عقل چو، سیلفی اور آثار قدیمہ

 

فریب کشمکش عقل دیدنی دارد
کہ میر قافلہ و ذوق رہزنی دارد
اقبال
میں جب اتنے سارے خواتین و حضرات کو اپنے اپنے موبائل سے سیلفی بناتے دیکھتا ہوں تو مجھے ذرا بھی تعجب نہیں ہوتا چونکہ مجھے یقین ہے کہ ان سب کے عقل داڑھ نہیں آئی ہے۔

عقل داڑھ بھی عجوبہ ہفت میں سے ایک ہی ہے۔ جب انسان پچاس کے اوپر کا ہوجائے تو داڑھ نکلتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ کم از کم اردو زبان میں ۔۔۔ کہ عقل چو نکل رہی ہے۔ حالانکہ سوچنے کی بات ہے کہ اس عمر میں عقل آنے سے عقل کا نہ آناہی بہتر ہے۔ کم ازکم اب تک کی جانے والی بیوقوفیوں پر شرمندگی سے تو بچا جا سکتا ہے۔

مگر دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام عمر بیوقوفی میں تو نہیں گزاری جا سکتی۔  عقل کی داڑھ کا آجاناہی بہتر ہے۔ اب پتہ نہیں میں درست ہوں یا میرے دوست ۔ اور تعجب نہیں کے میرے یہ سارے دوست عقل داڑھ سے محروم ہی ہوں۔

میں سمجھتا ہوں عقل داڑھ آنے کا اور کوئی نقصان ہو نہ ہو سلفی اسٹک بنانے والوں کا بہت نقصان ہوگا۔ ویسے آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ جس دور میں ہم زندہ ہیں اس کے گزر جانے کے بعد جب اس دور کو آثار قدیمہ والے کھود کر دریافت کریں گے اور اتفاق سے سلفی اسٹک کو کھود کر نکالیں گے تو وہ کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟ کہ یہ اسٹیک کس کام آیا کرتی ہوگی؟

اس دور کے انسان اتنے نازک اندام تو تھےنہیں کہ جنہیں یہ نازک اسٹک سہار سکے۔ پھر اس دور کے لوگ یہ اسٹک کس مقصد کے لیے استعمال کر تے تھے۔ ایسی مارا ماری بھی نہیں تھی اس دور میں کہ صرف اسٹک سے ہی مار کر چین سے بیٹھ جاتے ہوں ورنہ میزایل اور مارٹر بھی کھودائی میں نہ دریافت ہوتے۔ اور دریافت ہی کیوں ہوتے اگر یہ زندہ ہی رہتے تو۔ اور یہ اسلحے بھی کھدائی میں نہ ملتے ۔

یعنی سیلفی اسٹک اگلے وقتوں کے آثار قدیمہ کے لوگوں کی خاص دلچسپی کا باعث ہوگی۔ جیسے آج کل آثار قدیمہ کے نوادرات میں گھگو گھوڑے کی دریافت سے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اگلے وقت کے لوگ کھیل کود کے رسیا نہیں تھے بلکہ کھیتی باڑی میں گھوڑوں سے کام لیتے تھے۔

 شاید ماہرین آثار قدیمہ کے بھی عقل چو نہیں نکلی ورنہ وہ اصل حقیقت تک ضرور پہنچ جاتے۔ ویسے اگر ان کی عقل چو نکل چکی ہوتی تو کیا وہ واقعی ویرانے میں جاکر کھدائی کرتے؟

 

loading...