آئندہ بجٹ کے تناظر میں معاشی بد حالی

کسی ریاست میں مالیاتی گورننس کو ماپنے کا بیرو میٹر بجٹ سازی ہوتا ہے جو  حکومتی کارکردگی کا انڈکس ہوتا ہے۔ جس میں بتایا جاتا ہے آئندہ سال حکومت کو کتنے محصولات اور آمدنی ہوگی اور اس کے اخراجات کی تفصیل کیا ہوگی۔

اگر اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوں تو حکومتوں کو اپنے اخراجات دیگر مالیاتی اداروں اور وسائل سے قرضے لے کر پورے کرنے پڑتے ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کو درپیش ہے۔  ہر بجٹ روایتی ہوتا ہے جبکہ ہم نے کبھی آج تک تبدیلی لانے والے انقلابی بجٹ کے بارے میں نہیں سنا ۔حکومت کی بہتر کارکردگی میں سب سے اہم چیز عوام کو ریلیف دینے کے بارے میں اعلانات ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت جو کہ خود کو درمیانے اور تعلیم یافتہ مڈل کی پارٹی کہلانے پر فخر کرتی ہے،  لہذا اس سے غریب طبقات کیلئے ریلیف کے بارے میں سوچنا درست نہیں ہے۔ نئے بجٹ میں محصولات آمدنی میں اضافے، توازن ادائیگی میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کئے ہوئے وعدوں کی پاس داری کی جائیگی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے چھوٹی آمدنیوں والے غریب طبقات کیلئے صورتحال خاصی مشکل ہوگی۔ صنعت کار اور کاروباری طبقات بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں اگر ٹیکس کا مزید بوجھ ڈالا گیا تو وہ اپنے کاروبار بند کر دیں گے۔ بظاہر معاشی پرواز کیلئے اگلے دو برس صورتحال نا موافق رہے گی۔

آئی ایم ایف کے قرضے کی شرائط کے ساتھ آئندہ بجٹ میں برآمدات کے پانچ شعبہ جات، لیدر، کارپٹ، سپورٹس، ٹیکسٹائل اور سرجیکل گڈز سے  ریٹنگ کی مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ملکی برآمدات پر منفی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دس سال سے مجموعی برآمدات 25ارب ڈالر سالانہ رہی ہیں۔12ارب ڈالر ٹیکسٹائل سیکٹر کی ہیں۔ٹیکسٹائل مصنوعات بنانے والا شعبہ 38%ملازمتیں فراہم کرتا ہے۔ مجموعی قومی پید ا وار میں اس کا حصہ8%سے9%ہے۔ پاکستان کپاس پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کئی سالوں سے خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ اس کو جدید بنانے کیلئے بیلنسنگ  اور ماڈرنائزیشن کا نہ ہونا ہے۔ اربوں روپے کے ایکسپورٹ ری فنانس قرضے سستی شرح پر فراہم کیے گئے تھے جن سے کمائے جانے والے منافع یا قرضوں کو صنعت کو جدیدیت اور مصنوعات کو ویلیو ایڈیٹ بنانے کے بجائے اس کو غیر پید اواری شعبوں میں کھپا دیا گیا ہے۔  میری مراد رئیل اسٹیٹ سے ہے جو کہ آج کل بحرانی کیفیات سے دو چار ہے۔

 ہم ٹیکسٹائل ملوں کو چلانے کیلئے بھارت سے کپاس درآمد کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش جو کہ کاٹن دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے اس کی ٹیکسٹائل برآمدات ہم سے تین گنا ہیں۔ ہماری برآمدات کی کمی کی ایک وجہ لاگتی قیمتوں میں اضافہ اور مصنوعات کا عالمی منڈی کے مطابق ویلیو ایڈیٹ نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں زیادہ ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کر دی جاتی ہے جبکہ 10 فیصد  ملکی منڈی میں کھپت ہوتی ہے۔ مقامی طلب زیادہ ہونے کی صورت میں اس کو سمگل شدہ کپڑوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال مقامی سمال اور میڈیم انڈسٹری کی ہے جس کو غیر ملکی درآمدی اور سمگل شدہ مصنوعات نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بڑی صنعتوں کے حوالے سے کارکردگی کبھی اچھی نہیں رہی۔ بجٹ سے پہلے اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ حکومت کے کسی اقتصادی ہدف کو سوائے مویشوں کی افزائش کے شعبہ میں حاصل نہیں کیا جا سکا۔ موجودہ مالی سال میں قومی پیدا وار کا ہدف 6.3%رکھا گیا تھا جو کہ صرف 3.3% رہ گیاہے۔ صنعتی شعبہ کا ہدف6.7%تھا وہ 1.4%رہا۔ مینو فیکچرنگ کا شعبہ صرف 2%پرفارمنس دے سکا۔ زرعی شعبہ آبی قلت، خشک سالی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے صرف 1%گروتھ کر پایا ہے۔سروس سیکٹر میں 6.5%کی بجائے صرف2%سے کم ترقی ہوئی ہے اور تعمیراتی شعبے میں اس عرصہ میں 10%کی بجائے صرف 7.5%ترقی ہو پائی ہے۔

قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بعد سب سے زیادہ خرچ دفاعی شعبہ پر ہوتا ہے۔ گزشتہ10سالوں میں دفاعی بجٹ میں 73%اضافہ ہوا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔اور یہ اخراجات دنیا میں 20ویں پوزیشن پر ہیں۔ بھارت کے جنگی عزائم بڑی فوج، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے مقابلہ کیلئے یہ اخراجات نا گزیر ہیں۔ حکومت کے اعلان کے مطابق دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور موجودہ مالی سال کے مقابلہ میں حقیقی طور پر کم ہوگا۔ جب صحت، تعلیم، آبادی  اور  مفاد عامہ پر کئے  جانے والے اخراجات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دفاعی اخراجات زیادہ ہیں۔  یاد رہے جب تک ہماری معیشت متحرک نہ ہوئی حکومت کو زیادہ مالی وسائل حاصل نہیں ہو سکتے۔تحریک انصاف کی قیادت سے پوچھا جائے کہ وہ معاشی اہداف کیوں  نہیں حاصل کر پائی ہے تو جواب ملتا ہے یہ سب سابقہ حکومتوں کی نا اہلی اور بد عنوانی اور کرپشن کی وجہ سے ہے۔   یہ حکومت اپنا پہلا سال مکمل کرنے کو ہے اور پہلا بجٹ پیش کر رہی ہے تو یہ کس طرح تمام الزامات اپوزیشن پر لائے گی۔

پاکستان میں 2005.2007میں ہمارے ٹیکسوں کی وصولی 500سے600ارب تھی جو کہ ہر سال اضافہ کے ساتھ4ہزار ارب روپے ہو گئی ہے۔مگر اس کے باوجود جی ڈی پی مقابلے میں  ٹیکسوں کی شرح9%رہی ہے جبکہ عوام بالخصوص امیر طبقات کے اثاثوں اور دولت میں اضافہ ہونے کے باوجود براہ راست ٹیکسز نہیں بڑھے۔ ہم بلاواسطہ ٹیکس لگا کر  آمدنی  بڑھا رہے ہیں۔ نئے ٹیکس گزار شامل نہیں کیے گئے بلکہ موجودہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ پڑا ہے۔

حکومت11جون کو اپنے تخمینوں کی بنیاد پر 5.5کھرپ روپے کا ٹیکس بجٹ پیش کررہی ہے جس میں حکومتی کارکردگی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ کرنے کی وجہ سے آئی ایم ایف معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تمام عالمی مالیاتی ادارے امریکہ کے  محتاج ہیں جس کی وجہ سے  وہ پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ان مقاصد میں  ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا اور افغانستان کے معاملات  میں  اس کی مرضی کے مطابق تعاون کرنا  شامل ہے۔  ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ہمیں دباؤ میں رکھنے کی کوشش  ہوگی۔  اس طرح پاکستان جہاں  معاشی حوالے سے دباؤ میں ہے وہاں پر اس کو خارجہ پالیسی بالخصوص علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت اور تعلقات کے حوالے سے تناؤ کا سامنا رہے گا۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کو اندرونی معاشی اور امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا۔ ریاستی آمدنیوں میں اضافے سے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بتدریج کم کرنا ہوگا۔

اگر پاکستان محصولات کا ہدف حاصل  نہیں کر پاتا تو اس کو جی ٹی ایس کو 17سے20%بڑھانا ہوگا جس سے مراد 1%اضافہ پر 80ارب روپے اور3%پر 240ارب روپے ہیں۔  اسی طرح امپورٹ ڈیوٹی کو 2%سے5%کرنا ہوگا جس سے حکومت کو ڈیفالٹ کے بارے میں تسلی مل جائے گی۔ پاکستانی ماہرین معیشت کے ایک تھینک ٹینک کے مطابق عمران خان کی حکومت آنے کے بعد 10لاکھ افراد بے روز گار ہوئے ہیں۔500چھوٹے بڑے کاروبار بند ہوئے ہیں، مہنگائی میں 10%اضافہ دیکھنے میں آیا ہے رئیل اسٹیٹ کا کام کم ہوا ہے جس میں پھنسا ہوا کالا دھن غیر متحرک ہونے کی وجہ سے معاشی سر گرمیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔  بجٹ کے بعد ملک کے مزید 45%افراد سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔  ملک کی333ارب ڈالر کی معیشت کم ہو کر 280ارب ڈالر رہ جائے گی۔ 

حکومت کو چاہیے کہ محصولات بڑھانے کیلئے امیر طبقات کی رعاتیں ختم کرے۔ یہ بڑی بد نصیبی کی بات ہے موجودہ حکومت نے غریبوں کو ریلیف دینے کی بجائے شوگر ملوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دے دی ہے۔ ایف بی آر کو  ٹیکس نیٹ ورک  بڑھانا ہوگا۔ پاکستان زرعی اور صنعتی سیکٹر کیلئے اصلاحات کرنا ہوں گی۔آج ہم مکمل طور پر صارف کی منڈی میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں پر مینو فیکچرنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم محض درآمدات کی خریداری میں اضافہ کر رہے ہیں، پاپو لیزم اور آئیڈیل ازم کے تحت کوئی شخصیات نا گزیر نہیں ہوتیں ہیں اور ان کا متبادل ہر دور میں موجود رہتا ہے۔ پاکستان میں صدر ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو چلے گئے لیکن ملک چلتا رہا۔ ملک کے لئے  خاندان اور شخصیات کی  بجائے سیاسی  و انتظامی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔خاندانی سرمایہ دارانہ جا ہ و جلال کے ساتھ ذاتی مفادات کی حفاظت ملک کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔  ریاست کا اصل مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے صنعتی انقلاب کے ذریعے روز گار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہوگا۔ جس کیلئے سوشل ڈیمو کریٹ سوچ رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے۔ محض اپوزیشن کو جہنم رسید کرنے کے نعروں سے ہم معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکتے۔

loading...