سیاسی قیادت اور شادی کی عمر

اب  جو بولتا ہے یا تو کفن پھاڑ کر بولتا ہے یا گیدڑ بولی میں ہاؤ ہو کرتا ہے اور اتنا شور مچتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ بلیوں اور کُتوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں تو دل دہل جاتا ہے اور دل کا کاسہ رب کے حضور اس سوال کا جواب مانگتا ہے کہ آخر یہ اُمّت کس جرم کی سزا پا رہی ہے ۔

آج ہمارے نوجوان فلسفی جناب بلاول بھٹو زرداری نے جو اپنے دادا حاکم علی زرداری سے پاکیزہ  روح اور اپنی والدہ سے خاکی بدن لے کر وارد ہوئے ہیں ،  بھٹو کی پیپلز پارٹی کے نئے پروپرائیٹر بن گئے ہیں ۔ ایک بہت بڑے آدمی کا نواسہ ہے ۔ اگرچہ اُس نے اپنے نانا کو نہیں دیکھا مگر اُس کی پھانسی کا ذکر سنا ہے ۔ اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہے اور اپنے ماموں میر مرتضیٰ بھٹو کا حشر بھی دیکھا ہے ۔ یقیناً یہ تاریخ اُنہیں ازبر ہے اور چونکہ بروا ہونہار بھی ہیں  اس لیے اُن کے پات چکنے چکنے ہیں  ، یہی وجہ ہے  ان دنوں  انہوں نے ایک بڑی پتے کی بات کہی ہے اور بہت دور دراز کی کوڑی لائے ہیں۔

میں نے کسی ٹی وی چینل پر اُن کا بھاشن سنا تو حیران ہوا ۔ نہ مجھے اپنے کانوں پر یقین آیا نہ بلاول کے بیان پر کہ وہ ایسا کیوں کر کہہ سکتے ہیں ۔ میری سمجھ بوجھ کے مطابق  اُن کے فلسفے کا لُبِ لباب یہ ہے کہ حکمرانی کے آداب یا تو جاگیر دار جانتا ہے یا تاجر سرمایہ دار اور چونکہ عمران خان نہ جاگیر دار ہے نہ تاجر سرمایہ دار ، اس لیے وہ حکومت نہیں چلا سکتا ۔ تو یاد رہے  وہ فلسفہ جو بھٹو صاحب شہید نے اپنی پارٹی کے مختصر ترین منشور کے طور ر جاری کیا تھا کہ اسلام ہمارا دین ہے ، جمہوریت ہماری سیاست ہے ، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ۔ لیکن وہ پرانی باتیں ہیں ۔ نئی بات وہ ہے جو پیپلز پارٹی کے نئے مردِ جاگیردار بلاول بھٹو زرداری نے کہی ہے کہ اُن کی جمہوریت تاجر سرمایہ دار اور جاگیر دار کا حقِ حکمرانی ہے ۔ تو یہ ہے سوشلزم کو معیشت قرار دینے والے سیاسی لیڈر کا نواسہ ۔ ماشا اللہ ۔ اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ ۔

یہ بیان سُننے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی پیش منظر اور پس منظر کچھ ایسا ہے کہ  سیاسی موضوعات پر کچھ  لکھنا مجھ جیسے کم فہم کے بس کی بات ہی نہیں ۔ پھر مجھ جیسوں کی اوقات ہی کیا کہ میں نہ تین میں نہ تیرہ میں ۔ تو بہتر یہی ہے بلکہ عافیت اِسی میں ہے کہ کچھ اور قسم کے موضوعات پر لکھا جائے  کیونکہ پاکستان سیاسی کالم نگاری میں  نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ کالم نگار ایکسپورٹ بھی کر سکتا ہے تو میں شہر کے اندیشے میں قاضی کی طرح دُبلا ہونے کی اذیت کیوں اُٹھاؤں ۔

سیاست سے ہٹ کر دوسری طرف نگاہ کی تو پھر ایک غُلام لڑکی کا قصہ سامنے آیا جسے اُس کی ماں سال بھر پہلے کسی خاندان میں گھریلو  غلام رکھوا گئی تھی ۔ فی زمانہ غلام یا کنیز کا عہدہ نہیں دیا جاتا بلکہ اب نوکر اور نوکرانیاں ہوتی ہیں ۔ نوکرانی مجبوری اور مفلسی کی رانی ہوتی ہے جو اپنی خانگی سلطنت سے نکالے جانے کے بعد دوسروں کے رحم و کرم پر رانی کے منصب پر فائز ہوتی ہے ۔ اللہ اُن سب بچوں پر رحم کرے جن کو بچپن نہ میسر آتا ہے نہ راس آتا ہے ۔

