کیا پاکستان میں کبھی سیاسی اور معاشی استحکام رہا ہے؟

سوچتا ہوں کس موضوع پر بات شروع کروں ایک طرف سیاسی محاذ آرائی اور انتشار عروج پر ہے جس کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد ہی فوراً شروع ہو گیا تھا۔

 اپوزیشن چیئر مین سینٹ تبدیل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کر چکی ہے۔ مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز احتساب جج کی گفتگو کے حوالے سے متنازعہ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ سامنے لا چکی ہیں جس کو غلط ثابت کرنے کیلئے حکومتی حلقے کافی متحرک دیکھائی دیتے ہیں۔ جج صاحب کا تردیدی بیان اور ملاقات کے بارے میں تصدیق سامنے آ چکی ہے۔ کون غلط ہے یا صحیح اس کا فیصلہ کس طرح ہوگا اور معاملہ عدالت میں یا کمیشن کے ذریعے طے پائے گا۔ بہر صورت حسب روایت ن لیگ کی قیادت کی طرف سے عدالتوں کو متنازع بنانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

 ماضی میں اس جماعت نے عدالتوں کے خلاف مہم جوئیاں کی ہیں جس میں کہیں کوئٹہ مشن چیف جسٹس سجاد علی کی عدالت پر حملہ، بے نظیر کیس میں سزا دلوانے کی کوششوں کی ٹیلی فون ریکارڈنگ اور عدالتوں کے فیصلوں کو نہ ماننا شامل ہے۔ کس طریقہ سے حدیبہ پیپر مل کے مقدمے کی فائل بند کروائی گئی۔ اس کی مثال پاکستان کی عدالتی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کیس کے بارے میں کہا جاتا تھا یہ منی لانڈرنگ کا سب سے اہم ترین واقع ہے۔ نواز شریف خاندان 35سال سے بر سر اقتدار رہا ہے اس لیے اس کی ریاست ڈھانچے میں گہری جڑیں اور تعلقات ہیں۔  یہ مقتدرہ طبقات کا منظور نظر بھی رہا ہے۔ اب چونکہ گردش حالات کی وجہ سے گرفت میں ہے تو اپنی سیاست بچانے کیلئے ہر حربہ آزمانے کو تیار ہے۔

 یوں بھی مسلم لیگ ن نے ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کیلئے کارکنوں کے کنونشن شروع کر دیئے ہیں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری پختونخوا کے مختلف مقامات پر جلسے منعقد کر رہے ہیں اور وہ قومی ایشوز کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ کہیں پر آئی ایم ایف کے پاس ملک کو گروی رکھنے کا الزام لگا رہا ہے حالانکہ مسلم لیگ ن نے اپنے عہد میں ملک کے تمام موٹر وے اور ائیر پورٹ آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیے تھے۔ اب ریاست کے پاس اور گروی رکھنے کیلئے کچھ نہیں بچا ہے۔

دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کرپشن کے الزام میں جیلوں میں ہے جبکہ دیگر قیادت کو نیب کے سامنے پیشیوں کا سامنا ہے۔ یہ دنوں خاندان ہی اپنی سیاست اور والدین کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس محاذ آرائی کی کیفیت میں ریاستی مشینری سب سے زیادہ دباؤ میں اور خوف زدہ ہے۔ معاشی اور تجارتی سر گرمیاں دم توڑ رہی ہیں۔ رہی سہی کسر بجٹ میں لگائے جانے والے ٹیکسوں نے پوری کر دی ہے جس کے خلاف ملک کی صنعت کار اور تاجر برادری سراپا احتجاج ہے۔ ڈالر کی قیمت کہیں رک نہیں رہی ہے اور نہ ہی پیدا واری عمل کے ذریعے ڈالر کی آمد ہو رہی ہے۔ ایف بی آر کی مکمل طور پر ریسٹرکچرنگ کی ضرورت ہے جس کے ذریعے  ٹیکس ریکوری کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔

