سیان کا خفقان اور قرآن

سیان ناروے کی ایک تنظیم ہے جو اس خوف میں مبتلا ہے کہ مسلمان قوتیں ناروے کو اسلامیا رہی ہیں ، شاید اُنہیں اندیشہ ہے کہ ناروے جلد ہی اسلامی مُلک بننے والا ہے ۔

وہ ناروے کو اسلامیانے سے بچانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں ۔ اس عہد میں  دنیا بھر میں سیاسی حوالے سے اِسلام کی جو تصویر پینٹ کر کے مشتہر کی گئی ہے اُس میں دہشت گردی ، خود کُش بمباری ، گرجوں پر حملوں اور یورپ کے کئی شہروں میں پبلک مقامات پر جمع لوگوں پر گاڑیاں اور ٹرک چڑھا کر اُنہیں کچلنے کے افسوس ناک واقعات کی تفصیلات شامل ہیں ۔ اس آگ پر تیل چھڑکنے کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک میں 11 ستمبر اُن حملوں کو جواز بنایا گیا ہے جن میں عالمی تجارتی مرکز کی جُڑواں عمارتوں کو طیارے مار کر مسمار کردیا گیا تھا جس میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ۔

چنانچہ ناروے کے کچھ مہم جو اور بر خود غلط لوگ جو خود بھی خوف میں مبتلا ہیں اور عام شہریوں میں بھی ہراس پھیلا رہے ہیں جس کی سرپرستی  بعض سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں،  جن کے منشور  میں ناروے میں تارکینِ وطن کی آمد پر پابندی شامل ہے ۔ اور یہ لوگ اُن جماعتوں کے موقف کو تقویت دیناچاہتے ہیں ۔ چنانچہ اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک تنظیم بنائی گئی ہے :

SIAN

STOPP ISLAMISERING AV NORGE

ناروے کو اسلام زدگی سے بچانے کی تنظیم

لیکن دوسری طرف مسلمان ہیں جن کا اپنا دُکھ ہےکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد اسلامی ممالک جن میں صدام کا عراق ، معمر القذافی کا لیبیا اور بشر الاسد کا شام سرِ فہرست ہیں ، امریکی اور یورپی عیسائی حکمرانوں نے ملی بھگت سے تباہ کر دیے ہیں ۔ اصل حقیقت خواہ کچھ بھی ہو مگر عام مسلمان یہی سمجھتا ہے اور اس موقف کو درست قرار دیتا ہے ۔ یورپ اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر مسلمان مسافروں سے ناروا سلوک کیا گیا ، جس کے ردِ عمل میں مائی نیم از خان جیسی فلمیں بھی تخلیق ہوئیں ، گرجوں پر حملوں کے جواب میں مساجد پر حملے کیے گئے ، مسلمانوں کی روایات کی تضحیک کی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناقابلِ برداشت خاکے بنا کر  سادہ لوح مسلمانوں کو ذہنی اذیت کی سزا دی گئی  ۔

 ایک امریکی عیسائی پادری نے تو ایک بار قرآنِ کریم کا نسخہ پبلک کے سامنے نذرِ آتش کرنے کا بھی اعلان کیا تھا مگر یہ تسلیم کرنے کی ہمت ہم میں ہونی چاہیے کہ اس نظریاتی جہالت اور روحانی نابینا پن کے مریض دونوں طرف موجود ہیں ۔ اور اب تازہ ترین واردات یہ ہے کہ دو دن پہلے گزشتہ سنیچر کے روز سیان تنظیم کے لیڈروں اور پرچارکوں نے قرآنِ کریم کا نسخہ  نعوذ باللہ زمین پر دے مارا ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔

یہ کم ظرفی اور مذہبی تعصب  کا وہ اظہار ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ یہ درامن کے  ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو دکھانے کا شرمناک واقعہ ہے ۔ تاہم پولیس نے بروقت کاروائی کر کے اس مظاہرے کو وقت سے پہلے ہی ختم کردیا اور مظاہرین کو گھر چلے جانے کا حکم دے دیا ۔ یہ وہ واقعہ ہے جو اپنے پیچھے بہت سے سوالات  چھوڑ گیا ہے جن میں سرِ فہرست یہ وارننگ ہے کہ فاعتبرو یا اولی الابصار ۔ اے آنکھوں والو ! عبرت پکڑو ۔ اچانک اقبال بیچ میں مداخلت کرنے لگے ہیں ۔ وہ کہہ رہے ہیں :

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

آج کے مسلمان کے لیے قرآن صرف ایک ایسی دینی علامت  ہے جس کی ناظرہ تلاوت اُس کی مسلمانی کی واحد سند ہے ورنہ اعمال کا خانہ بالکل خالی ہے ۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں جب قرآنِ حکیم کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ہم ایک طرح سے اسے نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور ہم اپنے رب کے کون کون سے احکامات کی خلا ف ورزی کرتے ہیں ، اُس میں سرِ فہرست غیبت ہے جسے قرآنِ حکیم نے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا اور یہ مسلمانوں کے ہر طبقے کی مرغوب غذا ہے جس میں کیا علمائ ، کیا دانشور ، کیا فن کار ، کیا سیاست دان اور کیا اساتذہ سب شامل ہیں اور ہم یہ  لذیذ ڈِش ہر روز بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔

ہمیں حکم ہے کہ لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے بات کرو مگر گالی ہم میں سے بیشتر کا تکیہ کلام ہے ۔

ہمیں سورہ حجرات میں حکم دیا گیا ہے :

" مومنو!  کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اُڑائے ، ممکن ہے وہ لوگ بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ، ممکن ہے کہ وہ اُن سے اچھی ہوں ۔ اور عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دسرے کے برے نام رکھو ۔ اہلِ ایمان کے لیے برا نام رکھنا گناہ ہے ۔ اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں " ۔ الحجرات ۔ ۱۱

کیا ہم ان احکامات پر من و عن عمل کرتے ہیں یاان احکامات کو ہوا میں اُڑا دیتے ہیں ۔ قرآن حکیم کے احکامات پر عمل پیرا نہ ہونا قرآن سے اپنا رشتہ توڑنا ہے ۔ زبانی اقرار کی قلبی تصدیق کے بغیر کوئی حیثیت نہیں ۔ کتاب اللہ میں تو واشگاف لکھا ہے کہ جس بات پر تمہارا عمل نہیں اُس کو زبان پر نہ لاؤ ، جس کا مطلب صاف صاف یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی سی زندگی بسر نہیں کرتے ، قرآن کے احکامات پر نہیں چلتے تو خود کو مسلمان نہ کہو کیونکہ کتاب اُس کی ہے جو اُس پر عمل پیرا ہو ۔

 جو خود کتاب کے احکامات پر نہ چلے کتاب اُس سے ناتا توڑ لیتی ہے ۔ تو جس کا کتاب سے ناتا نہیں وہ بدبخت ہے۔ اور اُس کو سزا دینے کے لیے ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو گزشتہ روز درامن میں ہوا ۔ وما علینا الالبلاغ

loading...