زندہ ہے ، زندہ ہے جالب زندہ ہے

یہ پینسٹھ کی جنگ کے اختتام کے بعد پہلے موسمِ سرما کی بات ہے ، جب میں کراچی میں جون ایلیا کو الوداع کہ کر لاہور پہنچا  اور لاہور کے ترقی پسندوں ، سُرخوں اور کامریڈوں سے "ہیلو ہائے" کا آغاز ہوا ۔

 تب تک بھٹو کے حوالے سے " ایشیا سُرخ ہے " کا نعرہ رائج نہیں ہوا تھا ۔ البتہ بائیں بازو کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی روس نواز اور چین نواز کے خانوں میں بٹ چکی تھی ۔یہ 1966 کی جنوری کی ایک ٹھنڈی ٹھار صبح تھی ۔ بھاٹی دروازے کے باہر سرکلر روڈ پر نگار سنیما کے سامنے راؤنڈ اباؤٹ کے بیچوں بیچ نیشنل عوامی کی کارنر میٹنگ تھی جہاں پہلی بار حبیب جالب کو دیکھا  ۔ کھادی کا کُرتا پاجامہ ، مہین کپڑے کی صدری ، پاؤں میں انگوٹھے والی چپل اور سر کے گرد بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے بال ۔ جب اُنہوں نے نظم آغاز کی اور تلنگ میں تان اُڑائی تو چلتے ہوئے تانگے رُک گئے ۔ کوچوان سمجھ گئے کہ جالب اُنہی کی بات کر رہے ہیں :

کھیت وڈیروں سے لے لو

ملیں لُٹیروں سے لے لو

مُلک اندھیروں سے لے لو

رہے نہ کوئی عالی جاہ

پاکستان کا مطلب کیا

لا الہ الاللہ

کارنر میٹنگ ختم ہوئی تو میں نے جالب کو جا لیا ۔ ہاتھ ملایا اور درخواست کہ وہ مجھے یہ نظم لکھ دیں اور میں نے اپنی بغل میں دبی نوٹ بُک نکالی اور اُس پر پین رکھ کر جالب کو پیش کردیا ۔ جالب نے چند سیکنڈ نوٹ بُک اور قلم تھامے رکھا اور پھر  دونوں چیزیں مجھے واپس کر دیں ۔ میری درخواست رد ہوگئی تھی ۔ یہ جالب سے میری پہلی ملاقات تھی لیکن جالب کی مجھ سے ملاقات نہ ہو سکی ۔ اگلے اتوار کو حلقہ ء اربابِ ذوق کے جلسے میں جالب نے مجھے لڑتے جھگڑتے دیکھا اور بحث کے ختم پر وہ میرے پاس آ بیٹھے اور صرف اتنا کہا ، " ارے بھائی ، تم تو ۔۔۔"

اور پھر میرا بازو تھام کو بولے ، " مجھے سانس دلانے والا کوئی تو ہے " اور تب سے جالب کی زندگی کے آخری ایام تک جالب سے میرا دوستی اور ہم مکتبی کا نظریاتی رشتہ قائم رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ لندن کے کرامویل ہسپتال میں زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہے تھے ، میں اُن کے آس پاس ہی رہا ۔ روز اُن کی عیادت کی اور اب جب کہ جالب ہمارے درمیان طبعی طور پر موجود نہیں ہیں میری اور اُن کی دوستی ترپن سال کی ہو چکی ہےلیکن جالب کی شاعری سے جو رشتہ اُن کے تغزل کی بنیاد پر استوار ہوا وہ آج بھی اس غزل کے روپ میں میرے کانوں میں رس گھولتا رہتا ہے :

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

ہم نے سُنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں

دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

اُس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

یہ جالب کی وہ خوبصورت غزل ہے جس نے اُسے سُخن کے دیوانے نوجوانوں کا محبوب بنا دیا تھا ۔وہ درد میں ڈوبی سُریلی تانیں اُڑاتا تو اُس کی آواز سماعتوں کے بند دریچے کھولتی دلوں کے پاتال میں اُتر اُتر جاتی ۔اُن دلوں میں جن سے جالب کو محبت تھی ۔ اُن غریب عوام کے دلوں میں جن سے جالب کو والہانہ عشق تھا ۔ وہ غریب عوام جنہیں دو وقت کی روٹی بھی سہولت سے میسر نہ تھی ۔ اور وہ جھونپڑیوں ، ویرانوں اور مزدور بستیوں میں سسک سسک کر زندگی کے دن گننے کو زندگی سمجھتے تھے جب کہ ملک چند گھرانوں کی مقبوضہ کالونی بن کر رہ گیا تھا ۔ یہ خود ساختہ فیلڈ مارشل کا زمانہ تھا جو پینسٹھ کی ناکام جنگ کا کمان دار تھا اور ناکامی یہ تھی  کہ یہ ایک لا حاصل جنگ تھی :

