صادق آباد کے قریب اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم، 14 افراد جاں بحق

  • جمعرات 11 / جولائی / 2019
  • 260

صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئیں جس کی نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 79 زخمی ہوگئے۔

اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس صادق آباد کے مطابق ولہار اسٹیشن پر لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس وہاں کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 3 سے 4 بوگیاں الٹ گئیں اور 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثرہوئیں جبکہ اکبر ایکسپریس کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کی جارہی ہے اور مسافروں کو کھانا اور پانی بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'مسافروں کو بسوں کے ذریعے منزل مقصود پر پہنچایا جائے گا'۔

ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا تھا کہ ' حادثہ سگنل تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر آنے کی وجہ بظاہر نظر نہیں آرہی ہے'۔ پولیس ترجمان کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ٹی ایچ کیو ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔ انہوں نے عوام سے خون کے عطیات دینے کے لیے فوری طور پر دونوں ہسپتالوں میں پہنچنے کی اپیل بھی کی۔

پاکستان ریلوے نے اکبر ایکسپریس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لیے سکھر ڈویژن میں انفارمیشن سیل قائم کردیا ہے۔  وزیر ریلوے شیخ رشید نے حادثے پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے۔ غفلت برتنےوالوں کومعاف نہیں کریں گے'۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر چلنے والے حادثے کے مناظر کافی دل خراش ہیں، واقعے پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

شیخ رشید نے صادق آباد ٹرین حادثہ میں مرنے والے اور زخمیوں کے لیے امداد کا  اعلان بھی کیا۔ وزیر ریلوے کی جانب سے حادثے میں جاں بحق لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ روپے اور زخمی ہونے والوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے واقعے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'صادق آباد ٹرین حادثہ نہایت افسوسناک ہے، لواحقین کے غم میں برابر کا شریک اور زخمیوں کی جلد اور مکمل شفایابی کیلئے دعاگو ہوں'۔

ان نے وزیر ریلوے کو ریلوے انفرااسٹرکچر سے برتی جانے والی دہائیوں پر محیط غفلت کے فوری ازالے اور سیکیورٹی کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں ٹرینوں کے تصادم اور پٹڑی سے اترنے کے واقعات میں واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل 20 جون 2019 کو حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے۔ 17 مئی کو سندھ کے ضلع نوشہرہ فیروز کے علاقے پڈعیدن کے قریب لاہور سے کراچی آنے والی مال گاڑی کے حادثے کے باعث کراچی سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوگئی۔

loading...