عید پر یہ جہاز ہمارے دلوں پر لینڈ کرتے ہیں

ہجرتِ خوداختیاری کے تحت پردیس جانے والوں کو کوئی بتائے کہ گاؤں کا پتھریلا رستہ تکتے بوڑھے ماں باپ، متروں اور سکھیوں کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، تب جا کر کہیں کچی منڈیروں پر کوا بولتا ہے اور ہماری عید ہوتی ہے۔

ان کی عید، جن کے ساتھ آپ نے برسوں ایسے بِتائے کہ جدائی کا تصور بھی محال تھا۔ اس موسم میں شہروں سے ہمارے پردیسیوں کی آنے والوں کی گاڑیاں ہم دیہاتیوں کے من کے موٹر وے پر چل کر آتی ہیں اور بیرون ممالک سے ہمارے پیاروں کو لانے والے جہاز ہمارے دلوں پر لینڈ کرتے ہیں۔

عید کے دنوں میں آپ کے گاؤں لوٹنے پر وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو ہمارے چہرے ہی نہیں کھلتے، یہ ٹاہلیاں بھی جھوم جھوم جاتی ہیں، جن کی مہرباں چھاؤں میں بیٹھ کر کبھی آپ نے کسی سے عمر بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں۔ بیری کے یہ پرانے درخت اپنی ٹہنیاں آپ کے سامنے جھکا دیتے ہیں، اپنے بچپن میں جن پر چڑھ کر آپ نے لاتعداد مرتبہ بیر کھائے تھے۔ بوڑھے برگد آپ کے اعزاز میں اپنی چھاؤں اور بھی گھنی کر دیتے ہیں مبادا کہیں شہر کی برق رفتار اور مشینی زندگی میں آپ کی روح جھلس گئی ہو۔

دور تک بل کھاتی پگڈنڈیاں آپ کے سجل پاؤں نصیب ہونے کی خوشی میں اپنے اوپر سبزے کی دبیز تہہ اوڑھ لیتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ماضی کے برعکس اب آپ کے پاؤں نرم و نازک ہو چکے ہیں، ورنہ بچپن میں تو آپ ان پر ننگے پاؤں ہی دوڑتے پھرتے تھے۔ خوشی کے گیت گاتی چڑیاں، کوئلیں اور فاختائیں ٹہنی در ٹہنی اور منڈیر در منڈیر پھدکتی پھرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ بیتے دنوں میں آپ کو یہ گیت بڑے پسند تھے۔

عید سے ایک دن قبل جب آپ پختہ سڑک سے اپنے گاؤں کے کچے رستے پر مڑتے ہیں تو اس کی دھول جنونی وارفتگی کے ساتھ آپ کی لگژری گاڑیوں کے پہیوں سے یوں لپٹتی چلی جاتی ہے کہ جیسے اس دفعہ تو آپ کو واپس جانے ہی نہ دے گی۔           

ہمارے جذبات تو قابل فہم ہیں کہ ہم اپنے ان پیاروں کے ساتھ کھیتوں، کھلیانوں اور گلیوں میں کھیلتے پلے بڑھے یا ان میں سے کئی ہمارے ہاتھوں میں بڑے ہوئے، مگر ان عمر رسیدہ ٹاہلیوں، بیریوں، کیکروں، کچے رستوں اور پگڈنڈیوں کی سمجھ نہیں آتی جن کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔ گوشت پوست سے بنے انسان کے سینے میں تو دل ہے مگر ان درختوں اور پگڈنڈیوں کو کون محبت کرنے پر مجبور کرتا ہے؟

ہو سکتا ہے کہ دیہات کے پیڑوں کی چھاؤں اور کچے رستوں کی دھول بھی انسانوں کے ساتھ سالہا سال کی رفاقت میں ان سے مانوس ہو جاتی ہوں۔ کیاعجب کہ گھنی چھاؤں اور کچی مٹی کی بھی اپنے ہم نشینوں کی خوشبو اور پاؤں کے لمس سے جذباتی وابستگی ہو جاتی ہو اور یہ جدائی ان سے سینے چیر دیتی ہو۔

بے ثبات زندگی کے میلے میں عید کی یہ بہار چار روز خوب جوبن پر ہوتی ہے۔ آپ کے صاف ستھرے لباسوں اور جسموں کی خوشبو پا کر گاؤں کی فضا معطر ہو جاتی ہے۔ پسماندہ دھرتی کا انگ انگ اٹھلاتا پھرتا ہے۔ ہم اور ہمارے شجر ایک دوسرے سے اپنے خوشی کے آنسو چھپاتے پھرتے ہیں۔ قبر میں پاؤں لٹکائے ماں باپ خود کو جوان محسوس کرتے ہیں۔ آپ کے بچپن کے دوست یاروں کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے۔ سکھیوں سے ان کی خوشی سنبھالی نہیں جاتی۔ پرانی محبتیں آپ سے جدائی اور بےوفائی کے شکوے بھی کرتی ہیں۔ آپ انہیں غم روزگار کی مجبوریاں بتاتے ہیں۔ تب گاؤں کی کھلی فضا میں ایسی دلفریب محفلیں جمتی ہیں کہ

