اگست ۔۔۔ اوسلو میں میلوں کا مہینہ

میں جولائی کے آخری عشرے کے دن ایک ایک کر کے گِن رہا ہوں اور اگست کے انتظار میں ہوں جو اوسلو اور لاہور میں میلوں کا مہینہ ہے ۔ لاہور میں اگست میں آزادی کا میلہ سجتا ہے جس کی تقریبات جزوی طور پر دنیا کے ہر اُس ملک میں منعقد ہوتی ہیں جہاں جہاں پاکستانی تارکینِ وطن موجود ہیں ۔

 لیکن اگست اوسلو کے کثیر الثقافتی میلے کا مہینہ بھی ہے جو رمضان کی استثناء کی بنا پر اگر کسی اور مہینے میں منتقل کرنا پڑے تو  کر لیا جاتا ہے وگرنہ  میرے مشاہدے اور تجربے کے مطابق یہ اگست ہی کا میلہ ہے ۔ خوش قسمتی سے اس بار عید الاضحیٰ بھی اگست میں پڑ رہی ہے ۔ اس طرح یہ مہینہ اس برس  تین میلوں کا میزبان ہے ۔ اوسلو میں پاکستان کی آزادی کا میلہ چھوٹی چھوٹی ٹُکڑیوں میں مختلف پاکستانی تنظیموں کے زیرِ اہتمام منعقد ہوتا ہے ۔ ان تنظیموں نے اپنے تنظیمی مفاد کے تحت کبھی اس میلے کو ایک دن ، ایک جگہ اور ایک ہی وقت میں منعقد نہیں ہونے دیا بلکہ یہ میلہ ہر تنظیم کی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بن کر رہ گیا ہے۔ لیکن اوسلو میلے کی روایت اپنی انفرادیت میں اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ میلہ کیا ہے ۔ میں فی الوقت لفظ میلے کی ایٹی مالوجی کے مخمصے میں نہیں پڑنا چاہتا بلکہ میلے کو شعری پیرائے میں ہی بیان اور شناخت کرنا چاہتا ہوں :

یار ملن تے میلہ ہووے ، بِن یاراں کیہ میلہ

پلّے پیسہ دھیلہ بنھ لَے ، یار ملن دا ویلا

پاکستانی تارکینِ وطن جہاں جاتے ہیں ، اپنے تہوار ، اپنی ثقافتی روایات اور رسم و رواج ساتھ  لے جاتے ہیں جن میں سے کچھ تو ترکِ وطن کی شکست و ریخت میں ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں اور کچھ میزبان کے دوش بدوش مستحکم ہو جاتے ہیں ۔ ان ثقاافتوں کے بعض خدوخال اتنی طاقتور ، عمیق ، دور رس اور دیرپا ہوتے ہیں کہ وہ اجنبی زمینوں میں دوسرے برِ اعظموں سے لائے گئے پودوں کی طرح جڑیں پکڑ لیتے ہیں ۔

پاکستانی تارکینِ وطن جب ناروے پہنچے تو وہ بھی اپنی دہقانی اور شہری روایات ساتھ لائے تھے ۔ یہ روایات اُن کا ثقافتی اثاثہ تھیں جو مذہب سے موسیقی تک ،  صحافت سے ادب تک ، اور مشاعروں سے مباحثوں تک کی بوقلمونی کا مظہر تھیں ۔ چنانچہ پاکستانیوں نے یہاں مسجدیں قائم کیں ، قوالیاں ، منعقد کیں ، پاکستان کے اسٹیج ڈراموں کے انعقاد کا اہتمام کیا ، ادبی محافل برپا کیں  ، پرنٹ میڈیا ، ریڈیو نشریات اور الیکٹرانک میڈیا میں اپنا حصہ ڈالا اور ناروے کی تہذیبی زندگی میں فعال طور پر شریک ہو گئے ۔یہ شرکت کچھ ایسی رہی کہ گاہ ہم نارویجین ہوئے اور گاہے ناروے پر پاکستانیت کا رنگ چڑھانے کی کوشش کی ۔ 

یہ کثیر الثقافتی معاشرتوں کا حُسن ہے کہ وہاں ہر قسم کا ثقافتی پودا گملوں سے لے کر گھروں کے دالانوں اور شیشے کی چھتوں والی کھتیوں میں اُگایا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ اب تارکینِ وطن کی نئی اور پرانی نسل نے باہم مل کر مشرق و مغرب کے امتزاج سے وہ کولاژ  تیار کیا ہے جو نہ صرف نارویجن معاشرت کا قابلِ فخر حصہ ہے بلکہ برِ صغیر کی سیاسی اصطلاح میں اٹوٹ انگ بن کر رہ گیا ہے ۔ یوں تو اس ضمن میں بہت سی باتیں اور بھی کہی جا سکتی ہیں ، ہماری نئی نسل کے بہت سے کارہائے نمایاں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی لکھی ہوئی کتابیں ، اُن کی بنائی فلمیں اور اُن کی اداکاری کے قصے زباں زدِ خاص و عام ہیں مگر سرِ دست میں اُس ثقافتی واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا جو یوں تو سال بھر مختلف انداز میں اپنے پَر پُرزے نکالتا رہتا ہے مگر اس کا سالانہ جشن بین الاقوامی سطح کی ایک خصوصی تقریب ہوتی ہے ۔اور اس تقریب کا نام ہے اوسلو میلہ ۔

