میں ہڑتال پر ہوں

گزشتہ روز میں نے  ایڈیٹر کاروان سے درخواست کی کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں اِس قدر گھٹن ہے کہ میرے لیے سانس لینا بھی محال ہو کر رہ گیا ہے ، اس لیے میں حالات کے سازگار ہونے تک سیاسی موضوعات پر کالم نہیں لکھوں گا ۔

 پاکستان میں کالم نگاری تو گریڈ بتیس کی تنخواہ کے برابر کا منصب ہے اور میں جو " والقلم وما یسطرون" کے حُکم کی بجا آوری میں لکھتا ہوں اور کسی  مالی معاوضے کے لیے نہیں لکھتا بلکہ خلقِ خُدا کے حق میں اپنی آواز اُٹھانے کے لیے لکھتا ہوں کیونکہ میں بھی پاکستان کے اُن نچلے درمیانے طبقے کا خاک پوش ہوں ، جس نے بہت سے ایسے اخبارات میں بھی کام کیا  جہاں معاوضہ یا تو ملا نہیں یا اتنا ملا جتنا ایک وقت کے فاقے کو ٹال سکتا تھا مگر کمرے کے کرائے کی ادائیگی کے لیے ناکافی تھا ۔ میں جو پچھلے چھتیس برس سے ناروے میں ہوں ، دورانِ ملازمت جب بھی  ماہانہ تنخواہ دی گئی تو  مجھے ہمیشہ  رسید اور ٹیکس کی تفصیلات کے ساتھ ٹیکس کاٹ کر دی گئی ۔ اب پینشن پر ہوں تو پینشن میں سے بھی ٹیکس کٹتا ہے ۔ اور اگر کسی روز  ایک دو گھنٹے کا تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کا کام کروں تو اس میں سے بھی ٹیکس کٹتا ہے ۔

 یہ ایک نظام ہے جس میں اشیاو خدمات کی خرید پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جو رسید پر درج ہوتا ہے ۔ ٹرانسپورٹ کے ٹکٹ پر بھی ٹیکس کی رقم درج ہوتی ہے لیکن ہمارے وہاں مسلمان نے قرآنِ حکیم کے واضح حکم کے باوجود لین دین کے معاملے کو حیطہ ء تحریر میں لانے کا نظام رائج نہیں کیا  ۔ کہنے کو تو ہم وہی لوگ ہیں جو قانون پر قانون بناتے  ہیں مگر قانون پر عملدرآمد ہمارے بس کا روگ ہی نہیں کیونکہ من حیث القوم ہمیں قانون شکنی کی گھُٹی دی جاتی ہے ۔ ہمارے وہاں قانون ایک تکلف ہے جو عدلیہ اور وکلاء کی روزی روزگار کا اُسی طرح بہانہ ہے جس طرح مذہب مذہبی کارکنوں کی روزی روزگار کا ذریعہ ہے ۔ مذہبی ایڈیم میں جج کو قاضی کہتے ہیں ۔ اور ان قاضیوں کا کردار ہر زمانے میں اہلِ علم و دانش کا موضوع رہا ہے ۔

 غالباً سعدی علیہ رحمت نے ایک حکایت لکھی ہے کہ کسی شہر میں بچے گم ہوجا یا کرتے تھے ، بالکل اسی طرح جیسے آج کل لوگ گم ہو جاتے ہیں ۔ لیکن شہر کا قاضی یعنی جج اتنا رحم دل تھا کہ وہ شہر بھر میں ننگے پاؤں چلتا تھا کہ کہیں کوئی چیونٹی اُس کے پاؤں تلے آ کر ہلاک نہ ہو جائے ۔ جب ایک طویل عرصے تک گم شُدہ بچوں کا کوئی سراغ نہ ملا تو کسی مردِ درویش نے کہا کہ اے احمقو! اس قاضی کی بھی تلاشی لو ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ قاضی ء شہر کے عشرت کدے کے تہ خانے میں ایک نجی جیل تھی جہاں  کچھ بچے تو خستہ حالت میں ملے جب کہ کچھ کی ہڈیا ں برامد ہوئیں ۔ دیکھیے کہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ میں کسی بہانے ارشد ملک صاحب کا ذکر کر رہا ہوں ، کیونکہ میں ہڑتا ل پر ہوں اور اس فرضی کالم میں ماضی کی تاریخ کے کچھ قصے بیان کرنے پر ہی اکتفا کروں گا ۔

آپ میرے  غائبانہ  مرشد اورممدوح  حضرت ملا نصرالدین سے تو واقف ہوں گے ۔ وہ نقشبندی صوفی تھے جن کا مزار ترکی کے شہر اکشیہیر میں واقع ہے ۔ اکشیہیر ایک تاریخی شہر ہے جو مولانا جلال الدین رومی کے قونیہ سے بذریعہ بس نصف ساعت کی مسافت پر ہے ۔ آپ کا عرس ہر سال یکم جولائی کو ہوتا ہے جہاں دنیا بھر سے مُلا کے مداح شاندار میلہ لگاتے ہیں ۔ ملا نصرالدین کو اہلِ ترکی حوجہ نصرالدین کہتے ہیں ۔ حوجہ دراصل خوجہ کا ترکی متبادل ہے کیونکہ ترکی حروفِ ابجد میں خ ، د اور ب کی آوازیں ادا کرنا مشکل ہے اس لیے خوجہ کو ہوجہ ، خدیجہ کو حدیجے ، محمد کو محمت اور کتاب کو کتاپ  کہا جاتا ہے ۔ملا نصرالدین کی حکایات پر مشتمل کئی کتابیں ہیں جن میں سے ایک حکایت میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں:

