یہ کرپشن کیا بلا ہے ؟

پاکستانیوں کی زبان اس قدر خراب ہو گئی ہے کہ وہ عام بول چال میں کوئی ایک جملہ بھی صاف اور شُستہ اردو میں نہیں بول سکتے ہیں ۔ بات کرتے ہیں تو  آئی تھنک  سے  آغاز کرتے ہیں اور پھر اِف اور بٹ کی طرح کے کئی انگریزی پیوند لگا کر بات چیت کو لنڈے سے خریدی ہوئی گودڑی بنا دیتے ہیں ۔

 ایک اینکر خاتون اپنے پروگرام کا آغاز شروع کرتی ہیں ۔ کچھ لوگوں کا تلفظ سُن کر ہنسی نہیں بلکہ غصہ آتا ہے کہ اتنے بڑے جہلا پاکستانی میڈیا پر کیا کر رہے ہیں ۔ لیکن صاحبو ! یہ پاکستان ہے جس کے جیڈ کی طرح ایک ہزار شیڈ ہیں ۔ یہ معاشرہ نہیں مباشرہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی مباشرت کرتے ہیں اور ہر روز نئے نئے شطونگڑوں کو جنم دیتے رہتے ہیں ۔ یہاں ہر روز ہر شخص دن میں لفظ  کرپشن کی ایک ہزار تسبیحیں کرتا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ کرپشن ایک جدید فیشن کی طرح کی  کوئی سیاسی آئیڈیالوجی لگتی ہے جس نے بہت سے کاروباری خاندانوں کو نظریاتی بنا کر رکھ دیا ہے ۔

کرپشن کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ اردو ہماری قومی مادری زبان ہے کیونکہ قوم ہماری ماں ہے  جس کو اردو بولنے والی سیاسی ماں قرار دیا گیا ہے مگر ہماری چار اور علاقائی مائیں  بھی ہیں ۔ ایک پنجابن ، ایک سندھی ، ایک بلوچی اور ایک پشتون جن کی اکثریت کو اپنی ماں قوم کی زبان جو اردو  ہے نہیں آتی اور جنہیں اردو جاننے کا دعویٰ ہے وہ بھی اردو سے اتنے نابلد ہیں جتنے ہمارے سیاست دان سیاست سے بے بہرہ ہیں۔ اور تو اور کراچی کے سیاسی لوگ بھی اردو کم کم جانتے ہیں ۔

چند برس اُدھر کی بات ہے ، ہمارے  ڈاکٹر فاروق ستار بھائی سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے وفاقی وزیر ہوا کرتے تھے ۔ وہ ایک سیمینار میں اوسلو تشریف لائے۔  مجھے بھی اُس سیمینار میں اپنا راگ گانا تھا ۔ ہم ایس اے ایس ہوٹل کے آڈیٹوریم میں اگلی صف میں ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔ فاروق ستار بھائی اپنی تقریر کے نوٹ مجھے دکھا رہے تھے ۔ ایک جگہ لکھا تھا ، لا اقراء فی الدین ۔میں نے عرض کیا کہ حضور اس کا مطلب ہے دین میں پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ بھائی بولے ارے نہیں  ، اس کا مطلب ہے کہ دین میں جبر کی اجازت نہیں ۔ عرض کیا کہ تب تو لکھیں " لا اکراہ فی الدین " ۔ کہنے لگے ، " آر یو شوئر " اور اردو تمام ہو گئی ۔