راتوں کو جو چھڑ گئی ہیں باتیں
باتوں میں گزر گئی ہیں راتیں

یادیں تازہ ہوتی ہیں، دلوں کی باتیں ہوتی ہیں، رفتگاں کی باتیں ہوتی ہیں، بچپن کی باتیں ہوتی ہیں، گزری عیدوں کی باتیں ہوتی ہیں، پینگوں، جھولوں کی باتیں ہوتی ہیں، وفاؤں کے تذکرے ہوتے ہیں، بےوفائیوں کے گلے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو منانے کی رسمیں ادا ہوتی ہیں، پکوان پکتے ہیں، ملن کے گیت گائے جاتے ہیں، آپ اور آپ کے نفیس بچوں پر بےکراں محبتیں نچھاور ہوتی ہیں اور ان کی سیوا میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی۔

تب ہم پینڈو آپ کے قیمتی وقت کا جی بھر کے استحصال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم آپ کی سلامتی کے لیے مانی گئی مَنتیں دینے، اپنے بکرے کھولے اور آپ کو ساتھ لیے دور دراز جنگلوں میں درباروں کی طرف چل نکلتے ہیں، جہاں نشیب میں بہتی ندیاں دلفریب نغمے سناتی ہیں۔ وہاں کی شکر دوپہروں میں، ہُو کے عالم میں، دور بہت دور آسماں جھک کر زمین سے گلے ملتا ہے اور یہ دونوں خوب باتیں کرتے ہیں، جیسے ماضی کی فرصت میں ہم اور آپ پہروں مل کر کیا کرتے تھے۔ شاید زمین و آسمان تاقیامت ساتھ نبھانے کے وعدوں کی تجدید کرتے ہیں۔ ضرور ایک دوسرے کے ساتھ اپنے دکھ سکھ بھی شیئر کرتے ہوں گے۔

کیا عجب کہ دھرتی اپنے اوپر ارزاں ہونے والے انسانی خون کے دلخراش قصے سناتے آسمان کے گلے میں بانہیں ڈال کر چیخ پڑتی ہو اور یہ چیخیں آسمان کو لرزا دیتی ہوں۔ ان درباروں پر مٹی کے برتنوں میں کھانا پکتا ہے اور انہی میں کھایا جاتا ہے۔ نہ پلیٹ، نہ چھری کانٹا، نہ چمچ، نہ نیپکن، نہ ڈائننگ ٹیبل…مگر آپ ہمارا دل رکھنے کی خاطر زمین پر بیٹھ کر ہمارے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو ہم خود کو آسمانوں پر اڑتا محسوس کرتے ہیں۔

عید کے یہ دلگداز لمحے پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں۔ آپ ہمارے پیارے، ہمارے ساتھ یا ہمارے ہاتھوں میں پلے بڑھے تارکینِ دیہات زندگی کی حرارتوں سے بھرپور عید منا کر اور ہم پسماندوں کی خوشیاں دوبالا کر کے واپس شہروں اور ملکوں کی طرف پلٹنے کا قصد کرتے ہیں۔

ہمارے دل آپ کو روکنے کے لیے مچلتے ہیں۔ پگڈنڈیاں آپ کے پاؤں جکڑنے کی سعی کرتی ہیں۔ بوڑھے درختوں کی چھاؤں آپ کو واپس بلاتی ہے۔ کچے رستوں کی دھول آپ کی گاڑیوں کے پہیوں کو جام کرنے کی خاطر ان سے لپٹتی ہی چلی جاتی ہے، مگر جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی؟

ہمیں لگتا ہے کہ خوشبوؤں کو اڑا کر ہوا لے گئی۔ گاؤں کی فضا اداس ہو جاتی ہے۔ دلوں میں بسنے والے پھر سے پردیس میں جا بستے ہیں تو ہمارے قہقہوں میں جان نہیں رہتی، کوئل کی آواز میں کھنک نہیں رہتی، فاختہ کے گیتوں میں مٹھاس نہیں رہتی، چڑیوں کی چہچہاہٹ میں شوخی نہیں رہتی۔ وصل کی گھڑیاں ختم ہوتی ہیں۔

فرقت کی صدیاں پھر سے شروع ہوتی ہیں۔ ہم ہمارے شجر ہمارے پرندے، ہمارے چاند کی ٹھنڈی لَو، ہماری پگڈنڈیاں اور ہمارے کچے رستے اکیلے رہ جاتے ہیں۔ ہجر پھر سے ہم کو لاحق ہو جاتا ہے۔ ہم سب دوبارہ انتظار کی سولی پر لٹک جاتے ہیں، حتیٰ کہ سال بعد اگلی عید قریب آ جاتی ہے اور ہم بےچینی سے آپ کو میسجز کرتے ہیں ’پِپلاں دی چھاں وے…کدی بہہ جاں وے۔‘

ہجرتِ خود اختیاری کے تحت پردیس جانے والوں کو کوئی کیسے بتائے کہ گاؤں کا پتھریلا رستہ تکتے بوڑھے ماں باپ، متروں اور سکھیوں کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، تب جا کر کہیں کچی منڈیروں پر کوّا بولتا ہے اور ہماری عید ہوتی ہے۔ 

(بشکریہ: انڈی پندنٹ ۔ اردو)

loading...