص شمارے میں موجودہوتاتھا۔

اسی طرح عام انتخابات کے موقع پر ہیرالڈ نے جوخصوصی شمارے شائع کیے وہ بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔گزشتہ انتخابات کا ریکارڈ ،ممکنہ نتائج کی جھلک ، پارٹیوں کی اندرونی کہانیاں ، صوبوں میں ہونےوالی کھینچاتانی اور الیکشن پر اثراندازہونےوالی قوتوں کی پس پردہ سازشیں یہ سب ان خصوصی اشاعتوں کی اہمیت میں اضافہ کردیتی تھیں ۔اس زمانے میں ہم جیسے نوآموز صحافیوں کے لیے ہیرالڈ کامطالعہ بہت ضروری ہوتاتھا کہ اس کے ذریعے ہمیں ایسی بہت سی اندرونی کہانیوں اور سازشوں کا علم ہوجاتاتھا جن کی اشاعت اردو اخبارات اورجرائد کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔

اس جریدے کی گرافکس ڈیزائننگ بھی کمال ہوتی تھی۔ یوسف لودھی (وائی ایل) اور فیقا جیسے کارٹونسٹ اس ادارے کے ساتھ منسلک تھے۔سیاسیتدانوں ،کھلاڑیوں اور دیگر شخصیات کے کیری کیچر (خاکے)رسالے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے۔

ہیرالڈ ایک ایسے موسم میں بند ہوا جب صحافت مجموعی زوال کاشکارہے۔ پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک اور الیکٹرانک سے ڈیجیٹل میڈیا تک کاسفر اتنی تیزی سے طے کیاگیا کہ کارکن صحافیوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔کچھ ادارے بند کردیئے گئے ۔ کچھ پرنٹنگ اسٹیشنوں میں تبدیل ہوئے اور باقیوں نے ڈاﺅن سائزنگ کے نام پر صحافیوں کو بے روزگار کردیا۔

ایسے میں ہیرالڈ کے آخری شمارے کا سرورق ” سٹاپ پریس“ بھی بہت معنی خیز ہے۔ سرورق میں ضیاءالحق کی شکل کا ایک شخص ہیرالڈ کامطالعہ کررہاہے۔سرورق کی اس تصویر کے ذریعے قارئین کو کیا پیغام دیاگیا اس پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ لیکن ایک سوال تو بہرحال سامنے آتا ہے کہ وہ رسالہ جو ضیاءالحق اور مشرف کی آمریت کابھی مقابلہ کرتا رہا آخر جمہوری دور میں کیوں دم توڑگیا۔ کہیں یہ ڈان لیکس کا انجام تو نہیں؟

 

loading...