یہ ہے ہماری قومی زبان کا اعلٰی سیاسی وفاقی معیار ۔ مگر ہم نے جان بوجھ کر اردو کو انگریزی اور علاقائی زبانوں کے ساتھ ملا کر چوں چوں کا مربہ بنا رکھا ہے اور یہ مربہ اتنا لذیذ ہے کہ ہم کھا کھا کر پاگل ہو گئے ہیں ۔ اب یہ نہ سمجھا جائے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ کراچی والوں کو اردو نہیں آتی ۔ کراچی میں میرے اردو کے پہلے استاد ابنِ صفی تھے جن کے جاسوسی ناول پڑھ کر میں نے اردو سیکھی ۔ پھر کراچی میں ساداتِ امروہہ کا گھرانا تھا ، جس کے سربراہ بھائی رئیس تھے ، سید محمد تقی اور میرے قطب جون ایلیا تھے ، یارِ خوش اطوارشکیل عادل زادہ تھے جن کی صحبت میں بھی  مجھے اردو سیکھنے کا موقع ملا ۔ شکیل بھائی ! میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں ، اگلی بار پاکستان آیا تو دست بوسی کے لیے حاضر ہوں گا ۔ 

تو سوال یہ ہے کہ ہم  مالی بد دیانتی  کو  کرپشن کے بجائے خیانت کیوں نہیں کہتے ۔ منی لانڈرنگ کا اردو متبادل کیوں استعمال نہیں کرتے ۔ ہم جو عربی کو اپنی مذہبی زبان کہتے ہیں ، اُس کے الفاظ کے استعمال کے بجائے ، جو اردو میں رچ بس جاتے ،  انگریزی کے لیے کیوں مرے جا رہے ہیں ۔ آخر ہم پاکستانی کیا چیزیں ہیں ؟

کرپشن کی تعریف جاننے کے لیے میں نے شفافیت کے عالمی ادارے کی میز کی درازیں ٹٹولیں تو مجھے کرپشن کی یہ تعریف ملی :

Corruption is the abuse of entrusted power to private gain. It can be classified as grand , petty and political depending on the amount lost and the sector where it occurs . Corruption corrodes the fabric of society , it undermines peoples trust in political systems, institutions and leaders. It can cost people their freedom , health , money and sometimes their lives.

Transperency International

جی ، سنا آپ نے ، یہ کرپشن کتنی خوفناک بلا ہے اور کس طرح معاشرے کے تاروپود کو اس کے تمام اداروں سمیت برباد کر دیتی ہے ۔ ہمارا میڈیا دن بھر کرپشن کرپشن چلّاتا رہتا ہے ۔ ملک کے سیاسی تاروپود کو کرپشن گھن کی طرح کھائے چلی جا رہی ہے مگر اس سوال  پر ہمارا میڈیا دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ نصف میڈیا کرپشن کا حامی ہے اور نصف اس کا مخالف ۔ کرپشن کی حمایت کرنے والے صحافیوں ، دانشوروں اور کرائے کے سوشل میڈیا کارکنوں کا موقف یہ ہے کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں اور جمہوریت کی بقا کے لیے اُن سیاستدانوں کا ساتھ دے رہے ہیں ، جن پر کرپشن کا الزام ہے ، یعنی وہ جو خائن ہیں ، جبکہ خائن کے لیے اللہ نے اپنی کتاب میں واضح ہدایات رقم کی ہیں اور متنبہ کیا ہے کہ :

" ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاؤ اور نہ اُسے حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصّہ ناجائز طور پر کھا جاؤ ، اور تم جانتے ہی ہو " ۔ البقر ۔ ۱۸۸

سُن لیا آپ نے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ یعنی اگر ان معصوم سیاست دانوں نے کوئی خیانت نہیں کی تو اسحاق ڈار  جیسا معصوم فرشتہ لندن میں کیوں چھپا بیٹھا ہے ۔ وہ واپس پاکستان آ کر اپنی بے گناہی ثابت کیوں نہیں کرتا ۔ ہائے بیچارہ اسحاق ڈار جو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں لندن میں خود ساختہ جلا وطنی گزارنے پر مجبور ہے ۔ اگر وہ بے گناہ ہے تو اُسے کاہے کا ڈر ۔