لا حاصلی ہی شہر کی تقدیر ہے منیر

باہر بھی گھر سے کچھ نہیں اندر بھی کچھ نہیں

جالب اُن غریب عوام کی حالتِ زار دیکھ کر تڑپتا تھا جو ایوب خان کی بنائی ہوئی کنوینشن لیگ کی فرضی جمہوریت کی چکی میں پِس رہے تھے ۔ چنانچہ اُس نے قلم اور سُخن کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر فوجی آمر کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا ۔ اُس نے کہا :

بیس گھرانے ہیں آباد

اور کروڑوں ہیں ناشاد

ملک کے دشمن کہلاتے ہیں

جب ہم کرتے ہیں فریاد

صدر ایوب زندہ باد ، صدر ایوب زندہ باد

ایوب خان کو بڑا غُصہ آیا  اور اُس نے جالب سے بدلہ لینے کی ٹھانی ، اُس نے جالب پر انتہائی اوچھا وار کیا اور وہ اس طرح کہ اپنے ایک پالتو لاہوری بد معاش وارث کو جالب پر چھوڑ دیا جس نے جالب کے خلاف پولیس میں رپٹ درج کروائی کہ جالب اُسے قتل کرنا چاہتا ہے اور اُس نے وارث پر قاتلانہ حملہ کیا ہے ۔ فوجی آمریتیں اور اُن کے سول گماشتے معاشرے کے آزادی پسند سرپھروں کو دھونس اور دہشت کے ہتھیاروں سے ڈرا دھمکا کو اپنے بس میں کرنے کے کوشش کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں بدمعاش فورس منظم کی جاتی ہے ۔ ایوب خان کے زمانے میں لاہور کا ایک اور بدمعاش اچھا شُوکر والا بھی بہت مشہور ہوا تھا ۔ اُس کے بعد حافظ صمد سے لے کر گلو بٹ تک بدمعاش شاہی کی تاریخ کے الگ الگ مگر مربوط ابواب ہیں جو ایک ہی "نظریے " کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اور ان بدمعاشوں کے ذکر میں ان کے سندھی ہم منصب عزیر بلوچ کا نام بھی آتا ہے مگر ان بدمعاشوں کے سرپرست اتنے طاقتور ہیں کہ وہ فوجی اسٹبلشمنٹ کو بھی للکارنے کی ہمت کر لیتے ہیں خواہ اس کے بعد بھاگ ہی کیوں نہ جائیں ۔ لیکن جالب ان کی دھمکیوں کے باوجود ظُلم اور نا انصافی کے خلاف اپنے محاذ پر ڈٹا ہوا تھا ۔ چنانچہ اُن نے ایوانِ صدر کی طرف مونہہ کر کے توپ داغی :

بیس روپیہ من آٹا

اِس پر بھی ہے سناٹا

گوہر ، سہگل ، آدم جی

بنے ہیں برلا اور ٹاٹا

گوہر ایوب ، سہگل اور آدم جی تو صرف تین نام ہیں ۔ لیکن انہی پر بس نہیں ۔ پاکستان میں چند گھرانوں کو اقتدار کا سرچشمہ بنانے کا کام ایوب خان نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا ۔ اُس کا مغربی پاکستان کا گورنر ملک امیر محمد خان آف کالا باغ بھی ایک سیاسی گاڈ فادر تھا جو اپنے بیٹے کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتر گیا تھا ۔ اُس نے فلمی ادکارہ نیلو کو سرکاری محفل میں رقص سے انکار پر اغوا کروا لیا تھا جس پر نیلو نے خود کُشی کی  کوشش کی تو جالب نے احتجاجی نظم لکھی جو بعد میں فلم زرقا کا گیت بنی۔ اور یہ گیت آپ سب کو ضرور یاد ہوگا :

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

یہ نظم جب لکھی گئی تو اس کے آغاز میں ایک عربی مصرعے کی ضرورت تھی ، جسے ہمارے حُسنِ آوارگی کے ایک دوست حافظ محمود مرحوم نے پورا کیا اور وہ مصرع تھا :

یا زرقا ! قم الی الرقص

ان آمروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے ملی بھگت سے ملک میں اقتدار کو اس کے اصل سر چشمے "عوام "سے چھین کر جس طرح چند گھرانوں کو تفویض کردیا تھا ، وہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ آج بھی زرداری خاندان ، شریف خاندان ، باچہ خان خاندان ، بُگٹی خاندان  ، مزاری خاندان ، لغاری خاندان اور مہاجر خاندان طاقت کے سرچشمے کے غاصب ہیں ۔ ان خاندانوں کے لیے عوام کی حیثیت کاغذ کے اس پرزے سے زیادہ نہیں جس کو ووٹ کہتے ہیں ، اورجسے وہ اپنے بدمعاشوں اور نظام کے شعبدہ بازوں کے ذریعے لوگوں سے چھین لیتے ہیں اور پھر اپنے کرپشن کے ہتھکنڈوں سے عوام کو مہنگائی اور بد امنی کی چکی میں پیستے رہتے ہیں ۔ ان خاندانوں کے علاوہ جی ایچ کیو خاندان ہے جو سیاست کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ہے اور اب بھی ہے ۔ جالب نے ان کے بارے میں کیا ہی خوبصورت بات کہی ہے :

