عمران خان کا ڈبل رول: بیک وقت وزیر اعظم ا ور اپوزیشن لیڈر کا سنسی خیز کردار

ایک ایسےوقت میں جب وزیر اعظم عمران خان اور ان  حکومت کو پوری توجہ  معاشی مسائل سے نمٹنے پر صرف کرنے کی ضرورت ہے ،  وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں    مخالف سیاسی لیڈروں کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کی  جنگ جیتنے پر آزما رہے ہیں۔  یوں لگتا ہے  کہ  ملک کی  بظاہر طاقت ور اپوزیشن کی سیاسی محاذ پر ناکامی  کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان نے خود ہی اپنی حکومت کے خلاف ’اپوزیشن ‘ کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہؤا ہے۔

انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے  باوجود گزشتہ برس جب مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف نے اقلیت  میں ہوتے ہوئے بھی   غیبی امداد کے سہارے   حکومتیں بنانے میں کامیابی حاصل کرلی تو   عام طور سے دو باتیں  واضح سمجھی جارہی تھیں۔  ایک تو یہ کہ  تحریک انصاف نے اقلیتی پارٹی ہونے کے باوجود  چھوٹی پارٹیوں کے تعاون سے حکومتیں بنا تو لی ہیں لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اور پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی بڑی نمائیندگی کی وجہ سے ان حکومتوں کو ناکوں چنے چبوائے جائیں گے اور پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کو ’ٹف ٹائم ‘  ملے  گا۔  تاہم  اپوزیشن پارٹیاں   بین الجماعتی اختلافات  اور پارٹیوں کے اندر موجود گروہ بندی کی وجہ سے   الزام تراشی کے علاوہ کوئی خاص سیاسی چیلنج نہیں بن سکیں۔  گزشتہ ماہ کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والی ملٹی پارٹی کانفرنس  کے بعد خاص طور سے  یہ واضح ہو گیا تھا کہ اپوزیشن  اسمبلیوں  میں کثیر نمائیندگی اور حکومت کی سنگین معاشی  ناکامی  کے باوجود  تحریک  انصاف  کے لئے کوئی خطرہ بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اس حوالے سے دوسرا اہم نکتہ  یہ سمجھا جارہا  تھا کہ عمران خان برسوں کی جد و جہد اور خواہش کے بعد بالآخر ملک کے وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کی پارٹی کو تین صوبوں میں حکومت بنانے کے علاوہ سندھ میں ٹھوس نمائیندگی بھی حاصل ہوئی ہے ۔ اب وہ ان وعدوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے جو وہ دو دہائیوں سے عوام سے کرتے آئے ہیں ۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران تو انہوں نے ان وعدوں میں اتنی شدت پیدا کرلی تھی کہ  یوں لگتا تھا کہ برسر اقتدار آتے ہی  وہ ملک کی تقدیر بدل ڈالیں گے اور ایسے اہم فیصلے  اور تبدیلیاں کریں گے کہ  عام شہری سے لے کر معاشرے کے اعلیٰ طبقات تک کو نئی حکومت کی صلاحیت اور دیانت کا پتہ چل جائے گا۔

تحریک انصاف   کے  اقتدار میں   دس ماہ کے دوران اگر اپوزیشن اپنا آئینی اور سیاسی کردار ادا کرنے میں ناکام ہوئی ہے تو تحریک انصاف کی حکومتیں بھی ڈیلیور کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہی ہیں۔  اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے  تحریک انصاف  کےنمائیندوں نے  البتہ  پروپیگنڈا اور بیان  دینے کے  میدان میں بازی لینے کی  پوری کوشش کی ہے۔ عمران خان نے اس  شعبہ میں بلاشبہ اپنی پارٹی اور حکومت کی قیادت کا حق ادا کیا ہے۔  قوم سے خطابات کے سلسلہ کو کسی  ڈراؤنے  ڈرامے کی اقساط  کی طرح اپوزیشن کو  دھمکانے اور انتقام کی آگ کو تیز کرنے کے لئے یوں استعمال کیا گیا ہے کہ اب ملک کے سب سے بڑے عہدے دار کے یہ خطابات کسی المیہ  مزاحیہ ناٹک کا حصہ  لگنے لگے ہیں۔

