جمہور کے ابلیس اور قران کا انتباہ

سیاست کوئی شجر ممنوعہ نہیں اور نہ ہی سب سیاسست دان قابل نفرت ہیں البتہ جنہوں نے ابلیسی سیاست کو اپنا منشور بنا رکھا ہے وہ قابل مذمت ہیں۔

ایسی شیطانی سیاست کو دیکھ کر ابلیس بھی پناہ مانگتا ہے اور خدا سے درخواست کرتا ہے کہ ان سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے اب میری ضرورت باقی نہیں رہی اس لئے مجھے اب چھٹی دی دی جائے۔

جمہوریت کے ابلیس ہیں ارباب بست و کشاد

باقی نہیں اب میری ضرورت تہ افلاک

ابلیسی سیاست کے علمبردار لیڈر اور ان کے عوام جہنم میں ایک دوسرے کو الزام دیں گے  کہ ہم تمہاری وجہ سے اس حال کو پہنچے ہیں۔ اس بحث و مباحثہ کی  قرآن حکیم نے جس انداز سے منظر کشی  کی ہے،  وہ یوں محسوس ہوتا ہے  کہ جیسے یہ ہماری ہی بات ہورہی ہو۔

 بالکل،  یہ ہماری ہی بات ہے کیونکہ  کہ قرآن حکیم  کی سورہ الانبیاء کی دسویں آیت میں واضح کردیا ہے کہ اس کتاب عظیم میں تمہارا ہی ذکر ہے لیکن ہم ہیں کہ یہ سوچتے ہی نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں نہیں یہ اقوام گزشتہ کے بارے میں کہا گیا ہے اور کچھ لوگ جو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں ان کی ذہنیت کوسورہ النحل کی آیت چوبیس میں بیان کیا ہے اور کہا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تووہ کہتے ہیں کہ یہ اگلی قوموں کے من گھڑت واقعات ہیں۔ ان کے خیال میں یہ محض قصے کہانیاں ہیں، ان میں اور کیا رکھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو وحی الہی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں اور پھر مہلت کا وقت گزر جاتا ہے جسے سورہ الانبیاء  کے ابتدا ء  میں یوں بیان کیا ہے کہ لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں پڑے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں بے پرواہی سے سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا نیتجہ یہاں اور آخرت دونوں میں خسارے کا ہے۔ایسی ذہنیت اور طرز عمل اختیار کرنے والوں کے بارے میں سورہ لقمان کی آیت سات میں کہا کہ ”جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے

 حیات آخرت کا نقشہ پیش کرتے ہوئے قرآن حکیم جہنم میں عوام اور ان کے قائدین کے  درمیان ہونے والی گفتگو اور بحث کو مختلف مقامات پریوں بیان کیاہے۔ سورہ الصفات کی آیت 27 تا 34 میں ہے کہ اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال کریں گے۔عوام کہیں گے بے شک تم ہی تو ہمارے پاس اپنے حق پر ہونے کی قَسمیں کھاتے ہوئے آیا کرتے تھے۔. انہیں گمراہ کرنے والے پیشواکہیں گے کہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے اور ہمارا تم پر کچھ زور اور دباؤنہ تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے۔ پس ہم پر ہمارے رب کا فرمان ثابت ہوگیا۔اب ہم عذاب کا ذائقہ چکھنے والے ہیں۔ سو ہم نے تمہیں گمراہ کر دیا بے شک ہم خود گمراہ تھے۔ پس اس دن عذاب میں وہ سب باہم شریک ہوں گے۔ بے شک ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔

 سورہ سبا کی آیت ۳۲ اور ۳۳ میں ہے کہ لیڈر عوام سے کہیں گے کہ تم خواہ مخواہ کیوں باتیں بنا رہے ہو۔کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ پھرعوام اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ تمہارے رات دن کے مَکر، چال بازیوں اور فریب کاریوں ہی نے ہمیں روکا تھا جب تم اس قسم کے قوانین بناتے تھے جن سے ہم قوانین خداوندی کے انکار کے مرتکب ہوجاتے تھے اور ہم اللہ کے احکامات میں دوسروں کے احکامات کو شریک کرتے تھے۔ لیڈر اور عوام دونوں عذاب کو آتے ہوئے دیکھ کراپنی ندامت چھپائیں گے اور ہم انکار کرنے والوں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، اور انہیں ان کے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

