ناروے میں پاکستانیوں کے پچاس سال: تہی دستی سے کامیابی و خوشحالی کا سفر

انسانی تایخ پہ نظر دوڑائیں تو یہ نظر آتاہے کہ انسان اپنے ابتدائی دور سے ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا ہے۔ اور اس نقل مکانی کی بہت سی وجوہات رہی ہیں۔ جن میں معاشی وجوہات نمایاں ہیں۔

بعض اوقات لوگ جبری منتقل کئے گئے۔ کبھی سزا کے طور پہ انہیں دور  بھیجا گیا۔ اور کبھی مقامی حالات سے تنگ آ کے خود ہی دوسرے علاقوں کی جانب ہجرت کر گئے۔ اس نقل مکانی کی وجہ کوئی بھی  ہو یہ انسان کے لئے بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ نئے اختیار  کردہ علاقے میں حالات سے ہم آہنگ ہونا، زبان و ثقافت کے مسائل سے نمٹنا اور معاشرے میں ضم ہونا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسی طرح یہ نقل مکانی نئے معاشرے کے لیئے بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ناروے میں ہجرت کر کے آنے والے پاکستانیوں کا ہے۔ جنہوں نے آج سے پچاس سال پہلے بسلسلہ روزگار ہجرت کی۔

نارویجن ادارہ شماریات کے مطابق یکم جنوری 2019 کو ناروے میں  38000 پاکستانی آباد تھے۔ ان میں 20674 افراد  وہ ہیں  جو نقل مکانی کر کے ناروے آئے۔ جبکہ 17326افراد  یہاں پیدا ہوئے۔ 

ناروے میں پاکستانیوں کی آبادکاری ایک دلچسپ کہانی ہے۔  جسے اگر کامیابیوں کی کہانی جائے تو  مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ یہاں پاکستانیوں کی آمد 1967 میں شروع ہوئی۔ یہ وہی سال تھا جب ناروے کو فلاحی مملکت قرار دیا گیا۔ اس سال 14پاکستانی ٹورسٹ ویزے پہ ناروے آئے۔ پاکستانیوں کا پہلا گروپ تھا۔ اس کے بعد 1968 میں کچھ لوگ بس کے ذریعے بھی آئے۔ یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 1971 میں 335 افراد تک جا پہنچی۔  اس وقت ناویجن میڈیا نے اسے غیر ملکیوں کی دھماکہ خیز آمد سے تعبیر کیا اور کہاکہ نارویجن سرحدوں پہ ان غیر ملکیوں کی آمد کی وجہ سے بہت پریشر ہے۔  

اس وقت سرحدوں پہ اتنا کنٹرول نہیں ہوتا تھا۔ لوگ ناروے داخل ہوکے کام تلاش کرتے اور کام ملنے کی صورت میں انھیں ویزا دے دیا جاتا۔  لیکن پاکستانیوں کے آنے کے بعد قانون تبدیل ہو گیا۔اور پھر کنٹرول سخت سے سخت ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ 1975ء میں روزگار کے سلسلے میں ناروے آنے پہ پابندی لگ گئی۔  اس کے بعد ناروے آنے کے دو ہی راستے بچے یعنی سیاسی پناہ اور دوسرے فیملی ویزا۔  اس کے بعد جتنے پاکستانی ناروے آئے وہ انہی دو بنیادوں کی بنا پہ آئے۔

لیکن ادرہ شماریات کے مطابق اب پاکستانیوں کی آمد کم  ہو گئی ہے کیونکہ سیاسی پناہ کے قوانین بھی سخت ہیں۔ زیادہ تر لوگ بچوں کی شادیاں بھی ناروے میں ہی کرتے ہیں۔  نارویجن سوشیالوجسٹ آؤد کُوربول نے  1971  سے 1973 تک آنے والے پاکستانیوں  سے اس وقت ملاقاتیں کیں۔ اور ایک رپورٹ لکھی۔ اس رپورٹ میں کچھ مواد ایسا تھا جو اس وقت  کے ارباب اختیار کے مطابق نہیں چھاپا جانا چاہئے تھا۔ اس لئے وہ رپورٹ دراز میں پڑی رہی۔  گزشتہ سال ایک اور سوشیالوجسٹ آرن فٍن متبو نے آؤد کُوربول کے ساتھ مل کے وہ رپورٹ کچھ ترامیم کے ساتھ کتابی شکل میں شائع کی ہے۔ کتاب کا نام ہے 

یعنی مشکل مرحلہ ۔ پاکستان سے ناروے نقل مکانی 1970-1973« den kritiske fase, innvandring til norge fra Pakistan 1970-1973» 

آؤد کُوربول نے اس کتاب میں اس وقت پاکستانیوں کے حالات لکھے ہیں۔ اور وہ ان حالات سے مکمل طور پہ مختلف ہیں۔ جو ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں۔ کہ ان پاکستانیوں کا کھلے بازوؤں سے استقبال کیا گیا۔ جبکہ آؤد کُوربول کے بقول ایسا نہیں تھا۔