ماضی میں حکومتوں کے کبھی قومی ترقی کے معاشی اہداف نہیں تھے کیونکہ انہیں مفت میں امداد مل رہی تھی۔ صدر ایوب خان کے عہد میں عالمی مالیاتی اداروں کی گرانٹ سے صنعتی یونٹس قائم ہوئے جس کو بعد میں ایوب خان نے اپنے چہیتوں میں بانٹ دیا۔ اس کے بعد دریاؤں کا پانی بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت دینے کے بعد دو ڈیم تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم تعمیر ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں بھاری صنعتی مشینری کے کار خانے قائم کئے گئے تا کہ چینی کھاد اور سیمنٹ کے کار خانوں کیلئے بھاری مشینری مقامی طور پر تیار کی جا سکے اس کے علاوہ ٹینک سازی کا بھی کام شروع ہوا تا کہ ملکی دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے مگر بھٹو کے یہ اقدامات مقتدرہ طبقات کو پسند نہیں آئے تھے۔ تحریک نظام مصطفی کے ذریعے  جمہوریت کا بستر گول کر دیا گیا۔ لے پالک سیاسی قیادتوں کو ابھارا گیا اور آج وہ اپنے داخلی تنازعات کی وجہ سے اپنے ہی تخلیق کردہ اداروں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو معزول کرنے کیلئے بیڈ گورننس اور بد انتظامی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور گڈ گورننس کے حوالے سے حل پیش کرتے ہوئے یہی کہا جاتا رہا ہے اگر یہ ٹھیک ہو جائے تو تمام معاملات درست ہو جائیں گے۔ ضیاء الحق نے صالحین کی حکومت قائم کرنے کے لئے انہی خاندانوں کی سیاسی حمایت حاصل کی جن کو وہ کرپشن اور بدعنوانی کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا۔ جنرل مشرف کا حقیقی جمہوری جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادتوں کے ساتھ سمجھوتہ تو نہ ہو سکا مگر انہی جماعتوں کے مختلف علاقائی خاندانی اجارہ داریوں سے تعلق رکھنے والوں سے مل کر حکومت کو تشکیل دیا۔ جس سے داغ دار ماضی رکھنے والے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی وجہ سے مکمل طور پر ڈرائی کلین ہو گئے۔

 مشرف کے پاس پوری طاقت تھی جو اس وقت موجودہ سویلین حکمران عمران خان کے پاس ہے۔ ان کے وزرا کہیں پر سندھ کی حکومت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اور کہیں پنجاب سے مسلم لیگ ن کے ممبران اسمبلی کو توڑ کر فاروڈ بلاک بنانے کی نوید دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے حکومت کا ساتھ دو یا احتساب کیلئے تیار ہو جاؤ۔ مشرف کے دور میں کرپشن کے خاتمہ کیلئے دعوے کئے گئے تھے جیسے کہ اب کیے جا رہے ہیں۔ مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد چھ نکاتی ایجنڈا دیا تھا جس میں سب سے اہم معیشت کو دستاویزی بنانا تھا مگر تاجروں کے احتجاج پر یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سک۔ا اور گڈ گورننس لانے کا دعویٰ ہی رہا۔ سابق طور طریقہ سے ریاست امور چلانے کیلئے حکومت کے اتحادی وہی لوگ تھے جو ماضی میں اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔  اب بھی عمران خان کی حکومت کے ساتھ ہیں اور نئی سیاسی جماعت کے ٹائٹل کے ساتھ اپنی پرانی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

ہمارے بعض دانشور معیشت کے پیدا واری عمل میں تبدیلی کرنے کی بجائے گڈ گورننس پر زور دیتے ہیں اور گورننس کے جبر کو سب سے اہم سمجھتے ہیں۔ وہ سیاسی اخلاقیات کی بات کرتے ہیں اور معاشی اخلاقیات کو ضروری نہیں سمجھتے۔ جس سے سرمایہ کی تخلیق کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ہمارے دانشور اور ماہر معاشیات ماضی کے تجربات سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ موجودہ صورت حال سے نکلنے کا واحد ذریعہ سٹرکچر اصلاحات ہیں جس سے اداروں کی نئی سرے سے تشکیل شامل ہے۔ معیشت کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے ساتھ صنعت کے پہے کو چالو کرنا ضروری ہے۔ اس وقت پاکستان میں سمال میڈیم اداروں کا جی ڈی پی میں حصہ چالیس فیصد ہے۔ جس میں سب سے زیادہ لیبر کام کرتی ہے۔ اگر اس شعبے کو مالیاتی اداروں کی طرف سے قرضہ جات دلائے جائیں تو یہ  مہارت سے لیس نوجوانوں کو روز گار دے کر ملک کی صنعتی برآمدی پیدا وار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

 دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نواز شریف ماڈل کی طرح حکومتی اخراجات کے ذریعے معیشت میں ڈیمانڈ پیدا کی جائے جس کے لئے ترقیاتی کام کیے جائیں۔ مگر اس سے قرضوں میں اضافہ ہوگا جس کو عوام نے ادا کرنا ہے۔ یا جنرل ضیاء الحق اور مشرف کے دور کی طرح کسی ایسے علاقائی تنازعے کا انتظار کیا جائے جس میں بڑی طاقتوں کا کردار ہو اور ہمیں ڈالر مل سکیں مگر اس سے ملک کو سماجی، معاشی اور صنعتی خود کفالت کی طرف گامزن نہیں کیا جا سکتا۔

loading...