بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کیوں؟

یہ جملہ بارہا دہرایا جاتا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں لیکن کیا کسی کو اس مستقبل کی فکر بھی ہے؟ دنیا کی تمام اقوام اپنے بچوں اور نوجوانوں کے تعلیم و تربیت کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔ ادب تخلیق کرنے والے بچوں کے لئے لکھتے ہیں جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھرپور سرپرستی اور معاونت کرتے ہیں۔

 سویڈن میں بچوں کی ادیب آسترید لیند گرین کے نام پربچوں کے لئے ہسپتال قائم ہے جو یورپ میں بچوں کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ ان کے نام پر ہرسال عالمی ادبی انعام دیا جاتا ہے اور بیس کرونا کے نوٹ پر ان کی تصویر سویڈش قوم کا بچوں کی اس ادیب کے لئے خراج عقیدت ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔اردو کا ایک دور تھا جب بڑے ادیب اور شعراء  بچوں کے لئے لکھا کرتے تھے۔ علامہ اقبال، مولانا الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی اور صوفی تبسم نے بچوں کے لئے لافانی ادب تخلیق کیا۔ ادب اطفال میں نصر ملک، رضا علی عابدی،  اشتیاق احمد، ابن صفی، حکیم سعید، مسعود برکاتی، امجد حسین حافظ کرناٹکی قابل ذکر ہیں لیکن اب بچوں کے لئے اردو میں بہت کم لکھ جارہا ہے۔

 لاتعداد ٹی وی چینل موجود ہیں لیکن ان میں بچوں کے لئے پروگرام بالکل شامل نہیں۔ اردو کے بڑے ادیب اور شعراء بچوں کے لئے لکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ قوم کے مستقبل سے اس لاپرواہی کا کسی کو احساس تک نہیں۔ بچوں اور نوجوان نسل کے لئے لکھا نہیں جائے تو ان سے کیا توقعات کیسے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ بہت سے بچوں کے رسالے ماضی کا قصہ بن گئے ہیں اور جو ہیں بھی وہ بہت مشکل سے اپنی اشاعت جاری رکھی ہوئے ہیں۔ بچوں کا دب ترقی کرے گا تو  ان کی قومی میں مہارت بہتر ہوگی اور معاشرہ ترقی و خوش حالی کی طرف گامزن ہوگا۔ اگر بچوں کے لئے ادب تخلیق نہیں کیا جاے گا تو بچوں کی دلچسپی ایسے کاموں میں ہوگی جو ان کی تربیت کے لئے مضر ہیں۔

اس صورت حال کی اصلاح کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ لکھاریوں کو اس طرف توجہ دینا ہوگی جبکہ حکومت کو ہر ممکن سرپرستی اور وسائل مہیا کرنا چاہیں۔ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو بچوں میں مطالعہ کے رجحان پیدا کرنا ہوگا۔یورپ کی طرح بچوں میں غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ کی روش کو فروغ دینا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں بچوں کے درمیان کتب بینی کے باقاعدہ مقابلے ہوتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنا کرادر ادا کریں اور بچوں میں کتاب پڑھنیکا شوق پیدا کرنے کے لئے سالگرہ اور دیگر مواقع پر کتابیں تحفہ میں دیں۔ ہر گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریر ی ہونی چاہیے جس میں بچوں کی کتابیں تسلسل کے ساتھ شامل ہونی چاہیں۔

یہ امر باعث صد مسرت ہے کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ اس قومی ادارہ کے تحت باقاعدگی سے بچوں کے لئے نئی کتابیں شائع ہو کر ملک بھر میں دستیاب ہیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں میں کتابوں کی نمائش کی جاتی ہے جس میں بچوں کی کتابیں بھی شامل ہیں۔بچوں کے ادیبوں کی عزت افزائی کی جاتی ہے اور انہیں تعریفی اسناد سے نوازا جاتا ہے۔ یہ سرکاری ادارے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سربراہی میں شاندار قومی خدمت سرانجام دے رہا ہے۔ بچوں کے لئے خوبصورت طباعت میں انتہائی کم قیمت میں کتابیں شائع کرکے اپنا قومی فریضہ بطریق احسن سرنجام دے رہاہے۔