اُنہیں نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ کام کے حساب سے اُجرت کم ملتی تھی۔ ان کا رہائشی ماحول پراگندہ تھا۔ جاب سے اور پھر ملک سے نکالے جانے کا خوف ہر وقت سر پہ مُسلط رہتا۔ وہ دو دو یا تین  تین شفٹوں میں کام کرتے۔ آجر ان کی مجبوری سے فائدہ اُٹھاتے۔ لیکن پھر آہستہ ان کے پاؤں جمنا شروع ہو گئے۔ بہت سے لوگوں نے اپنی فیملیاں بُلا لیں۔  لیکن کام کاج زیادہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی اولاد پہ وہ توجہ نہ دے سکے۔ اور دوسری وجہ زبان تھی۔ بہت کم لوگوں کو زبان آتی تھی۔ ایک وقت تھا کی پاکستانی نوجوان ناروے میں اسمگلنگ اور جرئام پیشہ جتھوں کے لئے مشہور تھے۔ فائرنگ، قتل اور دوسرے جرائم میں بہت سے پاکستانی ملوث پائے گئے۔  پاکستانیوں نے فراڈ بھی بہت کئے۔ ایک غالب اکثریت ان بُرائیوں سے دور تھی لیکن میڈیا میں ہمیشہ پاکستانیوں کی منفی تصویر سامنے آتی۔  پھر آہستہ آہستہ حالات نے پلٹا کھایا۔ کمیونٹی کے کچھ افراد، والدین اور حکام کی کوششیں رنگ لائیں۔ اور پاکستانی نوجوانوں نے بندوق اور منشیات ترک کر دیں۔ اور قلم اور کتاب سے رشتہ جوڑ لیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ 

 ناویجن ادارہ شماریات کے مطابق تقریباً 85 فی صد پاکستانیوں کے پاس اپنا گھر ہے۔  اور یہ تعداد نارویجنوں کے برابر ہے۔  زیادہ تر پاکستانی اوسلو اور اس کے نواح میں رہتے ہیں۔ لیکن ایک قابل ذکر تعداد دوسرے شہروں میں بھی آباد ہے۔  ملازمتوں کے حوالے سے بھی پاکستانی بہت آگے ہیں۔  اس وقت 22 سے  66 سال کی عمر کے 70 فی صد مرد جاب کرتے ہیں۔  جو نارویجن آبادی سے صرف7 فی صد کم ہے۔  پہلی نسل کی عورتوں میں ملازمت کا تناسب بہت کم ہے۔جبکہ یہاں پیدا ہونے والی خواتین میں یہ تعداد 60 فی صد ہے۔ 2010  میں  ہینرکسن اور لانگسیت کے شائع کردہ جائزے کے مطابق ناروے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان پاکستانی خواتین کی تعداد  چالیس فی صد اور مردوں کی تیس فی صد تھی۔ جو مقامی نارویجن آبادی سے زیادہ ہے۔ نوسال بعد اب یہ تعداد یقیناً زیادہ ہو چُکی ہو گی۔ پاکستانی نوجوان زیادہ تر میڈیسین، قانون، معاشیات اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

مختلف جائزوں کے مطابق پاکستانی اپنے آپ کو نارویجن مسلمان کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔  وہ اسلام فوبیا کے باوجود اپنی نارویجن اور اسلامی شناخت  پہ شرمندہ نہیں ہوتے۔  بلکہ جائزے کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ یہ چیز ان کی ناروجن شناخت کو اور زیادہ مضبوط بناتی ہے۔  میڈیا میں ان کےبارے میں منفی پروپیگنڈا بھی ان کی اس سوچ پہ اثر انداز نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب انفرادی فعل ہیں۔ جبکہ نارویجن معاشرہ بحیثیت مجموعی ایسا نہیں۔ گزشتہ سال کے ایک جائزے کے مطابق ملازمت کے امیدواروں میں غیر ملکی نام والوں کو انٹرویو پہ بلانے کا چانس نارویجنوں کی نسبت 25 فیصد کم ہوتا ہے۔ لیکن یہ  مسئلہ صرف پاکستانیوں کو نہیں۔ خوشی کی ایک  بات یہ ہے  نارویجن سراغرساں ایجنسی پی ایس ٹی کے مطابق پاکستانیوں میں مذہبی انتہا پسندی بہت کم ہے۔ 

ناروے میں اس وقت پاکستانی زندگی کے ہر شعبے میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ سیاست، قانون، صحافت،  معیشت ، معاشرت، ثقافت، ادب، کھیل ، تجارت ہر شعبے میں پاکستانی نمایاں ہیں۔