حکایت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک رات کے آخری پہر مُلا نصرالدین قونیہ سے واپس لوٹے تو دیکھا کے اُن کے شہر  اکشیہیرسے باہر ایک ویرانے میں ایک درخت تلے کوئی شخص بے سُدھ  پڑا ہے ، اس کے پاس اُس کا گھوڑا کھڑا ہے اور اُس کی پگڑی ، جُبہ اور سامان ادھر اُدھر بکھرا پڑا  ہے ، ملا جی نے اپنا گھوڑا روکا اور بے سُدھ پڑے شخص کے چہرے کو چاند کی روشنی میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ تو قاضیء شہر ہیں جو شراب کے نشے میں دھت پڑے ہیں ، تن بدن کا ہوش نہیں اور اُم الخبائث کی بو سے اطراف میں تعفن پھیلا ہوا ہے ۔ مُلا نے اُنہیں ہلا یا ، اُن کو بازو سے پکڑ کر اُٹھانا چاہا ، آوازیں دیں مگر غُراہٹوں اور خراٹوں کے سوا کوئی جواب نہ ملا ۔ اس پر ملا نصرالدین نے جج صاحب کی پگڑی اور جُبہ اپنے قبضے میں لے لیے  اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر گھر کی راہ لی ۔ صبح کاذب کے قریب پو پھٹے سے پہلے قاضیء شہر کو ہوش آیا تو وہ پگڑی اور جبہ ڈھونڈنے لگے مگر ان دونوں اشیا کا دور دور تک پتہ نہ تھا ۔ ناچار جج صاحب برہنہ سر بلا جبہ گھوڑے پر سوار ہو کر گھر پہنچے ۔ اگلے دن عدالت میں دوسری پگڑی اور جبہ پہن کر گئے اور عدالت لگی تو قاضی نے بتایا کہ آج سب سے پہلے میرے مقدمے کی بات ہو گی ، کیوں کہ میرا جُبہ اور پگڑی چوری ہوگئے ہیں ۔ اس پر ایک اہل کار نے اطلاع دی کہ آپ کی پگڑی اور جُبہ ملا نصر الدین پہنے ہوئے شہر میں گھوم رہے ہیں اور منڈی میں لوگوں سے اس لباس پر داد و تحسین وصول کر رہے ہیں ۔

قاضی نے حکم دیا کہ ملا نصر الدین کو سمن جاری کیے جائیں کہ وہ بلا تاخیر و حیل و حُجت  فوری طور پر عدالت میں پیش ہوں ۔ چنانچہ  حکم کی لازمی تعمیل میں تھوڑی ہی دیر میں ملا عدالت کے روبرو حاضر ہو گئے ۔ اور اس حال میں کہ تن پر قاضی کا جبہ اور سر پر سرکاری دستار ۔ قاضی نے غیض کے عالم میں ، نہایت تُرش لہجے میں  ملا کو دیکھ کر پوچھا کہ مسمی نصر الدین ! کیا یہ پگڑی اور جُبہ آپ کے ہیں جو اس وقت آپ کے بدن کی زینت ہیں ؟ مُلا نے کہا ، جی بالکل نہیں ۔ میں اُس شخص کی تلاش میں ہوں جس کے یہ کپڑے ہیں ۔

کون سا شخص ؟ قاضی دہا ڑا

ملا نے نہایت عاجزی سے اپنا بیان شروع کیا کی حضور ! جس شہر میں آپ جیسا نیک دل ، عادل اور منصف قاضی ہو ، اُس شہر کے نواح میں رات کی تاریکی میں کوئی شریعت شکن شراب پی کر ، نشے میں دھُت ایک درخت کے نیچے پڑا تھا ، جسے تن بدن تک کا ہوش نہ تھا ۔ یہ پگڑی اور جُبہ ہوا کے دوش پر اُڑتے اس جگہ سے دور ایک جھاڑی میں پڑے تھے اور میں نے اس خیال سے کہ کہیں کوئی چور یہ قیمتی کپڑے چُرا نہ لے ، اُٹھا  کر سنبھال لیے اور اب میں شہر بھر میں اُسے تلاش کرتا پھر رہا ہوں تاکہ اُس کی امانت اُس تک پہنچا دوں ۔ مگر وہ مل ہی نہیں رہا ۔

یہ سُن کر قاضی جی اپنا سا مونہہ لے کر رہ گئے ۔ اور ملا جی سے بادل٘ نا خواستہ  کہا کہ آپ تشریف لے جا سکتے ہیں ۔ چنانچہ ملا جی قاضی کی دستار اور جبے سمیت ، اپنی تشریف لے کر گھر کو چلے آئے اور آتے ہی اپنی بیگم گل جان سے کہا ، " دیکھ اللہ والیے !آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ حرکت میں برکت ہے اور سفر وسیلہ ء ظفر ہے ۔

loading...