سفر در سفر : 15 ۔ الوداع لاہور

لاہور ایک تصویری البم ہے ، ایک حیرت خانہ ء عجائبات ہے جیسے عمرو عیار کی زنبیل ہو جس میں ایک سے بڑھ کر ایک جادوئی منظر  محفوظ ہے، تاریخی مقامات اور نوادرات ہیں ، مقبرے اور شاہی محلات ہیں ۔

غرض لاہور کیا ہے پنجاب کی ثقافت اور تہذیب کا شیش محل ہے ۔یہ داتا کی نگری ہے ، یہ اہل علم و ہُنر کا گہوارہ ہے ، یہ استاد اللہ بخش اور چُغتائی کا  نگار خانہ ہے ، یہ نور جہاں اور جہانگیر کے عشق کا مدفن ہے اور موسیقاروں ، فلمی ستاروں ، لوک شاعروں ، فن کاروں اور صوفیوں  کا اُلوہی سنگم ہے جہاں پنجند کی طرح ساری سُندر کلائیں مل کر ایک ہوجاتی ہے اور کہیں دور سے ایک اآواز آتی ہے :

لاہور ، لاہور ہے

یہ  شہر ایک کان ہے جس سے علم و فضل کے ان گنت زر و جواہر ، نیلم ، پکھراج اور الماس نکلے ہیں اور ان قیمتی رتنوں کے رولنے والے کوالی فائیڈ جوہری بھی اس شہر کی شان بڑھاتے رہے ہیں لیکن سب سے بڑھ کر دوستوں ، مہربانوں اور محبّت کرنے والے یاروں کے آفتاب و ماہتاب چہرے ہیں ۔ یہ لوگ گلزارِ زندگی  کےشاداب اور خوش قامت سرو و شمشاد ، شیشم اور شہتوت ، آم اور جامن ، انار اور سنگترے کے بُوٹے ، برگد اور پیپل ہیں ، جنڈ اور ون ہیں جو پردیس کی دھوپ میں مجھے چھاؤں دیتے ہیں ۔جو چہرا اِن میں سب سے نمایاں ہے وہ تبسم کاشمیری کا ہے جن کی یاد اس پردیس میں میرے لیے ہمیشہ دوستی اور مروت کی روشنی رہی ہے ۔ میں جہاں کہیں بھی رہا ، اُن سے رابطے میں رہا ۔

چند برس پہلے اُن سے لندن سے ایک مختصر سی ملاقات ہوئی تو ہم وسطی لندن کے ایک ریستوران میں جا بیٹھے ۔ ہم جس میز کے گرد بیٹھے تھے اُس کے عقب میں ایک تختی آویزاں تھی جس پر لکھا تھا کہ اس میز پر آرتھر کانن ڈائل بیٹھا کرتے تھے ۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا اور وہ حُسنِ اتفاق ہمیشہ میری یاد میں محفوظ ہو کر رہ گیا ہے ۔ لاہور کے اس سفر کے دوران میری آنکھیں زاہد ڈار اور محمد سلیم الرحمان کو ڈھونڈتی رہیں مگر  وہ مل نہ سکے ۔ سُنا کہ وہ شادمان کالونی کے نواح میں کسی لائبریری میں پائے جاتے ہیں مگر میری رسائی اُس لائبریری تک نہ ہو سکی ۔ اصغر ندیم سید کو بھی بہت ڈھونڈا لیکن افسوس کہ اب وہ میٹنگ پوائنٹ یا دائرہ  ملاقات  ’ پاک ٹی ہاؤس ‘ اپنی اصل حیثیت میں باقی نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا ۔ وہ پرانا روایتی ، اوریجنل ٹی ہاؤس اب تاریخ کے صفحات میں گم ہو چکا ہے  جہاں ہر شام یار ملا کرتے تھے اور میلہ لگتا تھا ۔

ٹی ہاؤس کے نواح میں گھومتے پھرتے جو رفقائے دیرینہ  بہت یاد آئے اُن میں حبیب جالب ، منیر نیازی ، ظہیر کاشمیری ، مظفر علی سید ، نواب ناطق ، سلیم شاہد ، انتظار حسین ، جاوید شاہین  ، سراج منیر  ، سہیل احمد خان اور ناصر کاظمی تھے جن سے ملاقات کی کوئی سبیل باقی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ سب اپنا ٹی ہاؤس لے کر حوضِ کوثر کے کنارے منتقل ہو چکے تھے ۔

انارکلی کی سیر کے دوران جب ایبک روڈ سے گزرا تو اچانک عزیز میاں قوال نے آواز دی ۔ ارے یہی وہ گلی ہے جس کے ایک چائے خانے میں راتوں کو نائٹ شفٹ کی ڈیوٹی سے واپسی پر اُن سے ملاقات ہوتی ، چائے پی جاتی ، پان کھائے جاتے اور پھر شعر وں کے پٹارے کھل جاتے ۔ یہیں پان گلی سے مُلحق  ایک کٹڑے میں حضرت ساغر صدیقی کا کُلبہ تھا جہاں وہ دھونی رمائے شعلہ ئ طور سے روشنی ئ طبع  کی لو بڑھاتے رہتے تھے ۔ اُن کے میڈی ٹیشن کے سیشنوں  میں میرے ساتھ منصور بٹ ہوا کرتے تھے جو اب امریکہ کے ہو کر رہ گئے ہیں ۔ وہیں ایک نُکڑ پر خواجہ رفیق مرحوم کا چھوٹا سا پریس تھا جس سے نکل کر وہ دوپہر کے وقفے میں سر پر سولا ہیٹ سجائے انارکلی بازار کو طے کر کے کافی ہاؤس جایا کرتے تھے ۔ مرحوم بڑے مرنجان مرنج آدمی تھے اور اتنے منکسر کہ کبھی ٹانگے کے سوا کسی سواری کو پسند نہ کیا اور اُن کی شہادت بھی ایک ٹانگے میں ہی ہوئی۔ لیکن اُن کے دونوں بیٹے بڑے سیاست دان اور بزنس مین ہیں  جو نون لیگ کے نابغوں اور شریف خاندان کے برگزیدگاں میں شمار ہوتے ہیں ۔

