عمران خان کا دورہ امریکہ: تجزیہ کاروں کی نظر میں

  • جمعہ 05 / جولائی / 2019
  • 1520

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر رواں ماہ 22 جولائی کو صدر ٹرمپ سے واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات کریں گے۔

امریکہ میں بوسٹن یونیورسٹی میں گلوبل سٹڈیز کے پروفیسر عادل نجم کہتے ہیں کہ اس دورے کے نتائج کا تعلق اس بات سے ہے کہ امریکہ، عمران خان کے اس دورے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ کیا ان کا دورہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات تک محدود رہے گا یا پھر ان کی ملاقات پینٹاگون یا امریکہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ہو گی۔

وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں عادل نجم کا کہنا تھا کہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے صرف ایک ہی چیز چاہتا ہے اور وہ ہے افغانستان کے مسئلے کے حل میں پاکستان کا کردار ۔

پاکستان کے سابق سفارتکار جاوید حسین موجودہ علاقائی اور عالمی منظرنامے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے اس ماہ ہونے والے دو روزہ دورہ امریکہ کی خاص اہمیت دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں باہمی تعلقات میں بہتری لانے کے معاملات سے لے کر افغانستان، کشمیر، ایران کے جوہری پروگرام اور دہشتگردی جیسے علاقائی اور عالمی مسائل زیر بحث آ سکتے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ خبر آنے کے بعد گرما گرم بحث جاری ہے کہ کیا وزیر اعظم کا دورہ امریکہ پاکستان اور امریکہ کے گزشتہ کئی برسوں سے سرد مہری اور تناؤ کے شکار تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ ہوگا۔ اس ملاقات کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دو روز قبل پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے بلوچستان کی مرکزی علیحدگی پسند جماعت بلوچستان لبریشن آرمی کو ’عالمی دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیا ہے۔

پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سے زیادہ اس بارے میں ہوگا کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس وقت پاکستان سے رابطہ کرنے کی وجوہات ان وجوہات سے ملتی جلتی ہیں جو افغانستان میں جنگ شروع ہونے کے وقت تھیں۔ ’اس وقت وہ (امریکہ) جنگ شروع کرنے جا رہے تھا اور اب وہ یہ جنگ ختم کرنے جا رہے ہیں۔ اس وقت بھی انہیں پاکستان کی ضرورت تھی اور اب پھر سے ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ آیا اس ملاقات سے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی، حنا ربانی کھر نے کہا ’یہ خوش آئند ہے مگر اس حوالے سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔‘ سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب عالمی سطح پر ایک عام تاثر یہ ہے کہ افغانستان امن عمل میں پاکستان جو کچھ کر سکتا ہے وہ کر رہا ہے اور یہ بات پاکستان کے لیے بہت بہتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے دوران بڑا ایجنڈا ہمارے خطے کی صورتحال ہی ہوگا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2018 میں وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھے گئے ایک خط میں صدر ٹرمپ نے درخواست کی تھی کہ پاکستان افغانستان امن عمل میں اپنا کردار ادا کرے۔ خط میں صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ افغانستان میں جاری جنگ کی پاکستان اور امریکہ نے بڑی قیمت چکائی ہے۔ اسی طرح مارچ 2019 میں وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جلد پاکستان کی قیادت سے ملیں گے اور یہ کہ ’ اس وقت امریکہ کے پاکستان سے تعلقات کافی اچھے ہیں۔‘

تاہم صورتحال ہمیشہ ایسی نہیں رہی۔ یکم جنوری 2018 کو اپنی ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا ’گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔‘

سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور عمران خان دونوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم کے دوران افغانستان میں جنگ کو ختم کرنے کی بات کی تھی، اور یہ چیز دونوں رہنماؤں میں مشترک ہے۔ 'اگرچہ انتخابی دعوے کے برعکس ٹرمپ نے افغانستان کی جنگ کو طول دیا ہے مگر ان کا ماننا یہی ہے کہ جنگیں نہیں ہونی چاہیں جبکہ عمران خان کا بھی یہی کہنا ہے۔‘ شمشاد احمد کا کہنا تھا کہ آئندہ ملاقات میں بھی مرکزی ایجنڈا افغانستان ہی ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’یہ توقع کر لینا کہ اس ملاقات کے بعد پاکستان اور امریکہ کا ہنی مون شروع ہو جائے گا، غلط بات ہوگی کیونکہ ممالک کے تعلقات راتوں رات ٹھیک یا غلط نہیں ہو سکتے بہرحال ایک شروعات ہو سکتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ چین سے پاکستان کے تعلقات اور دہشت گردی بھی ایجنڈے کا حصہ ہو سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اونچ نیچ سے بھرے پڑے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ سے اعتماد کا فقدان رہا ہے۔ ’افغانستان ایک ایسا مسئلہ ہے جہاں بظاہر اب امریکہ اور پاکستان دونوں کی سوچ ایک ہی طرح کی ہے۔ ٹرمپ نے اگلے صدارتی الیکشن میں جانا ہے اور اس سے پہلے وہ افغانستان سے جنگ ختم کرنا چاہ رہے ہیں اور پاکستان ہی اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

loading...