بھارت امریکہ اتحاد کے خلاف پاک چین اتحاد ناگزیر کیوں بنتا جارہا ہے؟

گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں خفیہ نوعیت کے بلڈربرگ اجلاسوں کے بعد فنانشل ٹائمز کے اقتصادی کالم نگار مارٹن وولف نے ‘The 100 year fight facing the US and China’ کے عنوان سے مضمون لکھا۔ وولف نے جو نتائج اخذ کیے وہ کافی اہم ہیں۔

وولف کے مطابق ’چین سے مسابقت امریکی اقتصادی، خارجہ اور سیکیورٹی پالیسیوں کا ایک مرکزی اصول بنتی جا رہی ہے اور اصل مقصد ہے امریکی غلبہ۔ اس کا مطلب ہے کہ چین پر کنٹرول یا پھر چین سے علیحدگی۔ اس کوشش کی ناکامی تو ناگزیر ہے۔ یہ ہمارے دور کی ایک سب سے اہم جغرافیائی پیش قدمی ہے۔ اس طرح تمام ممالک یا تو کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور ہوجائیں گے یا پھر غیر جانبداری کے لیے زبردست جدوجہد کرنی پڑ جائے گی۔ ہر ایک جو یہ سمجھتا ہے کہ قوانین و ضوابط پر مشتمل غیر ملکی تعلقات کا نظم و نسق، ہماری عالم گیر معیشت یا ہم آہنگی سے بھرپور بین الاقوامی تعلقات کے باعث اس تنازع سے بچا جاسکتا ہے وہ خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔‘

پاکستان، بھلے ہی چین اور امریکی کے اس ابھرتے طوفان کے مرکز میں نہ ہو لیکن اس کے قریب ضرور ہے۔ غیر جانبداری کا آپشن پاکستان کو دستیاب نہیں ہے۔ امریکہ  ’انڈو پیسیفک‘ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کو پہلے ہی اپنا اسٹریٹجک پارٹنر منتخب کرچکا ہے۔ امریکہ کی جنوبی ایشیا پر اعلانیہ پالیسی برِصغیر کے ہندوستانی غلبے پر مشتمل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہندوستانی تجارت کو لے کر ہونے والی ہلکی پھلکی تُو تُو میں میں کے باوجود امریکی اسٹیبلشمنٹ چین کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندوستان کی فوجی طاقت کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہے۔

دوسری طرف چین کے ساتھ شراکت داری پاکستان کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے اتحاد کے باعث پاک چین شراکت داری میں اور بھی زیادہ پختگی پیدا ہوجائے گی۔ ہندوستان کی جنوبی ایشیا میں اجارہ داری اور امریکہ بھارت گرینڈ اسٹریٹجی کی کامیابی میں پاکستان ایک سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ اس ’رکاوٹ‘ کو راستے سے ہٹانے یا پھر غیر جانبدار بنانے کی کوششیں کریں گے۔

امریکہ بھارت کو جدید ترین اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے میں مصروف ہے، جس کا فوری اور سب سے بڑا اثر پاکستان پر پڑے گا۔ بھارت کی فوجی طاقت میں اضافے سے پاکستان کے ساتھ اسلحے کا توازن بدترین حد تک بگڑ رہا ہے، جس کے باعث بھارتی جارحیت کو ہوا ملے گی اور پاک بھارت تنازع میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی نہج تک پہنچنا پہلے کے مقابلے میں مشکل نہیں ہوگا۔

صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ اب واشنگٹن نے بھی بھارت کی صف میں شامل ہوکر کشمیر کی جائز جدوجہد آزادی کو ’مذہبی دہشتگردی‘ کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔

پاکستان کو ہائبرڈ وار کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اسلحے کی طاقت میں اضافے، ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور کشمیر کی آزادی کی مخالفت کے علاوہ مغربی خصوصیات کی حامل منحرف میڈیا مہم کے ساتھ سابقہ فاٹا میں نسلی جارحیت اور تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے کی دہشتگردی کو کھلے عام ہندوستان کا تعاون رہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کی دھمکیوں اور سی پیک کی مخالفت کے پیچھے امریکہ اور ہندوستان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ پہلے ہی بیل آؤٹ میں سے چینی قرضوں کی ادائیگی کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پیکیج کو تاخیر کا شکار بھی بنا چکا ہے۔

اگرچہ امریکہ نے طالبان کو ’مناسب‘ رویے کی طرف راغب کرنے کے لیے پاکستان کا تعاون استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی جانب اپنے کھلے عناد کو معتدل رکھا ہوا ہے مگر ایک بار جب افغانستان کا مسئلہ حل ہوجائے یا پھر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوگیا تو امریکہ اپنا مؤقف بدلنے میں دیر نہیں لگائے گا۔

مستقبل قریب میں چین امریکی تنازع میں مزید شدت آسکتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی صفوں میں کھڑا کرنے کی خاطر ڈالا جانے والا دباؤ امریکی ہاکس کی ہدایت کے تحت شدید تر ہوجائے گا۔ ژی جن پنگ کے زیرِ اقتدار چین ’نہ اپنی طاقت چھپائے گا اور نہ ہی درست وقت کا انتظار کرے گا‘۔ بیجنگ واشنگٹن کی تجارتی پابندیوں کے خلاف اپنا جواب بخوبی انداز میں دے چکا ہے۔ چین اپنی سرزمین کے ’ایک ایک انچ کا دفاع‘ کرے گا۔

