چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی تبدیلی کےسوال پر حکومت کی بوکھلاہٹ

  • جمعہ 26 / جولائی / 2019
  • 670

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی تحریکِ عدم اعتماد پر رائے شماری کا دن جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے تحریکِ انصاف چیئرمین سینیٹ کو بچانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔

سینیٹ میں قائدِ ایوان شبلی فراز اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد رکوانے کے لیے حزبِ اختلاف کے اراکین سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ عدم اعتماد کی درخواست واپس لے لیں۔  اس حوالے سے بڑی پیش رفت بدھ کو ہوئی جب شبلی فراز اور جام کمال خان جمعیت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ملنے گئے لیکن یہ محض عارضی کامیابی ثابت ہوئی۔

عارضی اس لیے کیونکہ مولانا فضل الرحمان نے دو ٹوک الفاظ میں قائدِ ایوان اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان پر واضح کر دیا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ کُل جماعتی کانفرنس میں شامل نو جماعتوں کے اراکین نے کیا ہے، سو اب اس فیصلے سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے۔ فضل الرحمان نے بعدازاں جمعرات کو اپوزیشن کے یومِ سیاہ کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں عمران خان کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ ان سے این آر او مانگا گیا لیکن وہ نہ چیئرمین سینیٹ کو این آر او دیں گے نہ عمران خان کو۔

اپوزیشن سے رابطوں کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیٹ میں قائدِ ایوان شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ’ہم سب سے ملتے رہیں گے، چاہے وہ شہباز شریف ہوں یا پیپلز پارٹی۔ لیکن بلاول بھٹو نے ’پیسے دو، سینیٹرز خریدو‘ کا بیان دے کر اپنے سینیٹرز کی خود تضحیک کی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اُن سے ملنے کے فیصلے پر نظرِثانی کر رہے ہیں۔‘  شبلی فراز کا اشارہ بلاول بھٹو کے اس بیان کی طرف تھا جس میں انہوں نے سینیٹ میں ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت رجحان ’پیسے دو اور سینیٹر لو‘ کی طرف جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ’ہارس ٹریڈنگ کے نئے معیار طے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن حکومت ہمیں روک نہیں سکتی۔‘  ان کا کہنا تھا کہ ’ملاقاتیں کرکے حکومت نہ صرف سینیٹ کے وقار کو مجروح کر رہی ہے بلکہ اپنی بوکھلاہٹ کا بھی اظہار کر رہی ہے۔‘ تاہم شبلی فراز کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کے پاس ’ووٹ مانگنے نہیں بلکہ اپنا موقف رکھنے جا رہے ہیں کیونکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے دیرپا نتائج ہوں گے جس کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔‘

شبلی فراز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صادق سنجرانی نے سینیٹ کو بہت ہی باوقار طریقے سے چلایا ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ اُن کو لانے والوں میں ہم اکیلے تو شامل تھے نہیں۔ ہم اِس وقت اُن کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے وقار کو بچانے کی  کوشش کر رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ صادق سنجرانی کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا تاہم پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ کے مطابق ’تب محرکات مختلف تھے۔ آج ہم وقت کی مطابقت سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے مطابق چیئرمین سینیٹ کو تبدیل ہونا چاہیے۔‘ چیئرمین سینیٹ کے بارے میں تمام تر فیصلے بیلٹ کے ذریعے یکم اگست کو ہوں گے لیکن اس سے پہلے ہی تمام سینیٹرز اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طریقے سے ایک دوسرے کو اس بات کی یقین دہانی کرا رہی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر اپوزیشن کو قائل کرنے کی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں اور اگر حکومت تحریکِ عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے مطلوبہ ووٹ جمع نہیں کر پاتی تو چیئرمین سینیٹ کو اخلاقی بنیاد پر مستعفی کروانا بھی ایک آپشن ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان ملاقاتوں سے حکومت جو توقع کر رہی ہے وہ نہیں ہو پائے گا۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ووٹرز کے درمیان ایک واضح اور خاصا بڑا فرق ہے۔ اگر آٹھ یا دس سینیٹرز دوسری جانب چلے بھی جائیں تب بھی یہ پورا نہیں ہو گا۔‘

اگر سینیٹ کے اراکین کی تعداد پر نظر دوڑائی جائے تو حکومت کے پاس سینیٹ میں صرف 36 ووٹ ہیں جبکہ حزبِ اختلاف کے ارکان کی تعداد 66 ہے۔  مظہر عباس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حکومت اگر نمبرز پورے نہیں کر پاتی تو اُنہیں چاہیے کہ صادق سنجرانی سے استعفیٰ دلوا کر اخلاقی بنیادوں پر جیت جائیں جس کا اظہار پاکستان تحریکِ انصاف با رہا کرتی رہی ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی یہ تبدیلی زیادہ طویل عرصے کے لیے نہیں ہو گی اور تحریکِ انصاف کو کچھ عرصہ بعد ہی دوبارہ اپنا چیئرمین منتخب کروانے کا موقع مل سکتا ہے۔ ’پاکستان تحریکِ انصاف اگر ایک سال صبر کرے تو 2021 میں ویسے بھی 50 فیصد سینیٹرز ریٹائر ہو جائیں گے اور نئے سِرے سے انتخابات ہوں گے۔  اور پاکستان تحریکِ انصاف کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہوجائے گی۔

(رپورٹ: سحر بلوچ ۔ بی بی سی اردو)

loading...