آرمی چیف جنرل باجوہ کی ممکنہ توسیع سے کون متاثر ہوگا؟

  • جمعرات 01 / اگست / 2019
  • 1230

مقتدر حلقوں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ چکی ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ نومبر میں آرمی چیف کو مزید تین سال کی توسیع ملنے کے امکانات ہیں۔

تاہم سرکاری طور پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اور وزیراعظم ہاؤس سے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔ اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق فوج پر آرمی چیف کی توسیع سے کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ ترقی پانے والی فہرست میں پہلے چار جرنیل ہی اس توسیع سے متاثر ہوں گے۔

سینارٹی کے مطابق فہرست میں پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار ہیں جو اس وقت سٹریٹجک کمانڈ ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور بھارت میں بطور ملٹری اتاشی کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔  دوسرے نمبر پر نہایت ہی اہم عہدے پر فائز موجودہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا ہیں۔ اس سے قبل وہ کمانڈر ٹین کور راولپنڈی بھی رہ چکے ہیں۔ تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کور کمانڈر کراچی اور  چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف کور کمانڈر ملتان ہیں۔

اعلیٰ عسکری ذرائع  کے مطابق پہلے چار جرنیلوں میں سے ایک تو چئیرمین جوائنٹ چیف بن جائیں گے جبکہ باقی تین جنرلز فوج کے کلچر کے مطابق یا تو قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لیں گے یا اپنی مرضی کے مطابق اپنی ٹرم پوری کریں گے۔ البتہ فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینا اصولی طور پر درست نہیں ہوگا۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے انڈی پینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل باجوہ کی توسیع سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے جنرل کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جا سکتا ہے لیکن اُس کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں آرمی چیف ایک بااثر عہدہ ہے اور جو آفیسر آرمی چیف بن سکتا تھا لیکن اُس کو وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جائے تو اس کے اندر کچھ کھونے کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔‘ ’اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ آرمی چیف اُن کے لیے فائدہ مند ہیں تو ایسا بھی تو ممکن ہے کہ آئندہ آنے والا آرمی چیف مزید باصلاحیت ہو۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے مزید کہا: ’یہ بھی ممکن ہے ایک آرمی چیف نے تین سال اچھا کام کیا ہو اور جب وہ باعزت ریٹائر ہونا چاہے تو اُس کو توسیع دے دی جائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اگلے تین سال بھی حکومت کے لیے سود مند رہے گا؟ توسیع سے جو عزت بنی ہوئی ہے ہو سکتا ہے وہ بھی متاثر ہو یا سیاسی چھاپ لگ جائے اس لیے سسٹم کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔‘

 انہوں نے کہا کہ توسیع دینا اصولی طور پر درست نہیں ہے۔ ’ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہئیں۔ اس سے ملک اور ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ فوج میں ایک میرٹ کا سسٹم ہے اُس کو چلتے رہنا چاہیے۔‘

اسی طرح لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ ربانی نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو کہیں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس کے نقصانات ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق: ’توسیع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آرمی چیف سے نیچے جو لوگ ہیں اُن کو اتنا اہل نہیں سمجھا جا رہا کہ وہ اس عہدے کی ذمہ داری لے سکیں  اور اس لیے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس سے ’تاثر یہ ابھر سکتا ہے کہ فوج کا ادارہ چار پانچ جنرلز کی ٹریننگ بھی نہیں کر سکا کہ وہ فوج کے سربراہ بن سکیں۔‘

تاہم لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ ربانی نے مزید کہا کہ قبل ازوقت پر آرمی چیف کی توسیع پر ایشو بنانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے موجودہ آرمی چیف اور نیچے والوں پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔

پرویز مشرف کے سابق فوجی ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے انڈی پنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں نہیں لگتا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مدت ملازمت میں توسیع لیں گے۔ انہوں نے کہا:’فوج میں قواعد ضوابط کے تحت مدت ملازمت طے کی گئی ہے اس لیے وہ سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ یا تو مدت طے ہی نہ کی جائے۔ لیکن جب ایک اصول بنایا جائے تو اُس پر سب کو عمل کرنا چاہیے۔‘

اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی پاک فوج میں آرمی چیفس کی توسیع ہو چکی ہے اور اُن میں متاثر ہونے والے ایک جرنل کو ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا جاتا ہے جسے وائس چیف آف آرمی سٹاف بھی کہا جاتا ہے۔

 وائس چیف آف آرمی سٹاف بھی فور سٹار جنرل ہوتا ہےاور آ رمی چیف کو رپورٹ کرتا ہے اور آرمی چیف کی غیر موجودگی میں قائم مقام بھی ہوتا ہے۔ ماضی میں جنرل مشرف کے دور میں جنرل یوسف خان کو وائس چیف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا اور جنرل مشرف کی دوبارہ توسیع کے وقت جنرل احسن سلیم حیات کو وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ جنرل ضیا کے دور حکومت میں بھی جنرل سوار خان اور اُن کے بعد جنرل خالد محمود عارف کو وائس چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دی گئی تو انہوں نے وائس چیف آف آرمی سٹاف کسی کو تعینات نہیں کیا اور یوں اُن کی مدت ملازمت میں توسیع کے باعث آرمی چیف کے عہدے پر ممکنہ ترقی پانے والے جنرلز ریٹائر ہو گئے۔

پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت اورمارشل لا ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آرمی چیف کے عہدے کی مدت تین سال ہوتی ہے، لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سے جنرل ضیا الحق تقریباً 12 سال آرمی چیف اور ملک کے سربراہ رہے۔ اُن کے بعد آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے نو سال آرمی چیف کا عہدہ اپنے پاس رکھا۔ جنرل مشرف کے بعد 2007 میں بننے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے مدت ملازمت میں توسیع دی اور وہ 2013 میں ریٹائر ہوئے۔ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تو وہ توسیع لینے والے چوتھے آرمی چیف ہوں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چئیرمین جوائنٹ چیفس جنرل زبیر محمود حیات 29 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوں گے۔ دو فور سٹار جنرلز سمیت آٹھ لیفٹیننٹ جنرلز رواں سال ریٹائر ہو رہے ہیں۔ پانچ لیفٹیننٹ جنرل اپریل کے مہینے میں ریٹائر  ہوئے جبکہ تین ستمبر اور اکتوبر میں ریٹائر ہوں گے۔ 

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ممکنہ توسیع کے باعث ریٹائر ہونے والی فہرست میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات 20 اپریل، لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا 24 اپریل، لیفٹیننٹ جنرل ملک ظفر اقبال اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید بخاری 27 اپریل، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر 30 اپریل کو ریٹائر ہوئے۔

 کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ 22 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے۔ لیفٹینیٹ جنرل عامر ریاض جو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں 4 اکتوبر جبکہ لیفٹیننٹ جنرل صادق علی چئیرمین آرڈینینس فیکٹری 5 اکتوبر کو ریٹائر ہوں گے۔

نومبر 2022 میں جب آئندہ کے آرمی چیف کی فہرست مرتب کی جائے گی تو فہرست پر آنے والے پہلے چار ناموں میں لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا پہلے نمبر پہ ہوں گے جو ابھی جی ایچ کیو میں تعینات ہیں۔ دوسرے نمبر پہ لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس ہیں جو ڈی جی جوائنٹ سٹاف تعینات ہیں۔ تیسرے نمبر پہ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود ہیں جب کہ چوتھے نمبر پہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہیں۔

(رپورٹ: مونا خان ۔ انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...