قوی امکان ہے کہ نریندر مودی اپنی دوسری مدت میں پاکستان کی جانب زیادہ لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ انتہا پسند ہندو قوم پرستی اور مسلمانوں، کشمریوں اور بالخصوص پاکستان کی جانب دشمنی کے جذبات کی بنیاد پر منتخب ہوکر آئے ہیں۔ مودی اپنے اس لب و لہجے اور کردار کو ترک کرنا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کا دھیان نوکریاں فراہم کرنے میں بی جے پی کی ناکامی کی طرف نہ جائے اور نہ ہی اس طرف کہ ہندوستان میں اشرافیہ کی طرزِ زندگی کس طرح بہتر ہوئی ہے۔

بھارتی معیشت کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں اور پیداوار بھی کم ہوئی ہے۔ بھارت کو صرف متنازع کشمیر کا ہی مسئلہ درپیش نہیں، بلکہ وہاں بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف مقبول اور مستحکم بغاوت کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں کئی جگہوں پر شورش برپا ہے۔

پلوامہ بحران نے کشمیر تنازع سے ممکنہ خطرات کی تصدیق کردی ہے۔ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی مزاحمت میں کشمیری گروہ چند موقعوں پر انسانی حقوق کی ناگوار اور منظم بھارتی خلاف ورزیوں کا جواب پُرتشدد انداز میں دیں گے۔ بھارت اس تشدد اور کشمیری مزاحمت کو دبانے میں اپنی ناکامی کا الزام پاکستان پر لگائے گا۔ اگلا پاک بھارت تنازع عام دشمنیوں کا دروازہ کھول سکتا ہے جن کی شدت بڑھ کر جلد ہی ایٹمی نہج تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے خطرناک منظرنامہ امریکی ایٹمی ’چھتری‘ تلے بھارتی روایتی حملہ ثابت ہوگا اور پاکستان کے پاس جوابی ایٹمی حملے کی صلاحیت ہی اس آفت خیز منظرنامے کا مقابلہ کرنے کا واحد اور یقینی طریقہ ہے۔

کسی بھی قیمت پر ہندوستان کے ساتھ امن کی آواز کو اس سے لاحق ہونے والے چیلنجز کے باعث پاکستان میں چند لوگوں کا دل خاصا دکھ سکتا ہے۔ مگر پاکستان کے پاس ‘سرینڈر کا آپشن نہیں ہے۔‘ (یہ اقتباس اقوام متحدہ کے حوالے سے جان بولٹن کی کتاب کے عنوان سے لیا گیا ہے)۔

جنوبی ایشیا میں ہندوستانی غلبے کو تسلیم کرنا تشکیلِ پاکستان کے اہم ترین مقصد کو ٹھیس پہنچانے کے برابر ہوگا۔ ہندوستان میں محصور زندگی گزارنے والے مسلمانوں کی موجودہ بدتر صورتحال ان لوگوں کے لیے ایک عملی مثال ہے جو یہ مانتے ہیں کہ خیر سگالی کے مظاہرے سے ہندوستان کی دوستی کرلی جائے گی۔ ہزاروں برسوں پر محیط تاریخ اس سوچ کو مسترد کرتی ہے۔ پاکستان چاہے جو بھی کرے اس سے قطع تعلق کشمیری تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وہ پاکستانی لاتعلقی کے کئی ادوار بھی جھیل چکے ہیں۔

اگر مودی حکومت انتخابی مہم کے دوران جموں کشمیر کے خصوصی، خودمختار حیثیت کو ختم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کی کوششیں کرتی ہے تو اس سے کشمیری مزاحمت میں مزید شدت پیدا ہوگی۔ جس کے بعد اسلام آباد کے پاس 2 ہی آپشن باقی رہ جائیں گے۔ یا تو وہ جائز کشمیری جدوجہد کا ساتھ دے یا پھر اسے دبانے کے لیے ہندوستان کو تعاون فراہم کرے (ٹھیک جس طرح ریاستی حیثیت کے لیے جاری فلسطینی جدوجہد کو دبانے کے لیے عرب ریاستوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔)

جہاں پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم اور پیداوار کی بحالی کے لیے کوشاں ہے وہیں سول اور فوجی قیادت کو اس ملک کی سلامتی اور اسٹریٹجک آزادی کے تحفظ کا پورا پورا دھیان رکھنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر خود کو بھارتی و امریکی صوبہ دار بنا لیا جائے۔ بہتر مستقبل ممکن ہے۔ لیکن مستقبل قریب میں یہ زیادہ نمایاں انداز میں نظر نہیں آتا۔

خیر، امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر ژی آئندہ جی 20 سمٹ یا اس کے بعد تجارت اور ٹیکنالوجی پر اپنے اپنے اختلافات کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔ یا پھر 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ چین کے ساتھ سرد جنگ کے مخالف معقول ڈیموکریٹ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرسکتے ہیں۔

بعد ازاں ممکن ہے کہ پیوٹن، ژی اور قومی غیرت مل کر مودی کو امریکی اشاروں سے جان سے چھڑانے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات نارمل بناتے ہوئے ایک اشتراکی ایشیائی نظم و نسق میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کردیں۔ تاہم پاکستان اس قسم کے امید افزا مستقبل کے منظرناموں کو اپنی سلامتی اور اپنے وجود کے لیے بنیاد نہیں بناسکتا۔

پاکستان کو بدترین حالات کے لیے تیاری جبکہ بہترین حالات کی امید کرنی ہوگی۔

(بشکریہ: روزنامہ ڈان)

loading...