رات کے وقت انار کلی کی دوکانیں بند ہو جانے کے بعد دہلی مسلم ہوٹل کے سامنے پان سگریٹ کی دوکان کے باہر کرسیاں بچھ جاتیں اور ایک تکیہ سا بن جاتا جہاں حضرت احسان دانش بلا ناغہ اپنی سبھا جماتے تھے اور جہاں آغا شورش کاشمیری بھی اُن کی خدمت میں باقاعدگی سے حاضری دیا کرتے تھے ۔ انارکلی میں کچہری روڈ کے چوراہے کے پاس نگینہ بیکری تھی جہاں پروفیسر علم الدین سالک ، افضل پامسٹ ، بلیغ الدین جاوید ، صدیق افغانی اور اقبال ساجد بیٹھا کرتے تھے اور یہ اپنی نوعیت کا ایک دوسرا ٹی ہاؤس تھا ، جہاں کبھی کبھی سہیل احمد خان  اور حبیب جالب بھی حاضری لگایا کرتے تھے ۔ لیکن اب وہاں ریڈی میڈ کپڑوں کی جدید سی دکان نظر آئی تو لگا کہ پرانے  لاہور کے نقوش ایک ایک کر کے مٹتے چلے گئے ہیں ۔ موچی دروازے کا باغ تو اب گلہریاں بھی بھول گئی ہوں گی جس کی رونقیں کبھی نیشنل عوامی پارٹی کے مولانا عبد الحمید خان بھاشانی کی دل چسپ تقریروں  اور حبیب جالب  کی سیاسی نظموں کے دم قدم سے تھیں ۔ یہیں جالب نے اپنی نظم دستور پڑھی جس نے ایوب خان کو ایوانِ صدارت میں دہلا کر رکھ دیا تھا :

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو ، صبحِ بے نور کو

میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا

سرکلر روڈ اب ٹانگوں کے کوچوانوں اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ کے بجائے چنگچیوں اور موٹر سائیکلوں کے رش اور شورسے عذاب میں تھی ۔ لگتا تھا سڑک نہیں موت کا کنواں ہے جس میں ایک ہی وقت میں ان گنت موٹر سائیکل سوار اپنے کرتب دکھا رہے ہیں ۔ جو چیز جہاں ہوا کرتی تھی اب وہاں نہیں تھی ۔ چالیس برسوں میں لاہور پر ایک اجنبی لاہور کی تہ جم چکی تھی ۔لوگوں کے مزاج بدل چکے تھے ۔ لگتا تھا لاہوری اب وہ پہلے والے روایتی لاہوری نہیں رہے ۔ کیونکہ اب وہ پرانے لاہور سے ہجرت کر کے لاہور کے گردو نواح میں بسے چھوٹے چھوٹے لاہوروں میں منتقل ہو چکے تھے ۔ کوئی ڈیفنس میں تو کوئی جوہر ٹاؤن میں ۔ کسی نے بیدیاں میں فارم ہاؤس بنالیا تھا جہاں نہ ٹانگہ جاتا ہے نہ رکشہ ۔ وہاں تک رسائی کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کی ضرورت تھی ۔

اور لاہور کی بسوں اور میٹرو کا نظام میرے لیے ناقابلِ فہم تھا اور کسی گائیڈ کے بغیر اس نئے لاہور میں پھرنا کم از میرے لیے نا ممکن نہ تھا ۔ افسوس رہا کہ میں ظفر اقبال صاحب سے نہ مل سکا ۔غیر ضروری اور فالتو  آبادی کے خوفناک دھماکے نے لاہور کو لاہور رہنے ہی نہیں دیا ۔ ہر ایریا جنگ کے بعد کی تباہی کا منظر پیش کرتا ہے جہاں نئے مسافر کے لیے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا مضمون ہے ۔لوئر مال پر چلیں تو ایم اے او کالج تک کا علاقہ پہچان میں ہی نہیں آرہا تھا جہاں سے  گزر کر میں اسلامیہ پارک اور چوبرجی جایا کرتا تھا جہاں اظہر غوری کا قیام تھا ۔ حُسنِ اتفاق سے اظہر غوری سے ملاقات اُس شام ہوئی ، جس شام کے بعد کی اگلی صبح کو مجھے واپس ناروے آنا تھا ۔ تاہم اُس مختصر سی ملاقات میں بہت سے بیتے برسوں کی تصویروں کا البم کھل گیا جن میں وہ ساری تصویریں تھیں جن پر چالیس سال کی دھول جمی تھی ۔

لاہور میں گزرے دو ہفتے کے قیام کو میں نے بہت طویل جانا اور لاہور کو دونوں ہتھیلوں میں سمیٹ کر بھرا تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں جو اب تک نم ہیں ۔ یہی آنسو ، لاہور سے  میری محبت کے آنسو  ،میرے سفر کا حاصل ہیں ۔

لاہور اے مرے لاہور الوداع ، پھر ملیں گے اگر خُدا لایا ۔

loading...