پگاں اپنے گل وچ پالوو ، ٹُرو پیٹ دے بھار

چڑھ جاوے تے مشکل لہندی بُوٹاں دی سرکار

ایوب خان کا عہد ختم ہوا اور جب پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جانے لگی تو حبیب جالب نے بھٹو کا والہانہ خیر مقدم کیا اور کہا :

منتظر ہے تری ، دیس کی ہر گلی ، ذوالفقارِ علی

اور جب پی پی پی عوامی تحریک کا دودھ پی کر جوان ہوئی تو جالب کی جگہ حنیف رامے  اور کوثر نیازی نے نظریاتی باگ ڈور سنبھالی ۔ اگرچہ پارٹی میں ملک معراج خالد جیسے روشن خیال لوگ بھی شامل تھے ، جنہوں نے عوامی فکری محاذ قائم کر کے عوام کی ذہنی اور فکری تربیت کی مگر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ٹولے نے پی پی کو ہائی جیک کرلیا اور پھر فکری قیادت مفاد پرستوں اور ابن الوقتوں کے ہاتھ میں آگئی ، پارٹی اپنا اصل منشور عملاً بھول گئی اور صرف نعرہ زن جماعت بن کر رہ گئی ۔ اور جالب اپنے رستے کا پھر یکہ و تنہا مسافر بن کر رہ گیا ۔جالب کے دشمن ہر شعبے میں تھے جو اسے تنقہد کے تیروں سے چھلنی کرتے رہتے تھے ۔ مجھے اس وقت  اپنے ایک مشفق و مہربان  بزرگ دوست حفیظ جالندھری یاد آ رہے ہیں جو جالب کو ملک دشمن سمجھتے تھے اور اُس کی وجہ جالب کی وہ نظم تھی جس کا موضوع حفیظ صاحب تھے ۔ نظم ملاحظہ فرمائیے:

میں نے اُس سے یہ کہا

یہ جو دس کروڑ ہیں

جہل کا نچوڑ ہیں

دس کروڑ یہ گدھے

جن کا نام ے عوام

کیا بنیں گے حکمران

چین اپنا یار ہے

جس پہ جاں نثار ہے

پر جو اُس کا ہے نظام

اُس طرف نہ جائیو

میں نے اُس سے یہ کہا

حفیظ جالندھری صاحب ایوب خان کے مشیر تھے اور اُنہوں نے ایوب کو جمہوریت کی جو پٹی پڑھانے کی کوشش کی تھی ، جالب کی نظم اُس پر مبنی تھی ۔ اس نظم کو حفیظ صاحب وہ بچھو سمجھتے تھے ، جس نے اُنہیں ڈس لیا تھا ۔ چاناچہ وہ برملا کہتے کہ وہ تو جالب کو جانتے تک نہیں حالانکہ حبیب جالب بھی جالندھر کے موضع بستیاں کا رہنے والا جالندھری ہی تھا مگر یہ جالندھریت حفیظ صاحب سے اُس کی دوستی کا حوالہ نہ بن سکی ۔

جالب اپنے ضمیر کی آزادی کا واحد سُریلا مُغنّی تھا جو زندگی بھر آزادی ، محبت ، انصاف اور مساوات کے گیت گاتا رہا ۔ وہ عمر بھر لاہور کے کوچہ و بازار میں پیدل پھرا جس کے پاس سائیکل تک نہ تھی مگر جب وہ اپنے انگوٹھے والی چپل پہن کر چلتا تو اس کے پاؤں کی آہٹ سے آمریتوں کے محلات کے کنگرے تک لرز جاتے تھے ۔ جالب نے اپنی زندگی ایک د رویش اور فقیر کی طرح بسر کی ۔ نہ محل خریدا نہ کار لی اور نہ ہی بچوں کے لیے دولت کا اثاثہ چھوڑا مگر اُس کا وہ اثاثہ جسے غیرت ، حمیت اور ضمیر جیسے کئی نام دیے جا سکتے ہیں ، سیم و زر کے تمام اثاثوں سے قیمتی ہے ۔جالب فقر و درویشی کا وہ سلطان ہے جو تاریخ کے اوراق میں عوامی ہیرو کی طرح زندہ رہے گا ۔ آج جالب سے میری ملاقات کو نصف صدی سے زیادی کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن جالب کی جالبیّت توے سے اُتری گرم روٹی کی طرح خستہ اور تازہ ہے۔ جالب جیسے لوگوں کے بارے میں بُلھے شاہ نے کہا تھا :

بُلھے شاہ اسیں مرنا ناہیں ، گور پوے کوئی ہور

گویا

کل بھی جالب زندہ تھا ، آج بھی جالب زندہ ہے

loading...