آدابِ حُکمرانی : یہ سیاستدان اور صاحبانِ اقتدار کیا کرتے ہیں ؟

یہ لوگ  مروجہ پُر اسرار  ووٹ سسٹم کے ذریعے خود کو ہر جائز اور نا جائز  جھرلو آثار طریقے سے منتخب کر کے عوام کے خُدائی فوجدار بن جاتے ہیں اور پھر اللہ دے اور بندہ لے ، وہ اپنے اور اپنوں کے لیےاعلیٰ تنخواہیں ، تحریری اور غیر تحریری مراعات اور اقربا پروری کے دروازے دریا دلی سے کھول دیتے ہیں ۔

 غریب عوام کا نام لے لے کر اپنے مالی اور کاروباری مفادات کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر کیوں ؟ اس لیے کہ ان جاگیرداری اور تاجرانہ مزاج کے حامل لوگوں کو دوسرا کوئی طریقِ کار ازبر ہی نہیں ، لہٰذا وہ اپنی نجی مفادات کی سیاسی حکمتِ عملی کی راہ پر چل پڑتے ہیں جہاں خوشامدی میڈیا ان بے مہار اونٹوں کے لیے حُدی پڑھتا رہتا ہے اور مراسیوں کی طرح بیلیں وصول کرتا اور اپنے پربھوں کا نام لے لے کر اُن کی شان میں قصیدے گاتا رہتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر یہ ضرب المثل صادق آتی ہے کہ :

کام کے نہ کاج کے ، دشمن اناج کے

اگر وہ سچ مُچ آدابِ حکمرانی سے واقف ہوتے تو پچھلے ستر سال میں مساوات اور انصاف کی بنیاد پر قانون کا پابند معاشرہ وجود میں آ چکا ہوتا ہے مگر شومئی ء قسمت سے وہ ایسا نہیں کر سکے اور وہ  اس لیے کہ وہ اپنی خاندانی سیاسی جاگیروں اور کاروباری فرموں کی دیکھ بھال ، ترقی اور پیش رفت میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ اُنہیں نظر ہی نہیں آتا کہ ملکی اداروں میں چھپے کرپشن ، غیر ذمہ داری اور بد نظمی کے سانپ بچھو معاشرے کو کس کس طرح سے اور کہاں کہاں ڈنک مار مار کر اپنا زہر پھیلا رہے ہیں ۔ چنانچہ ستر برس میں نہ تو ایک مستحکم معاشرہ تعمیر ہوا اور نہ ہی من حیث القوم  سب صوبوں کے پاکستانی ایک وحدت آشنا سیسہ پلائی  دیوار جیسی قوم بن سکے جو خود کو مضبوطی سے نظریہ ء پاکستان کی بنیادوں پر قائم رکھتی اور یہی وجہ تھی کہ1971 میں نظریہ ء پاکستان کے شیشے میں تریڑ آ گئی جسے اب ہم بھول ہی چکے ہیں کیونکہ تاریخ کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہمیں آتا ہی نہیں اور نہ ہی ہماری تربیت ہے کیونکہ ہمارے حکمران آدھے پاکستان میں رہتے ہیں اور باقی نصف لندن ، دوبئی ، امریکہ اور کنیڈا  میں رہتے ہیں ۔

یادش بخیر ، پی پی پی  کے عظیم مفکر اور بانی ذوالفقار علی بھٹو نے ستر کی دہائی میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا ۔ بھٹو صاحب تو اپنی نظریاتی جدوجہد کی قربان گاہ پر اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے ڑُخصت ہو گئے مگر عوام کو   جس خوش حالی کی نوید وہ دے گئے تھے ، اُس کو اُن کے جانشین رو بہ عمل نہ لا سکے ۔ کیا آصف زرداری صاحب کو  ، جن کا ذکر اُن کا بلاول بیٹا اب بھی صدر زرداری کہتا ہے ، اس بات کا علم ہے  کہ  سندھ کے تمام لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان  تا حال مہیا نہیں ہوا ، وہاں تو اب بھی اُن کی اپنی  ذاتی حکومت ہے ۔ مگر وہاں اب بھی لوگ عذیر بلوچ اور راؤ انوار کے مظالم کی دہشت سے کانپتے رہتے ہیں ۔

پاکستان کے لوگ روٹی ، کپڑا اور مکان کے ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے پاگل ہو چکے ہیں مگر اُن کی منزل ابھی نہیں آئی ۔ اُن میں سے بہت سے لوگ بلکہ ایک پوری نسل اس نعرے کا ورد کرتے کرتے مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکے ہیں مگر سوائے پارٹی لیڈروں ، اُن کے ذاتی محافظوں ، کارندوں ، خوشامدیوں اور قوالوں کے ، کسی کا بھلا نہیں ہو ا۔ اور جب صورتِ حال یہ ہو تو عوام کا حق بنتا ہے کہ پی پی کے اس فرضی بلکہ جعلی منشور کے خلاف ، جسے وہ پچھلے پچاس برس میں عملی جامہ نہیں پہنا سکے ، عدالتِ عالیہ میں نالش کریں اور پی پی کے لیڈروں اور بھٹو کے جعلی جانشینوں کا محاسبہ کریں ۔ لیکن بے چارے عوام میں اتنی سکت ، سوجھ بوجھ اور مجال کہاں ؟

دوسری طرف نون لیگ ہے جس نے سڑکوں ، پُلوں اور میٹرو کا قوم پر  بھاری احسان کیا ہے اور پاکستان کو ٹریفک کی موت کا کنواں بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں اتنی گاڑیاں ، موٹر سائیکلیں ، چنگچیاں اور رکشے ہیں کہ سڑکوں اور گلی کوچوں میں نہ صرف پیدل چلنے کی گنجائش نہیں بلکہ تل تک دھرنے کی جگہ نہیں رہی ۔ شہروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں اگر چہ  برسوں سے بد انتظامی کا پہرا ہے ہے مگر یہاں گُڈ گورننس کے کنکوے اُڑائے جاتے ہیں  اور سوائے نمائشی اقدامات کے کوئی ڈھنگ کا کام ہوتا ہی نہیں ۔

