اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کاحکم

  • جمعہ 12 / جولائی / 2019
  • 570

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد ہائی کورٹ نے بتایا کہ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کے لیے وزارت قانون و انصاف کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی تھی کہ وہ جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور انہیں لاہور ہائی کورٹ کے پیرنٹ ڈپارٹمنٹ میں واپس بھیجنے کے لیے وزارت قانون کو خط لکھیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے سیکشن 5 اے کے مطابق وزارت قانون ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رضامندی سے خصوصی عدالتوں سمیت احتساب عدالتوں کے لیے ججز کی تقرری کرتی ہے جبکہ اسی سیکشن کی روشنی میں جج ارشد ملک کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بیان حلفی کے ساتھ ایک خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے  ویڈیو میں لگائے گئے الزمات کی تردید کی تھی۔ ترجمان اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک نے اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیز بھی اپنے خط کے ساتھ منسلک کی تھی۔

اس خط کے حوالے سے رجسٹرار ہائی کورٹ نے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات کی تھی اور جج ارشد ملک کے خط اور بیان حلفی کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔ تمام معاملے پر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد جج کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق انتظامی احکامات جاری کیے تھے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے طویل مشاورت کے بعد یہ ہدایت جاری کیں۔ ابتدائی طور پر ہائی کورٹ انتظامیہ اس معاملے پر تذبذب کا شکار تھی کہ آیا جج ارشد ملک کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے یا نہیں کیونکہ ان کی تقرری وزارت قانون کی طرف سے این اے او 1999 کے تحت کی گئی تھی۔

تاہم گزشتہ روز وزیر قانون نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی صوابدید ہے کہ وہ جج کے خلاف کارروائی کریں۔ یہ تمام معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سے جج ارشد ملک کی ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس عامر فاروق سے ملاقات میں جج ارشد ملک مریم نواز کی جانب سے جاری ویڈیو کے بعد اپنی پریس ریلیز کے مندرجات پر قائم رہے۔ اس سے قبل 9 جولائی کو جسٹس عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی تھی اور مبینہ طور پر تمام صورتحال اور اس تنازع پر احتساب عدالت کے جج کے جواب کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

تاہم مریم نواز کی جانب سے احتساب عدالت کے جج کی مزید ویڈیوز جاری کرنے پر جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے جج ارشد ملک سے دوبارہ ملاقات کی تھی۔ علاوہ ازیں وزیر قانون ڈٓاکٹر فروغ نسیم نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کی وزارت نے منظرعام پر آنے والی ویڈیوز کے تناظر میں احتساب عدالت کے جج کے خلاف  کارروائی کا آغاز نہیں کیا۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت یہ اسلام آباد ہائی کورٹ  ماتحت عدالتوں کو دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ احتساب عدالت سمیت خصوصی عدالتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے علاقائی دائرہ کار میں آتی ہیں۔ لہٰذا چیف جسٹس ہائی کورٹ ہی اس معاملے میں کوئی کارروائی کرسکتے ہیں‘۔

6 جولائی کو سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی ایک خفیہ طور سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو جاری کی تھی۔  انہوں نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔

مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے۔ لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔

انہوں نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، ویڈیو میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ہے۔

تاہم ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ان پر لگنے والے الزامات پر جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

 

loading...