قبائلی علاقوں کی 16 نشستوں پر آزاد 5 اور تحریک انصاف کو 4 نشستوں پر برتری

  • اتوار 21 / جولائی / 2019
  • 800

خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد سابق فاٹا کے اضلاع کی تاریخ کے پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی نتائچ سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق آزاد امیداور 5 نشستوں پر کامیاب ہوریے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف 4 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔  الیکشن کمیشن پاکستان  کی ویب سائٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں سابقہ فاٹا کے 7 قبائلی اضلاع اور 6 قصبوں کی کل 16 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔  

ای سی پی کے غیر حتمی نتائج کے مطابق 5 نشستوں پر آزاد امیدوار آگے ہیں جبکہ 4 نشستوں پر پی ٹی آئی کو سبقت حاصل ہے۔  اسی طرح جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک ایک امیدوار بھی غیر حتمی نتائج کے مطابق نشستوں پر اپنے حریفوں سے آگے ہیں۔  اب تک پی کے 112، پی کے 113 اور پی کے 114 کے نتائج سامنے نہیں آئے۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق پی کے-100 باجوڑ ون سے پی ٹی آئی کے انوار زیب خاب، پی کے -101 باجوڑ ٹو سے پی ٹی آئی کے جمال خان، پی کے-102 باجوڑ تھری سے جماعت اسلامی کے سراج الدین، پی کے مہمند ون سے اے این پی کے نثار احمد، پی کے-104 مہمند ٹو سے آزاد امیداور عباس الرحمٰن اور کے پی-105 خیبر ون سے آزاد امیدوار شفیق آفریدی کامیاب ہوئے۔

پی کے-106 خیبر ٹو سے آزاد امیدوار بلاول آفریدی، کے پی 107 خیبر تھری سے آزاد امیدوار محمد شفیق، پی کے 108 کرم ون سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے محمد ریاض، پی کے-109 سے پی ٹی آئی کے سید اقبال میاں، پی کے-110 اورکزئی سے آزاد امیدوار سید غازی غزن جمال، پی کے-111 شمالی وزیرستان ون سے پی ٹی آئی کے محمد اقبال خان اور پی کے-115 سابقہ فرنٹیئر ریجن سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے محمد شیعب کامیاب ہوئے۔

20 جولائی کو خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع میں صوبائی نشستوں کے لیے انتخابات منعقد ہوئے۔ خیبر پختوخوا اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی تھی۔

ان انتخابات میں 28 لاکھ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جس میں مردوں کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار ہے۔ پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ووٹ دینے کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ دیکھا گیا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ دور افتادہ علاقہ ہونے اور ٹیکنالوجی کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے نتائج میں تاخیر ہورہی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے قبائلی اضلاع میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد نے ثابت کر دیا ہے کہ قبائلی عوام جمہوری سوچ کی حامل پرامن قوم ہے۔ انہوں نے انتخابات کے پرامن انعقاد پر انتخابی عملے، سیکورٹی عملے اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ آرمی، لیویز، خاصہ دار فورسز پولیس کے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات تھیں۔

loading...