معاشی شعبہ میں حکومت کی کارکردگی اب کسی تبصرہ و تجزیہ کی محتاج نہیں  ہے کیوں کہ ابھی تک کسی کو اس کے خدوخال اور اہداف کا علم نہیں ہو سکا۔ عمران خان  مالی امور کی اصلاح اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت  واپس لانے کے لئے جس ’ونڈر بوائے ‘ کو وزیر خزانہ کے طور پر لے کر آئے تھے اس کی اچانک اور ہتک آمیز طریقے سے علیحدگی  سے ہی  معاشی اصلاح کے دعوؤں کاپردہ چاک ہو چکا ہے۔ اب عمران خان جس معاشی ٹیم کے ساتھ کام کررہے ہیں وہ قومی اور عالمی اسٹبلشمنٹ کی نمائیندہ ہے اور انہی آزمودہ  طریقوں سے ملکی معیشت کو درست رکھنے کے منصوبے پر گامزن ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان اور اتنی ہی  مدت سے دنیا کے متعدد دوسرے ملکوں میں ناکام  ہوتے رہے ہیں۔

دنیا کا کوئی بھی ملک  اس وقت تک معاشی احیاکے سفر کا آغاز نہیں کرسکتا جب تک  قومی افہام و تفہیم کا ماحول  قائم کرکے ایسے بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہ کیا جائے جو قومی پیداوار میں اضافہ اور ملکی معیشت کا پہیہ رواں رکھ کر روزگار  کے مواقع  فراہم کریں  اور معاشرہ میں  انتشار کی بجائے سکون و اطمینان کے دور کا آغاز کرسکے۔ عمران خان اور ان کی حکومت  بیس برس اپوزیشن میں رہ کر اور دس ماہ   کے اقتدار کے باوجود یہ بنیادی نکتہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ معاشرتی بے چینی اپوزیشن کے لئے نہیں حکومت کے  لئے پریشانی اور ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ کیوں کہ بدامنی اور سیاسی فساد کے ماحول میں  سرمایہ کاری اور پیداوار   میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔

نعروں کے علاوہ تحریک انصاف کی معاشی حکمت عملی کی بنیاد چند قیاسات  پر ہے۔ ایک کے بعد دوسرے قیاس اور گمان کے غلط ثابت ہونے کے باوجود عمران خان اور ان کے ساتھی  نئے  خیالی تصور کو سنوارنے اور  اس کے پیچھے بھاگنے  کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت میں تو بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے لیکن  لوٹی  ہوئی دولت کی تلاش بھی جاری ہے اور ملکی دولت لوٹنے والوں کو انجام تک پہنچانے کا کام بھی پوری تندہی سے  ہورہاہے۔  ایک وقت تھا کہ اسد عمر برسر اقتدار آتے ہی بیرون ملک چھپائے گئے 200 ارب ڈالر واپس لاکر ملکی معیشت کو پہئے لگانے اور غیر ملکی قرضہ ادا کرنے کے خواب دکھایا کرتے تھے۔ اب عمران خان نے   ’ ضروری ایڈجسٹمنٹ‘  کرتے ہوئے  اس رقم کو دس ارب ڈالر قرار دیاہے لیکن سال ہونے کو آیا لوٹی ہوئی دولت کا ایک پیسہ  بیرون ملک سے تو واپس نہیں لایا جاسکا البتہ   آزمودہ  ٹیکس ایمنسٹی  اسکیم کے ذریعے   ملک کے شہریوں کو ترغیب، تحریص اور دھمکی کے ذریعے اپنے سارے خفیہ  اثاثے ظاہر کرنے کا موقع دیا گیا  ہے۔ اس اسکیم کی توسیع شدہ مدت آج ختم ہوگئی ہے ۔ چند روز میں یہ حقیقت بھی سامنے آجائے گی کہ اس انقلابی اقدام سے عمران خان کی نیک نام اور دیانت دار حکومت نے بجٹ کا کتنا خسارہ پورا کرنے کے لئے وسائل جمع کئے ہیں۔

عمران خان نے روز اوّل  سے یہ دعویٰ بھی کیا ہے  کہ ملک سے  ہر سال  10 ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک روانہ کئے جاتے ہیں۔ ان کی حکومت اس غیر قانونی ترسیل زر کو روک کر  قومی  بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔  تحریک انصاف کی حکومت نے دس ماہ میں اس شعبہ میں کیا کامیابی حاصل کی اس کا  حساب تو  پیش نہیں کیا جاسکا لیکن یہ سب کے علم میں ہے کہ آئی ایم ایف کے چھے ارب ڈالر کی امید کے علاوہ   سخی عرب دوستوں اور چین سے لئے گئی عبوری مالی سہولتوں یا قرضوں کا حجم دس ارب ڈالر سے زیادہ  ہے۔  

