نظریاتی ولانگڑے

جتنا کوڑا پاکستان کی سڑکوں اور کچرا کُنڈیوں پر پھینکا جاتا ہے اُس سے کہیں زیادہ سیاسی بحثوں ، کالموں ، پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز میں سیاسی زبانوں سے نکلتا ہے اور گلی کوچوں میں بارش کے پانی سے آئے سیلاب  کی طرح بہتا رہتا ہے  جس کے چھینٹے  ہر  شریکِ  محفل کے کرتے ، شلواریں ، سوٹ اور ٹائیاں آلودہ کر دیتے ہیں ۔

 فارسی کی کہاوت ہے کہ " از کوزہ ہمی بیروں تراود کہ در اوست" کہ برتن سے وہی کچھ باہر نکلتا ہے جو اُس میں ہوتا ہے ۔ ہمارے جوف ہائےسینہ کے برتنوں میں جتنی نفرت ایک دوسرے کے خلاف ہے ، وہ ساری کی ساری دوطرفہ گفتگو کےدھماکے سے پھٹتی رہتی ہے اور پورے قومی ماحول کو متاثر کر دیتی ہے ۔ ان دنوں آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے والوں کے خلاف نیب کی کاروائیاں جاری ہیں اور ایک سیاسی حلقہ اسے لاقانونیت کہے جا رہا ہے ۔ گویا ہم ایک دوسرے کے خلاف لاقانونیت کے مرتکب ہیں ۔ کیا عجیب کیفیت ہے  اور کیسا پر  پیچ معما ہے ۔  مجھے اٹلی کے فاشسٹ حکمران بینیتو مسولینی کی خود نوشت سوانح حیات کا خیال آیا جو مائی رائز اینڈ فال کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہوئی تھی ۔ اُن کی کتاب کے چھٹے باب کا نام ہے :

The death struggle of a worn out democracy.

وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں اس ضمن میں قطعاً کوئی شُبہ نہیں کہ تمام نا اہل اور ناکارہ سیاسی جماعتیں اور جمہوریتیں جب مرتی ہیں تو اُس کا ایک ہی سبب ہوتا ہے کہ اُن میں یکساں  قسم کا خصوصی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے ۔ ہم نے بھی پاکستان میں بہت سی سیاسی جماعتوں اور اُن کی جمہوریتوں کی آخری ہچکیاں سُنی ہیں اور ان میں سے بیشتر سیاسی جماعتیں یعنی مسلم لیگیں  جی ایچ کیو برانڈ رہی ہیں ۔ چنانچہ جب بھی کوئی نیا فوجی آمر آیا تو اُس نے ایک نئی مسلم لیگ کا ڈول ڈالا اور اس طرح چہرے اور شخصیتیں بدل کر  پرانی مسلم لیگ کو نیا خون مہیا کیا ۔

یہ اس قوم کی ستر برس کی تاریخ ہے جو ہر پاکستانی کو از بر ہے جسے دوہرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ القصہ ان جماعتوں کا بنیادی کردار اُسی سیاسی نظریے پر اُستوار ہوتا ہے جسے فاشزم کہا جاتا ہے ۔ اب چونکہ سیاسی دانشور باربار پی ٹی آئی کی حکومت پر  فاشزم کا الزام لگا رہے ہیں تو میرے جیسے طالب علم کو سکول جانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ فاشزم کی کلاس بھی پڑھ لے اور جان لے کہ دانشور کیا کہہ رہے ہیں ۔ مجھے اساتذہ نے بتایا کہ فسطائیت یا فاشزم ایک سیاسی فلسفہ ، تحریک یا حکومت ہوتی ہے جو قوم پرستی یا نسل پرستی  کو فرد کی انفرادی آزادی پر فوقیت دیتی ہے جس میں آمرانہ طرزِ حامل کے حکمران انتہائی  سخت سماجی اور اقتصادی پابندیوں کے نام پر اپنے سیاسی مُخالفوں کو بالجبر دبانے کے حربے اور ہتھکنڈے آزماتے ہیں ۔ اس طرح ایک ایسا سیاسی رویہ رواج پاتا ہے جس میں سخت مطلق العنانی انداز میں سیاسی اقدامات کیے جاتے ہیں ۔

اگر اس نظریے کا اطلاق  پاکستان میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی باہمی سیاسی آویزش اور دو طرفہ سیاسی کشمکش پر کیا جائے تو بات سو فیصد بنتی نہیں کیونکہ یہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف دشمن کی فوج بن کر صف آرا ہیں اور حکومت کو نہ چلنے دینے اور اُسے مار گرانے کے کے منصوبے بر ملا بناتی رہتی ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں اتنی جارح ہیں کہ اُن کے نزدیک موجودہ حکومت ،  رائے عامہ سےمنتخب حکومت نہیں بلکہ فوجی اسٹنلشمنٹ کی منتخب حکومت ہے ۔ کچھ لوگ اسے مارشل لا کی ایک صورت قرار دے رہے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو خود بھی فوجی آمروں کی گود میں پلے ، فوجی آمروں کی بنائی ہوئی مسلم لیگوں میں اُن کی سول ڈھال بن کر رہے ہیں، اور اُن میں اُس فوجی آمر کے سول جانشین بھی ہیں جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ ء دار پر کھینچا ، پیپلز پارٹی پر پابندی لگائی اور اسلام کے نام پر اپنے حق میں ریفرنڈم کا ووٹ لیا اور اگر اُسے حق تعالیٰ نے طیارے کی چتا میں زندہ ہی نذرِ آتش نہ کردیا ہوتا تو وہ آج بھی مدینے سے اسلام درآمد کر رہا ہوتا ۔

نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ عبد الولی خان نے ایک با ر ضیا کی اسلام کے نٖفاذ کی حکمتِ عملی  پر پھبتی کستے ہوئے کہا کہ دس سال ہو گئے ہیں ، اگر اسلام مدینے سے گدھے پر لاد کر بھی لایا جاتا تو اب تک اسلام آباد پہنچ چکا ہوتا ۔ لیکن ستر برس میں نہ تو اسلام ہی پوری تفصیل سے پاکستان میں نافذ ہوا اور نہ ہی جمہوریت آئی ۔ اور یہ صورتِ حال جو سن 1958 میں ایوب خان کی مارشل لا کے ساتھ  معرضِ وجود میں آئی تھی ، اب پاکستانی قوم کا مقدر بن چکی ہے ۔ اب ہم ہیں اور فوجی اسٹبلشمنٹ کا پہرا ۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ جب یہ سول کہلانے والی جمہوری حکومتیں بر سر اقتدار آتی ہیں تو فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایک ہی پیج پر ہوتی ہیں اور جب اقتدار سے فارغ ہوتی ہیں تو فوجی اسٹبلشمنٹ کے خلاف ووٹ کی عزت کا مورچہ قائم کردیتی ہیں اور پھر اپنے کرائے کے میڈیا مداریوں کے ذریعے لوگوں کو فوجی اسٹیبلشمنت کے خلاف اُکساتی رہتی ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ جب وہ اقتدار میں ہوتی ہیں تو فوج کو ملکی آئین کی حرمت کا واسطہ دے کر اُسے کیوں اس بات پر قائل نہیں کرتیں کہ وہ اپنی کھال میں رہے اور سول حدود کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ کیا نون لیگ ، پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی سمیت ساری سیاسی جماعتوں میں اتنا دم نہیں کہ جب وہ اقتدار میں ہو تو فوج سے ڈائیلاگ کے ذریعے اس متنازعہ مسئلے کا مستقل حل نکالے اور ملک کو اُس خالص جمہوریت کی راہ پر ڈال دے جس پر فوجی اسٹبلشمنٹ کا پرندہ پر تک نہ مار سکے ؟

نہیں ، ہر گز نہیں ،  اور جب اُن میں اتنی صلاحیت نہیں تو اُنہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ملک کے عوام یعنی غریب لوگوں کو اس دوطرفہ قضیے میں ملوث کرے اور بہتر یہ ہے کہ وہ صدقِ دل  سے مان لے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے سویلین نمائندے ہیں ۔ اُن کا کردار ذیلی نوعیت کا ہے ۔ لیکن نا اہل سیاسی جماعتوں کا المیہ  ہمیشہ یہی رہا ہے کہ  نہ تو اپنے ترقیاتی منصوبوں کو دیانتداری سے پایہ ء تکمیل تک پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی عام آدمی کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں بلکہ اس کے برعکس سیاسی پارٹیوں کے لیڈر اپنے تنخواہ داروں اور  ہر شعبے کےحاشیہ برداروں کے ذریعے مالی مفادات کی سیاسی تجارت کرتے ہیں اور اپنی دولت کو ضرب دیتے چلے جاتے ہیں ۔

 اُن کے لیے قانون کے دو معیار ہیں اور ایک عام آدمی کے لیے اور دوسرا خواص کے لیے۔ اور جہاں دوہرا قانونی معیار ہو وہاں جمہوریت یا انصاف کا کیا کام ۔ اور واضح رہے کہ  انصاف صرف عدالتوں کا کام نہیں بلکہ معاشرے میں انصاف سے رہنا ، ایک دوسرے سے انصاف کے مطابق تعلق استوار  رکھنا اور جو اپنے لیے پسند کرنا وہ اپنے ہم وطن بھائی کے لیے بھی کرنا انصاف کے بنیادی لوازمات ہیں مگر ہم نے اپنی روز مرہ زندگی سے انصاف کو  نکال کر عدالتوں اور وکیلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور انصاف کو بکاؤ جنس بنا دیا ہے ۔ اور جہاں انصاف بکاؤ ہو وہاں نہ مذہب برقرار رہتا ہے اور نہ ہی جمہوریت ۔

 اور یہ ہماری کہانی صورتِ حال کی زبانی ۔

loading...