نیا بجٹ حکومت کے کاؤنٹ ڈاؤن کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے

تحریک انصاف ایک روز بعد اپنا پہلا قومی بجٹ پیش کرنے والی ہے۔  تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران سامنے آنے والی معلومات اور وزیر اعظم سمیت حکومت کے دیگر عہدیداروں کے بیانات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ بجٹ مہنگائی اور  روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے محاصل اور  افراط زر کا ایک نیا طوفان لے کر آنے والا ہے۔

اب اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ کچھ معاشی مشکلات تو فطری ہیں  جن پر کوئی بھی حکومت آسانی سے قابو  نہیں پاسکتی اور نہ ہی طویل المدت حکمت عملی اور بین الجماعتی سیاسی و پارلیمانی اتفاق رائے کے بغیر اس قسم کی کوئی تدبیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ البتہ ان فطری اور دیرینہ مشکلات کے علاوہ تحریک انصاف کی قیادت نے  معاملات کے بارے میں کم فہمی ، مالی امور کا ادراک کرنے میں  سست روی، فیصلوں  میں تاخیر اور  حکمت عملی پر زور دینے کی بجائے  سیاسی نعرے بازی پر وقت اور صلاحیت برباد کرکے حالات کو مزید سنگین اور پیچیدہ بنایا ۔ اسی کے نتیجے میں وزیر اعظم عمران خان کو  اپریل میں کابینہ میں تبدیلیوں  کے علاہ   مالی امور  کی نگرانی کرنے والے عہدوں پر ’پیشہ ور ماہرین‘ کو مقرر کرکے  صورت حال پر قابو پانے کی کوشش  کرنا پڑی۔  ان تبدیلیوں کے بارے میں نت نئی  افواہیں پاکستان کے سیاسی ماحول میں گردش کرتی رہتی ہیں ۔  جن میں آئی ایم ایف کے دباؤ کے علاوہ یہ  الزام بھی سر فہرست ہے کہ وزیر اعظم  کو اپنے ونڈر بوائے  اسد عمر کی نااہلی  پر قابو پانے  کے لئے حفیظ شیخ کو مالی امور کا  مشیر مقرر  کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

حفیظ شیخ ہی کی نگرانی میں  آئی ایم ایف کے ساتھ تین سالہ مالی تعاون کا معاہدہ طے پایا ہے جس کی تفصیلات ابھی تک مخفی رکھی گئی ہیں۔ اگرچہ اس رازداری کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہؤا کیوں کہ ملک کے مالی  حالات ہر آنے والے دن کے ساتھ دگرگوں ہونے کی خبریں عام ہیں۔  اور معیشت  کی بہتری کے لئے عالمی مالیاتی ادارے  ہر دور اور ہر ملک میں جو نسخہ تجویز کرتے ہیں ، اس میں محاصل میں اضافہ اور مصارف میں کمی پر زور دیا  جاتا ہے۔ یہی بات وزیر اعظم عمران خان  نے آج  پشاور کے دورہ کے دوران  صوبائی حکام سے ملاقات میں بھی کہی ہے کہ نیا بجٹ  قومی بچت   کا بجٹ ہوگا۔ حکومت چونکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے  میں ناکام ہے اور مالیاتی ٹیم  کو  ماہرین کی ٹیم سے بدلنے کے باوجود ابھی تک  مختلف معاشی اہداف حاصل  کرنے کے  لئے  کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آسکی ہے۔  اس لئے جس بچت  کا ذکر وزیر اعظم کررہے ہیں اور  ٹیکسوں میں اضافہ کی جو نوید دی جارہی ہے، اس کا حتمی بوجھ بہر حال ملک کے غریب اور نچلے متوسط طبقے پر ہی پڑے گا۔