 سیاست میں اس وقت تمام غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ نمائندگی پاکستانیوں کی ہے۔ اخترچودہری قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہ چُکے ہیں۔ اس وقت عابد راجہ بھی اسی پوزیشن پہ ہیں۔ لیبر پارٹی کی مرکزی نائب صدر ہادیہ تاجک وزیر ثقافت رہ چُکی ہیں۔ اور کچھ لوگ انہیں لیبر پارٹی کی مستقبل کی سربراہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی بنا پر سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ وزیر اعظم بن سکیں گی۔

 آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے ایک پاکستانی نژاد سعیدہ بیگم کو اوسلو کی میئرشپ کے لیئے نامزد کیا ہے اور اُن کے جیتنے کے امکانات بھی ہیں۔ پچھلی دفعہ ایک اور پارٹی نے شعیب سلطان صاحب نامزد کیا تھا۔ شہباز طارق، ڈاکٹر مبشر بنارس ، خالد محمود، اطہر علی، طلعت بٹ اور عامر شیخ نارویجن سیاست میں نمایاں ہیں۔

نارویجن سیاست ، پاکستانیوں کی ہجرت اور ترقی کی کہانی اسلم احسن  کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ پچھلے دنوں بی بی سی نےان پہ فلم بھی بنائی تھی۔ انہوں نے ناروے آتے وقت جو جوتے پہنے ہوئے تھے وہ عجائب گھر میں رکھے گئے ہیں۔ اسلم احسن کو اُن کی خدمات کے صلے میں متعدد انعامات بھی مل چُکے ہیں۔ یہاں سید مجاہد علی، قذافی زمان ، نعمان مبشر، عطا انصاری اور ماہ رخ علی جیسے ہیوی ویٹ صحافی  اور ادیب موجود ہیں۔ مسعود منور، جمشید مسرور، خالد تھتھال اور فیصل ہاشمی جیسے شاعر اور ادیب یہاں رہتے ہیں۔ اولرک امتیاز جیسے فلم میکر ہیں۔  ڈاکٹر وسیم زاہد ، ڈاکٹر فرخ چوہدری، ڈاکٹر بشریٰ اسحاق، ڈاکٹر عثمان رانا اور بے شمار دوسرے ڈاکٹرز ہیں۔ بلکہ یہ کہا جاتا ہے۔ کہ اب بہت کم گھر ایسے ہیں۔ جہاں کوئی ڈاکٹر نہیں۔ ورنہ ایک نہ ایک ڈاکٹر ضرور ہے۔ ڈاکٹر خالد سعید  اور ڈاکٹر شاہنواز  کیمسٹری کے پروفیسر ہیں۔ تدریس کے شعبے میں کئی اور بھی پاکستانی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ٹیکسی کے کاروبار پہ پاکستانیوں کا غلبہ ہے۔ یہی حال ریسٹورنٹ برانچ میں ہے۔ آج جرائم میں پاکستانیوں کی نمائندگی بہت کم ہو چُکی ہے۔ 

الغرض نارویجن پاکستانی صفر سے شروع کر کے بلندی تک جانے کی ایک بہترین اور قابل فخر مثال ہیں۔  وہ جنہوں نے چند پُرانے اور بوسیدہ مکانوں اور سستے ترین کاموں سے اپنا سفر شروع کیا وہ آج نارویجن معاشرے میں مکمل طور پہ ضم ہو چُکے ہیں۔ وہ اپنی اسلامی شناخت بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ نارویجن معاشرے میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور اپنے آبائی وطن سےبھی ناطہ جوڑے ہوئے ہیں۔

ناروے میں پاکستانیوں کی ترقی اور مقامی معاشرے سے ہم آہنگ ہونے میں مختلف پاکستانی تنظیموں کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ شروع میں یہ تنظیمیں زبان اور دوسرے مسائل میں مدد  فراہم کرتی تھیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ثقافتی ، ادبی  اور مذہبی معاملات میں  بھی خدمات  سر انجام دینا شروع کر دیں۔  ان تنظیموں کے بعض معاملات پہ تنقید بھی کی جا سکتی ہے لیکن ان کا مثبت کردار اس سے کہیں زیادہ  ہے۔

 کھیلوں میں کرکٹ بورڈ میں سب سے زیادہ پاکستانی ہیں۔ بلکہ ناروے میں کرکٹ کی ترویج کا سہرا بلاشبہ پاکستانیوں کے سر ہے۔ اس وقت نارویجن فٹبال میں بھی پاکستانی آنا شروع ہو گئے ہیں۔

 ناروے میں اردو ریڈیو بھی ہے جو عزیرالرحمان چلاتے ہیں۔ عزیرالرحمان صاحب کمیونٹی کے کاموں میں بھی انتہائی سرگرم رہتے ہیں۔ انہیں بین الثقافتی ہم آہنگی کےلئے کام کرنے کے عوض انعام بھی مل چُکا ہے۔

loading...