راقم کے لئے یہ باعث فخر ہے کہ بچوں کے لئے دو کتابیں اس ادارہ نے شائع کی ہیں۔ بچوں کے لئے میری پہلی کتاب سبق آموز کہانیاں شائع ہوئی تو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتاب اس قدر مقبول ہوگی کہ اردو کے بعد اور بہت سی زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ دنیا بھر میں اس کوشش کوسراہا گیا اور”سبق آموز کہانیاں“  اردو،  انگریزی، عربی، فارسی، فرانسیسی، نارویجین، ہندی، بنگالی،گوجری اور ڈینش زبان میں شائع ہوچکی ہے جبکہ سویڈش، جرمن، جاپانی، روسی، ترکی، ہسپانوی، سندھی اور پنجابی زبانوں میں تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

   اردو میں بچوں کے لئے لکھی جانے والے شائد یہ پہلی کتاب ہوگی جس کے اتنی زیادہ زبانوں میں تراجم ہوئے اور شائع ہوئی ہے۔حکومت آزاد جموں کشمیر نے ایک سرکاری  نوٹیفیکیشن کے تحت اس کتاب کو تعلیمی اداروں اور لائیبریریوں میں رکھنے کے لئے منتخب کیا ہے۔ اخوت فاؤنڈیشن کے تحت پنجاب کے تین سو سے زائد سکولوں میں اس کتاب کو طلبہ کے تعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ دعوت فاؤنڈیشن پاکستان میں فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت مختلف دینی کورسز کا اہتمام کرتی ہے۔ سبق آموز کہانیاں کو دعوت فاؤنڈیشن نے بچوں کے لئے دینی اور تعلیمی کورسز کے لئے منتخب کیا ہے۔ بہت سے نجی تعلیمی اداروں نے بھی  سبق آموز کہانیاں کو بچوں کی تعلیم و تدریس کے لئے اپنے نصاب میں شامل کیا ہوا ہے۔ دور حاظر کے تقاضوں کے پیش نظر اس کتاب کا موبائل ایپ بھی آٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔ یہ ایپ ان تک ہزاروں کی تعداد میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔

 بچوں کے لئے راقم کی دوسری کتاب ” سبق آموز کہانیاں (۲)“  حال ہی میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع ہے۔یہ کتاب بچوں کے دین اسلام  کے بارے میں کیے گئے سوالات کے دلچسپ کہانیوں کی صورت میں جوابات ہیں۔ اس کتاب میں بیس کہانیاں شامل ہیں  جو مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں۔ قارئین کی حوصلہ افزائی اور بچوں کے مزید سوالات نے دوسری کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ بچوں کو اپنے ذہن میں آنے والے سوالوں کے مطمئن کردینے والے جوابات مل سکیں۔ اسلام اور رسول اکرم ﷺ کی سیرت سے وہ بہتر آگاہی حاصل کرسکیں اورعمومی امور کے بارے میں بچوں کی معلومات میں اضافہ ہو ا تاکہ وہ زندگی کی دوڑ میں کامیابی حاصل کرسکیں۔

 ان کہانیوں کو لکھتے وقت بچوں کی کردار سازی اور تربیت خصوصی طور پر مد نظر رکھا گیا ہے اور کوشش کی ہے کہ بچوں کے سیر ت وکردار کی تعمیر کی جاسکے۔تربیت کی ہمارے ہاں بہت کمی ہے اس لیے اگر بچپن ہی سے بچوں کی اچھی تربیت کی جائے تو وہ بڑے ہوکر اچھے انسان بنیں گے۔ امید ہے کہ یہ کتاب بھی بچوں اور والدین میں بہت مقبول ہوگی۔ بچوں کے لیے یہ دونوں کتابیں ایک طرح سے تعلیم و تربیت کا ایک مکمل نصاب ہیں۔ ان کے مطالعہ سے اگر کچھ بچوں نے بھی فائدہ ٹھالیا اور وہ  اچھے مسلمان او ر بہتر انسان بن کر زندگی کے سفر میں کامیاب رہے تو میں سمجھوں گا مجھے میری محنت کا ثمر مل گیا ہے۔ یہ کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد اور اس کے پاکستان بھر میں ذیلی دفاتر سے باآسانی صرف 150 روپے میں دستیاب ہے۔

loading...