روزنامہ ڈان نے بجٹ سے ایک روز  پہلے پیش کئے جانے والے اکنامک سروے19۔2018  میں دی گئی معلومات کے بارے میں  آج ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سروے میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ حکومت اپنے تمام معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ قومی پیداور میں اضافہ کی شرح  کا تخمینہ 6،3 فیصد لگایا گیا تھا لیکن یہ صرف 3،3 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ  ہر پیداواری شعبہ میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔  لائیو اسٹاک  کے شعبہ میں قدرے بہتری کے سوا صنعت، مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر اپنے مقررہ اہداف پورے نہیں کرسکے۔ اکنامک سروے کے اندازے کے مطابق ملک کی زرعی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

معیشت کی اس ابتر صورت حال ہی کی وجہ اپوزیشن  بجٹ کے بعد پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کرنے  کے علاوہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کا ارادہ بھی رکھتی  ہے۔ اگرچہ ملک کی دونوں اہم سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی   موجودہ جمہوری نظام  کو ممکنہ خطرہ سے  بچائے رکھنے کے لئے  ، حکومت کی تبدیلی  کے لئے کوئی  بڑا ہنگامہ  برپا کرنے کے  موڈ میں نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اگر بجٹ میں عائد کئے گئے محاصل  اور مختلف  متوقع مالی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہؤا اور یہ بوجھ عام لوگوں کی  ہمت و استطاعت سے زیادہ ہؤا تو   سیاسی اپوزیشن کو فطری طور سے سامنے  آنے والی بے چینی   کی قیادت کرنا پڑے گی۔

 عمران خان اپوزیشن کے احتجاج کے حوالے  بظاہر مطمئن دکھائی دیتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اپوزیشن لوگوں کو احتجاج پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی کیوں کہ اس وقت سیاست دانوں کی کرپشن کے نام پر جو مزاج بنالیا گیا ہے ، اس میں آسانی سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ تو اپنی لوٹ مار کو بچانے کے لئے  احتجاج کررہے ہیں۔ تاہم  وزیر اعظم یہ سمجھنے سے انکار رکرہے ہیں  کہ اگر عوام  ہی معاشی حالات سے تنگ آکر  غیر منظم احتجاج پر  مجبور ہوگئے تو ملک کے اہم ادارے بھی  چاہیں گے کہ انہیں قیادت فراہم کردی جائے تاکہ   ایسا کوئی احتجاج بے قابو نہ ہو۔

عمران خان کو یہ گمان بھی ہے کہ فوج چونکہ ان کی پشت پر ہے اور عسکری حلقے دیگر سیاسی جماعتوں سے بدظن  ہیں ، اس لئے  ان کی سیاست کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی  اخراجات کے حوالے سے  بجٹ کا اعلان ہونے سے پہلے  ہی  رائے عامہ ہموار کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ لیکن اس معاملہ میں بھی عمران خان اور ان کے رفقا  یہ سمجھنے  میں کوتاہی کررہے ہیں  کہ  عبوری  مدت کے لئے اخراجات کو منجمد کرنے   کی حد تک تو بات سمجھ میں  آتی ہے لیکن  پاک فوج کو متعدد محاذوں پر  متعدد  چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے بہر حال مناسب مالی وسائل کی ضرورت رہے گی۔ اگر حکومت  ملکی معیشت کو موجودہ کساد بازاری، بے اعتباری اور  تعطل سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو فوج کے لئے بھی ایسی نااہل حکومت کو زیادہ  دیر برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ خاص طور سے جب تحریک انصاف کے متبادل بھی موجود ہوں اور اس بات کے اشارے بھی دیے جارہے ہوں کہ  موجودہ معاشی  ابتری کی سب سے بڑی وجہ عمران خان کی سیاسی ہٹ دھرمی اور کم فہمی ہے۔

