مارشل لائیں اور جرنیلوں کی سویلین جمہوریتیں

5 جولائی کی شام ترقی پسند سیاسی دانشور ارشد بٹ سے میری ملاقات اوسلو کے مرکزی ریلولے سٹیشن سے ملحق ایک ریستوران میں ہوئی ۔ یہ میری تجویز تھی کہ ضیا کے مارشل لاء اور مابعدِ مارشل لاء کی صورتِ حال پر بات کی جائے ۔ میں اسے یومِ سیاہ کہہ رہا تھا ۔

ارشد بٹ ایک منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے این ایس ایف میں سالوں ترقی پسند سیاست کی ، معراج محمد خان کے قومی محاذِ آزادی سے بھی منسلک رہے اور عمران خان کے ساتھ بھی چندے سیاسی سفر کیا مگر جلد ہی یو ٹرن لے لیا ۔( خیر یو ٹرن کی بات تو محض سُخن گسترانہ تھی )، اصل میں وہ عمران خان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی بنا پر  تحریکِ انصاف میں نہ رہ سکے ۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ پر وہ گہری نظر رکھتے ہیں اور پاکستانی سیاست کے خم و پیچ سے گہری شناسائی بھی رکھتے ہیں ۔ ہماری گفتگو کا محور ضیا کا مارشل لاء اور پاکستان میں جمہوریت کے مستقل اور دائمی قیام اور اُس کو درپیش خطرات تھے ۔

جنرل ضیا الحق کا مارشل لاء اِس اعتبار سے دوسرے تین مارشل لاؤں سے مختلف ہے کہ ضیاء الحق  اسلام کے نفاذ کا نعرہ لے کر آئے ، ملکی آئین کی یہ کہہ کر توہین کی کہ یہ آئین کیا ہے ؟ کاغذوں کا ایک پلندہ جسے جب چاہوں پرزے پرزے کر دوں اور چار نئے کاغذات لکھ لوں اور سیاست دانوں کو دُم ہلانے والے کہہ کر اُن کا مضحکہ اُڑایا ، پھر اسلام کے حق میں ریفرنڈم کروا کر خود کو صدر منتخب کرلیا ۔ سلیکشن کی ایسی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اور اُس کے دامن کا سب سے بڑا اور بھیانک داغ یہ ہے کہ اُس نے پاکستان کے واحد جمہوری وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ ئ دار پر کھینچا اور اُس واحد پارٹی (پی پی پی) کو جس کی داغ بیل عوام نے ڈالی تھی ، قومی اتحاد کے پچھواڑے پھینک دیا ۔

 اُس کے بعد ایک نئی مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی جو پی ایم ایل این کہلاتی ہے اور جو اس وقت سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی خاندانی پارٹی ہے۔ مسلم لیگیں بنانا مارشل لاء مارکہ جرنیلوں کا مشغلہ رہا ہے ۔ ایوب خان نے کنوینشن مسلم لیگ بنائی ، جنرل پرویز مشرف نے جو مسلم لیگ بنائی اُس میں گجرات کے چودھریوں کو بھرتی کیا گیا ۔ یہ مسلم لیگیں جی ایچ کیو کے سویلین سیاست دانوں کی فرضی جمہوریت کا گہوارہ رہیں اور جمہوریت جمہوریت راگ تو الاپتی رہیں مگر جمہوریت کے قیام کا باعث نہ بن سکیں ۔ اور اِس بات پر ارشد بٹ واضح تھے کہ پاکستان میں لفظ کے حقیقی مفہوم میں کبھی جمہوریت نہیں آئی سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے مختصر  عوامی عہد کے جس میں ایک ایسی پارٹی نے حکومت قائم کی جو جی ایچ کیو کی ٹکسال میں میں نہیں گھڑی گئی تھی۔ بلکہ اُس کا جنم فوجی آمر یت سے بغاوت کا حاصل تھا ۔