 سورہ ابراھیم میں دعوت غوروفکر دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اقوام عالم کی تاریخ پر نگاہ دوڑاتے ہوئے دیکھو کہ جن کو خدا نے زندگی کی خوشگواریاں عطا کی تھیں لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی اور اپنی قوم کو تباہی اور بربادی کی جانب جھونک دیا جس کا نتیجہ دوزخ ہے جو بہت براٹھکانہ ہے۔ لیڈروں کے ستائے ہوئے عوام کی دہائی کو سورہ الاحزاب کی آیت 67 اور 68 میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ اپنے رب سے کہیں گے کہ اے ہمارے رب بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہا مانا تھا تو انہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بہکا دیا۔ اے ہمارے رب! انہیں دوگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت کر۔ 64۔  اسی صورت حال کو سورہ ص کی آیت 61 سے میں بھی بیان کیا گیا ہے جب عوام عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب چونکہ یہ ہمارے مصائب اور پریشانیوں کے ذمہ دار ہیں اس لئے انہیں دو گنا عذاب دے۔ سورہ فصلت کی آیت92 کے مطابق عوام بارگاہ الہی میں عرض کریں گے کہ اے رب ہمیں وہ رہنماء دیکھا دے جنہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈال دیا تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے کچل دیں۔

 عوام اور لیڈروں کے آپس میں جھگڑنے کی ایک اور تصویر سورہ المومن کی آیت 47 اور 48 میں بڑے سبق آموز انداز پیش کی ہے جس کے مطابق اس جہنم میں لوگ ایک دوسرے ساتھ جھگڑیں گے۔ عوام اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ تم نے ہمیں اپنے پیچھے لگایا ہوا تھا اب ہم سے یہ عذاب دور کرو جس پر لیڈر کہیں گے کہ ہم سب اس عذاب میں مبتلا ہیں جو اہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اور اس میں ردوبدل ممکن نہیں کیونکہ کہ خدا کا فیصلہ ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 166 اور 167 میں حسرت ناک انجام کی ذکرکرتے ہوئے قرآن حکیم کہتا ہے کہ یہ بات عوام کو اس وقت سمجھ آئے گی جب ان کے رہنما  اور پیشوا ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور وہ سوچیں گے کہ اے کاش وقت واپس لوٹ جائے اور ہم بھی اہنے ان لیڈروں اور پیشواوں سے آنکھیں پھیر لیں۔

 دیکھا آپ نے جن لیڈروں کی ہر غلط اور ناجائز بات کے لئے دوسروں سے لڑتے اور جھگڑتے ہیں، وہی ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ لیڈر چونکہ عوام کو غلط راستے پر لے جانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اسی لئے سورہ النحل کی آیت52 میں واضع طور پر بتا دیا کہ لیڈروں اور پیشواؤں کا ان عوام کے کچھ اعمال بھی بوجھ اٹھانا پڑے گا جنہیں انہوں نے گمراہ کیا تھا۔ علامہ نے ایسے لیڈروں کو ابلیسی سیاست کا نمائدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے تو آگ کا بنا ہوا ایک ابلیس بنایا تھا انہوں نے مٹی کے بنے ہزاروں شیطان بنا لئے ہیں۔ فرماتے ہیں:

تری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگ 

مگر ہیں اس کے پْجاری فقط امیر و رئیس  

بنایا ایک ہی اِبلیس آگ سے تو نے

بنائے خاک سے اْس نے دو صد ہزار ابلیس

قرآن حکیم بار بار ہمیں غور و فکر کی دعوت اس لئے دیتا ہے کہ ہم سوچیں اور اگر ہم مذکورہ بالا آیات پر تدبر کریں تو یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ یہ تو ہمارے بارے میں ہی بات کی گئی ہے۔ چشم تصور سے دیکھا جاسکتا ہے کہ ہمارے عوام اللہ تعالیٰ سے التجا کررہے ہوں کہ اے ہمارے رب ہمارے ان راہنما ؤں کو سخت اور دہرا عذاب دے جنہوں ہمیں غلط راستے پر چلایا۔ اسی تصویرکا  دوسرا رخ یہ بھی ہوگا کہ قائدین اور پیشوا عوام سے کہیں گے کہ تم خود ذمہ دار ہو اور تم نے خود ہمیں اپنے اوپر مسلط کیا تھا۔ اگر ہم اتنے ہی برے تھے تو ہمارا ساتھ کیوں دیتے تھے۔ لہذا ہم پہ ا لزام نہ دو تم نے معمولی مفاد کی خاطر سچ کا ساتھ نہ دیا۔تم ان  لیڈروں کا ساتھ کیوں نہیں دیتے تھے جو حق اور سچ کی آواز بلند کرتے تھے اور باکردار ہیں۔  ہماری کرپشن کے باوجود ہمیں اپنا لیڈر تسلیم کرتے تھے اوردنیا وی مفاد کی خاطر حیات آخرت کا سواد کیا اس لئے اب آؤدونوں اس عذاب کا مزا چکھیں۔

یوں لگتا ہے کہ اس بحث کے بعد فرشتے ہانکتے ہوئے سب کو اس جہنم کی طرف لے جائیں گے جو بہت بْرا ٹھکانہ ہے  اور اْس روز کوئی اْن کے کام نہیں آئے گا۔ کاش ہم قرآن کے اس پیغام سے نصیحت حاصل کرکے اپنی اصلاح کریں۔ بے شک قرآن سوچنے سمجھنے، عقل و شعور رکھنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔

loading...