کسی ملک کی خوشحالی کا پیمانہ ، مالی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار نہیں ہوتے بلکہ عام آدمی کا معیارِ زندگی ، روزگار ، تعلیم اور صحت کی صورتِ حال ہوتی ہے ۔ بے روزگاری کی شرح اورمنڈی میں قیمتوں کا وہ نطام ہوتا ہے جو عام آدمی کو بنیادی ضرورتوں کے حصول میں سہولت فراہم کرتا ہے مگر پاکستان میں پچھلی تین چار دہائیوں سے ایسا کچھ نہیں  نظر آیا ۔ اگر کچھ ہے تو وہ خوش حالی کے اشتہارات ہیں ، سیاستدانوں کے بیانات ہیں ، ٹی وی کے ٹاک شوز اور لفافہ صحافیوں کے کالم ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان خوش حالی کے سبز باغوں میں مقیم ہے اور وہ سیاستدان جن کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مقدمات درج ہیں ، چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اگر اُنہوں نے ایک پائی کی کرپشن بھی کی ہو اور وہ ثابت ہو جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے ۔ جی ہاں مگر آپ نے سیاست کی ہی کب ہے؟  آپ نے سیاست کے نام پر ہمیشہ غیرقانونی طریقے سے کاروبار ہی کیا ہے ۔ تنخواہ نہیں لی مگر اپنے ذاتی اخراجات بلکہ اپنے محلات کو جانے والی سڑکیں تک عوام کی جیب سے بنوائی ہیں ۔

 یہ ہیں وہ مشکوک اور قبیح رویے جو پاکستانی معاشرت کو گھن کی طرح کھائے جا رہے ہیں ۔ ملک میں ہر عہد میں رشوت سکہ ء رائج الوقت رہا ہے اور اب بھی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ رشوت ستانی کی حقیقت کو بھانپ کر جنرل ضیا الحق خود سوز نے ایک بار کہا تھا کہ ملک میں رشوت اتنی عام ہے کہ اسے حقِ خدمت کہ کر قانونی تحفظ دے دینا ہی بہتر ہوگا ۔ اور یہی فارمولا کرپشن کا ہے کہ عسکری اور سول سیاستدان اتنے کرپٹ ہیں کہ اب کرپشن اور منی لانڈرنگ کو اُن کا آئینی حق قرار دے دینا چاہیے ۔ اور علماء کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ مال حلال کا ہو یاحرام کا کسی کو برا نہیں لگتا ۔ نہ میڈیا کے دانشوروں کو نہ مسجد کے قل اعوذیوں کو اور نہ ہی پیروں اور گدی نشینوں کو ۔ اُنہوں نے کبھی سنجیدگی سے قوم کی اخلاقی تربیت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ اُنہیں خدا کے راستے پر ڈالتے ۔ مگر وہ جو خود خُدا کے راستے پر نہ ہوں ، کسی دوسرے کو خدا کا راستہ کیسے دکھا سکتے ہیں ۔ اُن علماء نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کہ رشوت معاشرے سے دین کی جڑیں تک اکھاڑ دیتی ہے ۔ مگر علماء کو کیا ، اُن کے چولہے تو ہر سیاسی موسم میں جلتے ہیں ، گاڑیوں میں پٹرول موجود ہوتا ہے اور مٹھیاں گرم رہتی ہیں اس لیے وہ اس نظامِ رشوت پر اعتراض کیوں کریں گے ۔

اس وقت ملک پر بجٹ کی بلا نازل ہے جس پر سودے بازی کی سیاست ہو رہی ہے ۔ عوام دشمن بجٹ کا شور مچ رہا ہے مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس ملک میں عوام دوست بجٹ کب کب پیش کیے گئے جن کی برکات سے عوام خوش حالی کی جنت میں آسودگی کے محلات میں مقیم رہے ہوں ۔ ہر بجٹ ملک کے مراعات یافتہ طبقے کے بھلے کے لیے بنتا رہا ہے ۔ کوئی پوچھے کہ نون لیگ ، جی ایچ کیو لیگ  اور پی پی نے اپنے دور میں غریب لوگوں کے لیے کتنے مکانات بنائے تھے ۔ ستر سال کا ہر بجٹ حکمرانوں کے مفادات کا بجٹ تھا اور موجودہ بجٹ بھی انہی لوگوں نے بنایا ہے جن کی بجٹ سازی کی تربیت پچھلے ستر برس کی سیاسی تحریکوں نے کی ہے ۔

 یہ ملک جو خُداداد کہلاتا ہے ، یہاں خُدا کا کچھ بھی نہیں بلکہ سب کچھ اُنہی کا ہے جو اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں یعنی جی ایچ کیو ، عدلیہ ، بیورو کریسی اور اُن کے سیاسی گماشتے جو ملک کو اندھیروں کی طرف لیے چلے جا رہے ہیں۔ میرے قلم کی نوک پر خاک مگر اللہ اُن کی مدد نہیں کیا کرتا جو اپنی مدد آپ نہیں کرتے ۔ اور یہ بات حکمرانوں اور اُن کے آقاؤں نے پلے باندھ رکھی ہے اور وہ اثاثے جمع کرنے میں اپنی مدد آپ کے اصول پر سختی سے قائم ہیں  ۔ رہے عوام تو وہ جائیں بھاڑ میں ۔

loading...