لیکن ساتھ ہی مجھے خوفِ خدا گھیرے ہوئے ہے کہ کہیں میرے قلم سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو کسی کے حق میں زیادتی پر مبنی ہو اور جس سے کسی کی حق تلفی ہو ۔ لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ الزامات ہوا میں تو نہیں اُگتے ، اور نہ ہی سقراط کے یونان  سے درامد ہوتے ہیں ، وہ تو انہی زمینوں میں اُگتے ہیں جہاں ہم خیانت کا حل چلاتے ہیں ۔ لو سنو ! اللہ میاں کیا فرماتے ہیں بیچ اس مسئلہ کے :

" اور جو لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ، اُن کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خُدا خائن اور مرتکبِ جرائم کو دوست نہیں رکھتا " ۔ المائدہ ۔ ۱۰۷

اور اسی پر بس نہیں  بلکہ یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ خیانت کیا ہوا مال واپس کرنا ہوگا :

" خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز لا حاضر کرنی ہو گی ۔ پھر ہر شخص کو اُس کے عملوں کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور نا انصافی نہیں ہوگی " ۔ آلِ عمران ۱۶۱

اور یہ قیامت کب ہوگی ؟ میں نے اقبال سے پوچھا تو وہ ترنت بولے ، ابے پنجابی ڈھگے !

" یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ ء محشر میں ہے

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے "

تب مجھے یاد آیا کہ اللہ نے بطورِ خاص یہ سندیسہ بھی دے رکھا ہے کہ :

" یہاں تک کہ جب ہم نے آسودہ حال لوگوں پکڑ لیا تو وہ اُس وقت تلملا اُٹھیں گے " ۔ المومنون ۶۴

اور میں بہت سے آسودہ حال لوگوں کو تلملاتے دیکھ رہا ہوں اور ساتھ ہی میڈیا کے آسمانی دیوتاؤں کی چیخ و پکار بھی سن رہا ہوں اور حیران ہوں کہ خیانت اور صحافت میں کون سا ربطِ خفی ہے ۔ وہ والا تو نہیں جس کا ذکے ہمارے الہ آباد والے اکبر نے کیا تھا :

چور کے بھائی گرہ کٹ تو سنا کرتے تھے

اب یہ سُنتے ہیں اڈیٹر کے برادر لیڈر

میں بھی صحافت کی آزادی کا قائل ہوں ۔ میرا ایمان ہے کہ اظہار اور رائے کی آزادی کو  باد و باراں  کی طرح آزاد ہونا چاہیے لیکن جمہوریت کے نام پر کرپشن کی بقا کی جانگ لڑنا ملک کے ساتھ غداری ہے ، قلم کی آبرو کا سودا ہے ۔ صحافت کے پیشے کی توہین ہے مگر جب سامنے ضمیر کی قیمت رکھی ہو تو محبت اور جنگ کی طرح قلم فروشی ایک مہذب اقدام اور ایک معزز پیشہ قرار پاتا ہے ۔ کمپنی بہادر کے زمانے کے برطانوی وزیرِ اعظم سر رابرٹ والپول نے کہا تھا کہ ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ادا کرنے کے بعد اُس سے ہر کام لیا جاتا ہے جس طرح میر جعفر اور میر صادق سے لیا گیا ۔ اقبال گواہ ہیں :

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگِ دنیا ، ننگِ دیں ننگِ وطن

اب آپ میرے بارے میں رائے قائم کر لجیے کہ میں پی ٹی آئی کا حامی اور فوج کا ثنا خواں ہوں ۔ اور اگر ہوں تو یہ حوالہ دیجیے کہ میں نے فوج اور عمران خان سے کون سی مراعات لیں ، کتنے پلاٹ لیے اور  کون سا سرکاری عہدہ بطور رشوت مجھے دیا گیا ہے یا میرے اکاؤنٹ میں کتنا حرام مال جمع ہوا؟

 ہاہاہاہا ۔ ارے نہیں بات صرف اتنی سی نہیں ، ابھی تو کہنے کی بہت سی باتیں اور بھی ہیں ۔ ( جاری ہے )

loading...