وفاقی وزیر کا اینکر کے منہ پر تھپڑ

  • ہفتہ 15 / جون / 2019
  • 570

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور بول ٹی وی کے اینکر سمیع ابراہیم کے درمیان گذشتہ شب ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد متعدد صحافیوں نے وفاقی وزیر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سینئیر صحافی مظہر عباس نے ٹویٹ کیا کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا سینئیر صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنانا قابل قبول ہے۔ ہم یہ کس طرح کا کلچر پروان چڑھا رہے ہیں۔ اگر سمیع کے ساتھ فواد چوہدری کا کوئی مسئلہ ہے تو انہیں قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ میں سمیع ابراہیم سے بہت سے ایشوز پر اتفاق نہیں کرتا لیکن ان کے منہ پر تھپڑ سب صحافیوں کے منہ پر تھپڑ ہے۔

فواد چوہدری نے صحافی عارف حمید بھٹی کے ایک ٹویٹ، جس میں انہوں نے اس تھپڑ پر سخت رد عمل دیا تھا،  کا جواب دیا اور امیر اینکرز کے ساتھ اظہار یکجہتی پر سوال اٹھایا۔ فواد چوہدری کے جواب پر صحافی رؤف کلاسرا نے رد عمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کو کہا کہ وہ سمیع ابراہیم سے یہ جنگ ہار گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ شب فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب میں جب فواد چوہدری اور سمیع ابراہیم کا آمنا سامنا ہوا تو فواد چوہدری نے سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا۔

بی بی سی نے اس جھگڑے کے محرکات جاننے کے لیے فریقین سے بات کی تو فواد چوہدری نے بتایا کہ جب تقریب میں سمیع ابراہیم سے ان کا سامنا ہوا تو انہوں نے اشتعال میں آ کر تھپڑ مار دیا۔

ٹی وی اینکر سے جھگڑے کا پس منظر بتاتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے حکومتی اشتہارات کو سٹریم لائن کیا اور رییٹنگز کے مطابق A,B, C اورD کیٹیگیز بنائیں۔ اس تبدیلی سے حکومتی اشتہارات کے اخراجات میں 70 فیصد کمی آئی۔ اب چینلز میں دوڑ تھی کہ ہمیں A یا B کیٹیگری میں رکھیں۔ سمیع ابراہیم نے مجھے کہا کہ ہم نے آپ کی بہت خدمت کی ہے ہماری کیٹگری A کریں اور ساتھ ہی دو کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا بھی کہا۔ میرے انکار کے بعد ایک مستقل مہم میرے خلاف شروع کر دی گئی جو بلیک میلنگ کی شکل اختیار کرگئی تھی۔‘

ادھر سمیع ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات وہ ایک شادی کی تقریب کے دوران فیصل آباد سے تحریک انصاف کے ایم این اے فرخ حبیب، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، دو صحافی رؤف کلاسرا اور ارشد شریف کے ساتھ کھڑے گپ شپ کر رہے تھے۔  سمیع ابراہیم کا موقف ہے کہ ’مجھے تقریب میں کسی کی پنجابی میں گالیاں دینے کی آواز آئی۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وفاقی وزیر فواد چوہدری میرے قریب پہنچ چکے تھے اور بغیر کوئی بات کیے میرے منہ پر زور کا تھپڑ دے مارا جس سے میری عینک بھی زمین پر گر گئی۔ تاہم میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحث کے دوران سمیع ابراہیم کو جو تھپڑ مارا ہے وہ صحافت کے منہ پر نہیں بلکہ زرد صحافت کے منہ پر طمانچہ تھا۔ سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا جس پر انہوں نے مقامی پولیس کو ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔ ’تاہم پولیس نے مجھے بتایا ہے کہ درخواست پر فوری کارروائی ممکن نہیں ہے۔‘

فواد چوہدری کے الزامات کے جواب میں سمیع ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ایک ملاقات کے بعد فواد چوہدری کو یہ تجویز ضرور دی تھی کہ ٹی وی ریٹنگ سے متعلق کوئی پیمانہ ضرور ہونا چایے تاہم انہوں نے دو کروڑ مانگنے سے متعلق الزام کو مسترد کردیا۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سمیع ابراہیم مسلسل انہیں بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ’میں نے اس متعلق ہر فورم پر درخواست دی لیکن کسی نے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی۔ ہر معاملے کی کوئی حد ہوتی ہے جب مجھے موقع ملا تو میں نے ایک تھپڑ جڑ دیا۔‘

سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے فواد چوہدری کے ایم ڈی پی ٹی وی سے جھگڑے میں ان کے بیانیے کا ساتھ نہیں دیا تو ان کو اس بات کا بھی شدید ملال تھا اور میرے پاس ایسے ثبوت تھے کہ فواد چوہدری تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کررہے ہیں لیکن اب کا جواب سکرین پر دینے کے بجائے انہوں نے تھپڑ سے دیا ہے۔ ’دیکھتے ہیں کہ اب عمران خان اپنی کابینہ میں شامل ایسے وزیر کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لاتے ہیں۔‘

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...