دریں اثناء میری نظر فیس بُک کی ایک پوسٹ پر پڑی  ہے جس میں سوال اُٹھایا گیا تھا کہ شادی کس عمر میں ہونی چاہیے ۔ یہ عجیب سوال ہے ۔ میری صوابدید اور سمجھ بوجھ کے مطابق سب لوگ شادی کے اہل نہیں ہوتے  اور کوالی فائیڈ میاں بیوی نہیں بن سکتے کیونکہ  شادی کے قابل ہونے کے لیے جسمانی بلوغت شرط نہیں بلکہ ذہنی بلوغت شرط ہے ۔ اور وہ جسمانی بالغ جو ذہنی طور پر بچے ہوتے ہیں اچھے میاں بیوی اور ماں باپ نہین بن سکتے ۔  ذہنی بچے اپنے بچوں کی پرورش  پرسکون اور خوبصورت ماحول میں نہیں کر سکتے ۔ قرآنِ کریم نے تو شادی کے لیے جو شرط رکھی ہے وہ نیک ہونا ہے ۔ نیکی اخلاق کا اعلیٰ ترین معیار ہے کہ سورہ ء نور میں اُن غاموں اور لونڈیوں کے نکاح کا مشورہ ہے جو نیک ہوں۔ دوسری شرط بیاہ کا مقدور ہے کہ جس کا نکاح کیا جائے وہ اپنا گھر بنا کر اُس کے اخراجات اُٹھانے کا مقدور رکھتا ہو ۔ لکھا ہے :

" اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاکدامنی اختیار کیے رہیں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُنہیں غنی کر دے " ۔ النور ۔ ۳۳

اس کی وضاحت بُخاری شریف کی ایک حدیث میں خاصی تفصیل سے موجود ہے ، جس کا نمبر مجھے یاد نہیں اس لیے اس کا سرسری تذکرہ کرتا ہوں کہ تین طرح کے لوگوں کو شادی سے اجتناب کرنا  چاہیے ۔ جن میں سے دو کا تذکرہ ضروری ہے کہ  ایک تو وہ جو روزی کمانے کے قابل نہیں ۔ دوسرے وہ جو وظیفہ ء زوجیت ادا کرنے کے اہل نہیں ، نکاح نہ کریں ۔ نبی کی ازواجِ مطہرات کی تعداد نو تک ہے لیکن اُن نو میں سے اولادیں کتنی ہیں ؟ یہ وہ نقطہ ء ازدواج ہے جس کی تازہ تفسیر کی ضرورت ہے ۔ شادی کا اصل منشا یہ ہے کہ مرد  اورعورت خوشگوار ماحول میں پیار محبت کا وہ معیار  قائم کریں جس کے لیے اُنہیں عقد کا منصب اور اعزاز  ملا ہے ۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہیں َ مجھے اسی مضمون پر بھائی سحر انصاری کا شعر یاد آ رہا ہے جو اُنہوں نے   بھائی رئیس امروہوی کی بیٹھک میں سنایا تھا :

گاہ پہنا ہے تجھے خلعتِ زریں کی طرح

گاہ پیوند کے مانند چھپایا ہے تجھے

چنانچہ شادی کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اگر مرد اور عورت کے ہاتھ آسمانوں سے ارواح بلانے کی چابی آ گئی ہے تو بچہ سازی کی مشین بن جائیں اور معاشرے کو غیر ضروری آباد ی کا گھیٹو بنا دیں ۔ مگر ہم نے اپنے معاشرے کو اس غیر ضروری آباد ی کی بڑا خطرناک گھیٹو بنا دیا ہے ۔اور وہ بچے جن کو گھر ، تعلیم اور ضروریاتِ زندگی بہم نہیں ہوتی ، وہ جیتے جی جہنم میں پلتے ہیں اور پھر وہ المیے رونما ہوتے ہیں جس میں ریپ قتل اور مارپیٹ اُن بچوں  کا مقدر بن جاتی ہے ۔ اب دیکھ لیجیے ، بلاول بھٹو نے سیاست سے شادی کر لی ہے اور اُنہوں نے اپنے لیے ایک بہتر راستہ چنا ہے حالانکہ وہ خاندان کی کفالت کے ضرورت سے زیادہ اہل ہیں ۔

loading...