 یہی وہ جماعت تھی جس نے 1973 کا آئین بنایا ، ملک میں پاسپورٹ کے حصول کو سہل بنا کر افرادی وقت کو پاکستان سے باہر دیگر ممالک میں جا کر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جو آج پاکستان کے لیے زرِ مبادلہ کا ایک نہ ختم ہونے والا مستحکم ذریعہ ہے ۔ مگر بھٹو کو فوجی آمریتوں سے اپنا راستہ الگ کرنے کی جو سزا ملی وہ سب جانتے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے بھٹو کے زمانے کی پیپلز پارٹی  کی قومی اسمبلی کے سوا کسی اسمبلی میں دم نہیں تھا اور نہ ہے۔ وہ ساری مخنث اسمبلیاں تھیں  کیونکہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کر کے ملک میں دائمی جمہوریت کا راستہ ہموار نہیں کر سکیں ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جب وہ برسرِ اقتدار  ہوں تو فوج سے کوئی حتمی مک مکا نہیں کرتیں اور فوج کو اس بات پر سنجیدگی سے آمادہ نہیں کرپاتیں  کہ فوج ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنی پیشہ ورانہ حدود کے اندر رہے ۔ ملکی آئین کی پابندی کرے اور سول جمہوریت کو پنپنے دے۔ مگر وہ اپنی باری لے کر "یہ جا وہ جا" کے راستے پر گامزن رہتی ہیں ۔

اُن کا رویہ پنجابی محاورے میں " ڈنگ ٹپاؤ "  قسم کا ہوتا ہے اور وہ اپنی مدت پوری کرنے  کےچکر میں رہتی ہیں مگر بوجوہ نہیں کرسکتیں اور وجوہات سب پر عیاں ہیں ۔ اِن میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے پاکستان میں  قومی اور صوبائی سطح کے سول ادارے فوج اور اُن کے سویلین سیاستدانوں کی باہمی آویزش اور کھینچا تانی میں ذبح ہو کر رہ گئے ہیں  بلکہ  یوں کہنا چاہیے کہ سچ مُچ اور حقیقی معنوں میں وجود میں ہی نہیں آسکے ۔ اور جب ادارے مر جائیں تو فرد معاشرے سے معدوم ہو جاتا ہے اور ملک کی آبادی  کے تمام طبقے ناکارہ ہو جاتے ہیں ۔ ایسے میں ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی رہتی ہے ۔ ایک نفسا نفسی کا عالم ہوتا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں اپنی بقا کا راز مضمر سمجھتے ہیں ۔

اس ساری کھنچا تانی کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے پاؤں زمین میں نہیں بلکہ ہوا میں معلق ہو جاتے ہیں ۔ جو لوگ خلائی مخلوق کا رونا عوام کے آگے روتے ہیں اور اپنی بقا کے لیے ووٹ کی عزت کا شوشہ چھوڑ کر عوام کی عدالت سے انصاف مانگنے کا ناٹک کرتے ہیں ، خود اتنے با صلاحیت کیوں  نہیں ہیں کہ پچھلے ساٹھ برس میں (1958 کی مارشل لا سے اب تک ) خلائی مخلوق کو ملکی آئین اور قانون کا پابند بنا سکتے  اور اُن کو اپنی ادارہ جاتی حدود کا پابند رہنے کا قائل کر سکتے۔  اور وہ اس لیے  کیونکہ وہ اتنی صلاحیت کے حامل ہی نہیں کہ جی ایچ کیو کی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ سکیں ۔ جب اُن پر بپتا پڑتی ہے تو وہ عوام کی عدالت کا رُخ کرتے ہیں اور ووٹ کو عزت دو جیسے بے معنی بیانیے گھڑتے ہیں جن پر ہنسی آتی ہے ۔

