پاکستانی بنکوں کو غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کی اجازت

  • اتوار 21 / جولائی / 2019
  • 560

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کو کرنسی کے کاروبار سے روکنے کا آغاز کرتے ہوئے بینکوں اور ان کی تمام شاخوں کو ملک بھر میں عوام سے غیر ملکی کرنسی کے خرید و فروخت کرنے کی اجازت  دی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی زرمبادلہ کا نظر ثانی شدہ مینوئل جاری کیا جس میں کرنسی کے کاروبار کے حوالے سے تفصیلات درج ہیں۔ اس میں ایکسچینج کمپنیوں کا کام بھی بینکوں کو دے دیا گیا ہے۔ قبل ازیں بینکوں کو غیر ملکی زرمبادلہ براہ راست عوام سے خریدنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کے مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جنہیں حالیہ پیش رفت سے خدشات کاحق ہیں۔ غیر ملکی کرنسی نوٹوں کو کسٹم حکام کا اجازت نامہ دکھا کربنکوں سے روپوں میں  کروایا جاسکتا ہے۔ بینک  غیر ملکی کرنسی فروخت بھی کرسکیں گے۔

غیر ملکی کرنسی نوٹوں کی عوام کو فروخت کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ڈیلرز غیر ملکی کرنسی نوٹوں کو بیرون ممالک جانے والے افراد کو فروخت کرسکیں گے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بینکوں کو روزانہ کی بنیاد پر عوام سے کرنسی کا کاروبار کرنے اجازت دینے کا مطلب ہے کہ اب یہاں ایکسچینج کمپنیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ 'میں اعلیٰ حکام میں خود ایسے شخص کو جانتا ہوں جو ایکسچینج کمپنیوں کو بند کرنا چاہتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عوام اب با آسانی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت نہیں کرسکیں گے کیونکہ بینک لاکھوں افراد کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے جبکہ بینک اس کام کے ہم سے زیادہ پیسے بھی لیں گے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ ' اگر ایکسچینج کمپنیاں بند ہوگئیں تو ان میں کام کرنے والے   25 ہزار سے ایک لاکھ افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔

loading...