بجٹ سامنے آنے کے بعد ہی اصل حالات اور اس پر ردعمل کا اندازہ کیا جاسکے گا لیکن حکومت نے اگر سڑکوں پر بگڑتے حالات کے بارے میں غلط اندازے قائم کئے اور اس  خطرے  کو کسی قابل عمل سیاسی افہام و تفہیم اور انتظامی اقدامات کے ذریعے قبل از وقت   ٹالنے  کی کوشش نہ کی تو  مہنگائی   سے ستائے ہوئے لوگوں کا احتجاج ایک طرف معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب کرے گا تو دوسری طرف انتظامی لحاظ سے اس صورت حال کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں  ہوگا۔ بھوکے مظاہرین پر   کسی  بھی سرکاری ظلم   کا ردعمل اندازوں سے بھی زیادہ شدید ہوسکتا  ہے۔   پریشانی کی بات یہ ہے حکومت اس صورت حال   کا اندازہ کرنے اور اس کے رونما ہونے سے پہلے ہی اس کا  کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کررہی۔

بجٹ سے پہلے پارلیمانی لیڈروں کے ساتھ اعتماد سازی کا کام کرنے کی بجائے وزیر اعظم   پشاور میں اپنی پارٹی کی  صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد سوموار کو بنی گالہ میں پارٹی قیادت اور وفاقی اور پنجاب    کی حکومتوں کے نمائیندوں سے ملاقات کریں گے۔  ان ملاقاتوں کی بجائے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کا  عمل شروع کرنا چاہئے تھا۔ بجٹ سے پہلے اگر اہم  جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لیا جاتا اور ان کی تجاویز پر غور کرنے اور بجٹ میں ان کی گنجائش پیدا کرنے کااشارہ دیا جاتا تو اس کا کوئی بہتر نتیجہ سامنے آنے کا امکان تھا۔ بجٹ  کا اعلان ہونے  کے بعد اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کی کوشش زیادہ مشکل ہوجائے گی کیوں کہ پھر اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنے سیاسی امکانات کے مطابق حکمت عملی اختیارکریں گی۔ بجٹ سے پہلے نیب کے متعدد مقدمات میں گھرے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی وطن واپسی بلاوجہ نہیں ہوسکتی۔ سمجھنے والوں کے لئے  اس قسم  واقعات میں کئی اشارے پنہاں ہوتے ہیں۔ سوال ہے کہ کیا تحریک انصاف ان اشاروں کو سمجھ پارہی ہے؟

وزیر اعظم  نے پشاور میں  بچت کی ضرورت  اور دفاعی اخراجات میں کمی کا  اعلان کرنے کے باوجود قبائیلی علاقوں  میں سہولتیں فراہم کرنے اور لوگوں کی سماجی بہبود، تعلیم اور روزگار کے لئے خاص طور سے  وسائل فراہم کرنے کا   وعدہ  کیا ہے۔ آج ہی خیبر پختون خوا کی حکومت نے الیکشن  کمیشن سے  قبائیلی علاقوں میں مجوزہ انتخابات کو مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے کیوں کہ ان علاقوں میں امن و امان کی صورت حال  ابھی پوری طرح قابو میں  نہیں ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاج اور شمالی وزیرستان میں فوج پر ہونے والے متعدد حملوں  کے بعد  جوابی الزامات سے سیاسی اور انتظامی صورت حال جس نہج پر پہنچ رہی ہے ، اسے صرف مالی  مراعات کے  لالی پاپ سے بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے لئے سیاسی اعتماد سازی کا بھاری پتھر چومنا ہوگا۔

بجٹ  کے بعد سامنے آنے والی پریشانی    قبائیلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے ساتھ   مل کر ملک کی معیشت کے علاوہ ، سیاسی استحکام کے لئے شدید خطرہ بن  سکتی ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف اگر   ان چیلنجز سے سیاسی چابکدستی  سے نہ نمٹ  کرسکے تو آنے والے مہینے حکومت  کی پریشانیوں میں اضافہ کا باعث ہوں گے۔ اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت خود ان کی بداعمالیوں کے بوجھ تلے  دب کر اپنی دل کشی  کھونے والی ہے۔

loading...