ووٹ کی عزت ووٹر کی عزت سے لازم و ملزوم ہے ۔ ووٹر کی عزت کا مطلب یہ ہے کہ سویلین جمہوریت بنیادی  عوام کو ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی مکمل ضمانت دے ، جس میں  قوم کے سارے بچوں کو بلا تخصیصِ علاقائیت مفت لازمی تعلیم  فراہم کی جائے اور ملک کے لیے ایک مہذب نئی نسل تیار کی جائے جو پاکستان کے محفوظ مستقبل کی امین ہو ۔ مگر  یہاں مذہب سے لے کر نظریہ پاکستان تک سارے فلسفے کھوکھلے نعروں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ مذہب کیا ہے اور نظریہ ء پاکستان کا مطلب مابعدِ تخلیقِ بنگلہ دیش کیا ہے ۔ ہر طرف ایک کمرشل ازم ہے جس نے مذہب ، تعلیم اور طب سے لے کر صحافت تک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شے بکاؤ ہے اور ہر شخص منڈی کا مال ہے ، جسے چاہو اُس کی مطلوبہ قیمت ادا کر کے اُس خرید لو ۔

جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ ملک کی آٹھ لاکھ مساجد اور ان سے منسلک دینی مدارس کا کاروبار ہے اور اس ادارے کو چلانے کے لیے جو مال خرچ ہوتا ہے اس کی کوئی دستاویزی شہادت نہیں ہوتی ۔ ملک کے تعلیمی ادارے اتنے مہنگے ہیں کہ اوسط آمدنی والے خاندان اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھا نہیں پاتے اور ملک میں ڈگری فروشی کے جعلساز ادارے اپنا سیاہ کاریاں شروع کر دیتے ہیں ۔ ملک میں طبقاتی تقسیم مذہبی فرقوں کی تقسیم جیسی گھناؤنی ہے ، یہاں تک کہ غیر طبقاتی معاشرے کا فلسفی بگھارنے والے ترقی پسند اور کامریڈ بھی اپنے طبقے کی حدود سے باہر نکل کر کم تر طبقے سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے ۔ مجھے یہ بات کبھی نہیں بھولتی کہ سلمان تاثیر مرحوم نے حبیب جالب کے بارے میں کہا تھا کہ جالب شاعر تو اچھا ہے مگر اُس کا سوشل سٹیٹس نہیں ہے ۔

 یہ سماجی رُتبے والے ترقی پسند بھی اُتنے ہی کتابی ہیں جتنے دینی مدرسوں کے غریب طلبا و طالبات ۔ مجھے اس الزام میں بھی بڑا وزن نظر آتا ہے کہ ہماری سویلین جمہوریتیں جو عوام کی خدمت اور ترقی کی بڑی بڑی باتیں اور دعوے  کرتی رہی ہیں ، ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکیں جہاں ملک کی حکمران اشرافیہ  کا علاج ہو سکے ۔ کیا اُن کا اپنا سماجی رُتبہ پاکستان کے ہسپتالوں میں علاج سے مجروح ہوتا ہے یا یہ چھوت چھات کی قسم کی کوئی بیماری ہے کہ جہاں غریب لوگ علاج کرواتے ہوں  وہاں علاج کروانے سے حکمران ایلیٹ کی بے عزتی ہوتی ہے ؟

سو باتوں کی ایک بات : مجھے کہنے دیجیے کہ   چار مارشل لاؤں اور  اُن کی کوکھ سے جنمی سول جمہوریتوں نے اس ملک اور قوم کا بھلا نہیں کیا بلکہ ان میں تو اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ وہ ملک کے گلی کوچوں کو صاٖ ف ہی رکھ سکتیں ۔ آخر نا اہلی کی کوئی حد ہی ہوتی ہے مگر یہاں آوے کا اوا ہی بگڑا ہوا ہے جس کے سدھرنے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے اور موجودہ حکومت نے ایک ایسی پیچیدہ اور گنجلک صورتِ حال پیدا کردی ہے جس میں کوئی شے واضح نہیں ۔ اس کیفیت کی چنگل میں   پورا معاشرہ شدید ڈی پریشن کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے ۔

loading...