عمران خان کی آمد سے تعلقات بحال ہونے کے دروازے کھل سکتے ہیں: وائٹ ہاؤس

  • اتوار 21 / جولائی / 2019
  • 660

امریکی انتظامیہ کے سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد اپنی پالیسیوں میں کچھ تبدیلیاں کرتا ہے تو پاکستان کو ملنے والی سیکیورٹی معاونت کی معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی ہوسکتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان گزشتہ شب تین روزہ دورہ پر واشنگٹن پہنچے ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوی دینے کا مقصد امریکہ کا اسلام آباد کو یہ پیغام دینا تھا کہ تعلقات کی بحالی اور شراکت داری قائم کرنے کے دروازے ابھی کھلے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'فی الوقت سیکیورٹی معاونت معطل  ہے'۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتطامیہ نے پاکستان کو سیکیورٹی معاونت جنوری 2018 میں معطل کی تھی جس کے بعد سے پہلی مرتبہ امریکی حکام نے اس کی بحالی پر بات کی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی معاونت کی معطلی کے خاتمے کے چند شرائط ہوں گی جس میں افغانستان، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے حوالے سے ہمارے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنا شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'واشنگٹن سے تعلقات کی بحالی کے لیے اسلام آباد کو دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسیوں میں کچھ تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔

وزیر اعظم  22 جولائی کو وائٹ ہاؤس جائیں گے جہاں ان کی  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوگی اور صدر کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ امریکی ٹیم میں سیکریٹری خزانہ اسٹیون منوچن، سیکریٹری کامرس ولبر روس، سیکریٹری توانائی رک پیری، نگراں سیکریٹری برائے دفاع رچرڈ اسپینسر اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ شامل ہیں۔ وزیر اعظم کی ٹیم میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر سول و عسکری قیادت شامل ہوگی۔

سینیئر ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر افغان امن مذاکرات میں پاکستان سے معاونت کرنے کی بات کریں گے اور انہیں امید ہے کہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی بحث سود مند ثابت ہوگی۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں اور ہمیں پاکستان کے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم اس دورے کو انہیں ایسا کرنے پر زور دینے کا موقع سمجھ رہے ہیں۔ افغانستان امریکی ایجنڈے میں پہلے نمبر پر رہے گا اور واشنگٹن نے واضح کردیا ہے کہ انہیں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے۔

حکام کا کہنا تھا 'ہم پاکستان سے امن مرحلے کو آگے بڑھانے میں معاونت کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ امریکہ پاکستان کی جانب سے اس کی سہولت کاری کے لیے اٹھائے گئے ابتدائی اقدامات کو سراہتا ہے تاہم اس نازک صورتحال میں ہمیں مزید تعاون کی ضرورت ہے'۔

وزیراعظم عمران خان 4 برس میں امریکی صدر سے ملاقات کرنے والے پہلے پاکستانی رہنما ہوں گے۔ پاکستان سے بحث کے دوران تجارت، توانائی میں تعاون پر بھی بات ہوگی۔ وائٹ ہاؤس پاکستان کو خطے میں معاشی ترقی  کے لیے مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دے گا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ 'ہم پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت میں رکاوٹوں کو کم کرنے کا بھی کہیں گے'۔

loading...