سعودی عرب جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنی حفاظت کرے گاَ: شہزادہ محمد بن سلمان

  • اتوار 16 / جون / 2019
  • 700

سعودی ولی عہد شہزادہ  محمد بن سلمان کا ہے  کہ سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کی صورت میں اپنی خودمختاری، مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پس و پیش سے کام نہیں لے گا.

ایران کے ساتھ تنازعہ پر ایک انٹرویو میں انہوں نے خلیج میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے۔ سعودی عرب نے جمعرات کو خلیج اومان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج اومان کی سیکورٹی بڑھانے اور تیل کی باحفاظت ترسیل کے لیے عالمی قوتوں کو فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔

جمعرات کو خلیج اومان میں جاپان اور ناروے کے آئل ٹینکرز پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مئی میں متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار جہازوں میں تخریب کاری کی گئی تھی۔ امریکہ اور سعودی عرب نے اس تخریب کاری کا الزام بھی ایران پر عائد کیا تھا جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرکاری اخبار 'الشرق الوسط' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ کارروائی کا ذمہ دار ایران ہے، حالیہ حملے فیصلہ کن عالمی ردعمل کے متقاضی ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی ترسیل، منڈیوں میں استحکام اور صارفین کا اعتماد بحال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں ایرانی کشتیوں کو ایک تیل بردار جہاز سے بارودی سرنگ اتارتے دیکھا گیا تھا۔ امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ یہ کارروائی ایران کے پاسدران انقلاب نے کی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا چکے ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ حالیہ حملوں کے بعد ایران کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔

ایران ان تمام الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ ایران نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ اگر حالیہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں اس کی تیل کی برآمدات رک گئیں تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔

loading...