حکومت اگر اپنے  تخمینہ  کے مطابق منی لانڈرنگ روک کر ملکی وسائل کو زیر استعمال لانے میں کامیاب  ہوئی ہوتی تو اسے   مسلسل نئے قرضوں کی ضرورت  پیش نہ آتی۔   حکومت یہ  حقیقت  بیان نہیں  کرتی  کہ منی لانڈرنگ  کے قوانین،  فنانشل ایکشن ٹاسک  فورس ( ایف اے ٹی ایف ) کی بلیک لسٹ سے  بچنے کے لئے سخت کئے جارہے ہیں۔ البتہ  عمران خان اور ان کے ساتھی   ان قدامت کو سیاسی مخالفین  کا قافیہ تنگ کرنے کا طریقہ بتا کر ،  سیاسی   کشیدگی اور تصادم کا محاذ گرم  کرتے رہتے ہیں۔

اب وزیر اعظم نے  یہ حکم دیا ہے کہ    بدعنوانی کے مقدمات میں جیلوں میں بند اپوزیشن لیڈروں   کا ناطقہ بند کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ ان کی معاون  خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کابینہ  اجلاس کے بعد   اپنے مخصوص  چٹخارے دار  انداز میں   بتایا ہے کہ  وزیر اعظم نے حکم دیا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے لئے جیلوں کو  ’جہنم‘ جیسا بنایا جائے کیوں کہ یہ قوم کے لٹیرے ہیں۔ اس  بارے میں  ایک اقدام یہ تجویز کیا جارہا ہے کہ  نواز شریف کو گھر سے کھانا فراہم کرنے کی سہولت ختم کی جائے اور  ان سے اے کلاس  قیدی کی سہولت واپس لینے پر بھی غور کیا جائے۔  اس کے علاوہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کے  اسپیکر کو یہ ہدایت بھی کررہے ہیں  کہ وہ  بدعنوانی کے  الزامات میں گرفتار ملزموں  کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا بند کریں۔  قوم کی دولت لوٹنے والوں کو قومی اسمبلی میں تقریریں کرکے ہیرو بننے  کا موقع نہ دیا جائے۔ شاید یہ موقع عمران خان خود اپنی حکومت کے اقدامات  کے  ذریعے انہیں دینا چاہتے ہیں۔

جیسا کی دو روز قبل منشیات  کی روک تھام کے ادارے نے  مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ   سے کروڑوں کی منشیات  برآمد کرکے  انہیں  ’رنگے ہاتھوں‘  پکڑ لیا اور انہیں بیٹھے بٹھائے  اتنی شہرت مل گئی جو شایدوہ درجنوں بیان دینے اور متعدد پریس کانفرنسیں کرکے بھی حاصل نہ کرپاتے۔ ایسا ہی موقع پیپلز پارٹی کو فراہم کرنے کے لئے اسی شام آصف زرادری کا جیو ٹی وی  پر انٹرویو دوران نشریات  روک  دیا گیا۔ اب ملک  بھر میں ہاہا کار مچی ہے کہ یہ انٹرویو کس نے رکوایا اور اس میں ایسا کیا تھا کہ  حکومت بدحواس ہوگئی؟ یا  اسی وقت ایک دوسرے چینل پر وزیر اعظم  کے انٹرویو  کی طرف قوم کی توجہ مبذول کروانےکے لئے یہ کارروائی  ’ وسیع تر قومی مفاد‘  میں کی گئی تھی؟

آصف زرداری اور رانا ثنااللہ تو شاید حکومت کے بارے  میں کوئی ایسی بات نہ کرسکتے جو اس کی پوزیشن کو نقصان پہنچاتی لیکن عمران خان کی حکومت کے پاس چونکہ کرنے  کا کوئی کام نہیں ہے ، اس لئے وہ اب اپوزیشن کا کردار بھی خود  ہی ادا کرنے کا کھیل رہی ہے۔ آخر پاکستان میں جمہوری نظام  کام کررہا ہے۔ اپوزیشن نہیں ہوگی تو کیسے پتہ چلے گا کہ ملک میں سیاسی سرگرمیوں  کا حق اور اظہار کی مکمل آزادی   دی گئی ہے۔

یہ الگ بات ہے    یہ دونوں لبادے اس وقت صرف چہیتوں کے زیر استعمال ہیں۔ وہ چاہیں تو حکومت  کہلائیں اور ان کا دل کرے تو اپوزیشن کا کردار ادا کریں۔  مقصد تو ملک کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کرنا  ہی ہے۔

loading...