یوں تو یہ میلہ اوسلو کے میلہ ہاؤس میں سال کے بارہ مہینے ہر موسم میں برپا رہتا ہے ، یعنی یہ سدا بہار میلہ چاردیواری کے اندر چھتوں کے نیچے اُگا وہ باغ ہے جو ہر موسم میں شاداب رہتا ہے ۔ میلے کی روایت اگرچہ یورپ میں برطانیہ ءعظمیٰ کے مختلف شہروں میں پہلے سے موجود تھی جسے برِ صغیر کے تارکینِ وطن برطانیہ کے استعماری دور میں اپنے ساتھ برطانیہ اپنے ساتھ لائے تھے مگر ناروے میں اس روایت کو خالد سلیمی نے لاہور سے اوسلو لا کر  ایک باقاعدہ ادارے کی صورت دی اور اب یہ میلہ اوسلو کی تہذیبی و ثقافتی زندگی کا ایک جزوِ لا ینفک ہے ۔

میلہ من کی موج ہے ، میلہ  بابِ مقامِ   ملاقات ہے اور وہ میلے جن میں مشرق و مغرب کی ثقافتیں باہم ملتی ہیں ، مختلف النسل انسانی گروہوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے پُل تعمیر ہوتے ہیں ۔ نسلوں کے درمیانی فاصلے کم ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو  ثقافتی حوالے سےسمجھنے کا موقع ملتا ہے ہم اپنے  اوسلو میں منعقد کرتے ہیں۔ جب میلہ قریب آتا ہے تو میری انگلیوں میں گُدگُدی ہونے لگتی ہے اور وہ کچھ  ذولسانی لہجے میں گانے لگتی ہیں :

Egne og fremmede roper

Mela , Mela , Mela

Alle danser, alle synger

Mela , Mela , Mela

اپنے اور پرائے بولیں

میلہ ، میلہ ، میلہ

سارے ناچیں اور الاپیں

میلہ،میلہ،میلہ

میلہ وہاں لگتا ہے جہاں یار ملتے ہیں ، دل ملتے ہیں اور محبتیں گلے ملتی ہیں ۔ میلہ خُدائی ہے ۔ مجھے ریشماں کا گیت یاد آ رہا ہے :

چنّاں ! رات ریہہ پَو ، سانگا خُدائی اے

اور یہ سانگا ہی میلہ ہے ، جو ایک زمانے سے لوگوں کو باہم ملانے کا ذریعہ رہا ہے ۔ مجھے میلے کے تصور کی حُرمت کا احساس  اُس وقت بہت گہرا لگنے لگتا تھا جب میں نُور والوں کے ڈیرے پر بابا فضل شاہ علیہ رحمت کی خدمت میں حاضر ہوتا تو وہ فرماتے، " اوہ ویکھو ، حضرت مسعود صاحب آگئے ، یار مِل پئے ، میلے ہو گئے ، نور والے ، نوروالے " ۔ یہ کہتے ہوئے آپ کے چہرے کے تاثرات دیدنی ہوتے جیسے وہ ملاقاتی کی راہوں میں بچھے چلے جا رہے ہوں۔ اور کبھی خوشی سے تالی بھی بجادیا کرتے ۔ اُس روایت کے بر عکس ہماری حالت یہ ہے کہ اپنے دوستانہ اظہار میں ہم بے حد کنجوس ہوگئے ہیں اور حال یہ ہو گیا ہے کہ باہم ملنے پر ایک دوسرے کو تسلیم و تپاک اور مسکراہٹ بھی پیش نہیں کرتے ۔ ہم ایک دوسرے کا احترام پنجابی محاورے کے مطابق " مونہہ ملاحظے" کے طور پر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے کی مذمت کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسے میں میلے کے انعقاد کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ کیونکہ میلہ روح کی کیفیت ہے اور روح  مشرقی ہے نہ مغربی ،  سفید ہے نہ کالی ، مونث ہے نہ مذکر ۔ مولانا روم نے کیا اچھا فرمایا :

لیک ازتانیث جاں را باک نیست

روح را از مرد و زن اشراک نیست

القصّہ ، میلہ دلوں اور روحوں کے ملاپ کا نام ہے اور ہم جہاں کہیں جائیں گے ، ہمارے میلے ہمارے ساتھ ہوں گے ۔ اور میں سُخن کے خواب کچھ اس طرح دیکھوں گا :

میلہ ویکھن چلیاں گوریاں رل مل کے

کونجاں وانگوں اُڈن پریاں رل مل کے

اوسلو دے وچ وجدے ڈھول تے اکتارے

بھنگڑا پاون الہڑ کُریاں رل مِل کے

loading...