چُونا منڈی کا ڈاکٹر انور سجاد

جب ہمارے بزرگ ہجرت کر کے پاکستان آئے تو انہیں چُونا منڈی میں ایک گھر الاٹ ہوا. یہ گھر ایک طویلہ تھا جسے ہم پنجابی ’طبیلہ‘ کہا کرتے تھے. جب میں چھوٹا تھا تو میرے سب سے بڑے ماموں دیگر رشتے داروں کے ساتھ طویلے میں رہتے تھے. اگرچہ چُونا منڈی میں ہمارے بہت سے رشتے دار رہتے تھے مگر ہم کبھی کبھار خاص طور پر ماموں کے گھر جایا کرتے تھے. جمعے کے روز چُھٹی ہوا کرتی تھی اور ہم زیادہ وقت کرکٹ کھیل کر گزارتے تھے. تب اعظم مارکیٹ چُونا منڈی سے پرے پرے تھی اور ہم چُونا منڈی کی گلیوں میں کرکٹ کھیلتے اور آوارہ گردی کیا کرتے تھے.

ایک روز میں نے کسی کو کہتے سُنا کہ ’ڈاکٹر انور سجاد جس کی کہانی لکھتا ہے وہ مر جاتا ہے‘۔ اس پر سب لوگ قہقہہ لگانے لگے. میں نے اپنے ماموں زاد ارمغان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو اس نے بس اتنا کہا  ’یہاں ایک ڈاکٹر ہے‘۔

پھر ایک روز میں اور ارمغان آوارہ گردی کرنے کے بعد طویلے لوٹ رہے تھے تو اس نے مجھے کہنی مار کر متوجہ کیا اور ایک کلینک کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا  ’یہ ہے اس ڈاکٹر کا کلینک۔ اوپر اس کا گھر ہے اور نیچے کلینک ہے‘۔  اس شخص نے تو جانے کس تناظر میں وہ بات کہی تھی مگر میں نے ڈاکٹر صاحب کے متعلق یہ رائے قائم کر لی کہ وہ جس کی کہانی لکھتے ہیں، وہ مر جاتا ہے۔

میں جب بھی ان کے کلینک کے سامنے سے گزرتا تو ایک نظر اس جانب ضرور دیکھتا۔ ایک روز جانے کیا جی میں آئی کہ میں ان کے کلینک کی طرف بڑھا اور باہر کھڑے ہو کر خوفزدہ ہونے لگا۔ پھر کچھ سوچ کر میں نے ڈرتے ڈرتے اندر جھانکا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے دیکھتے ہی آواز لگائی  ’ہاں بھئی کدھر؟‘ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا اور نالی میں گرتے گرتے بچا۔ میں نے خود کو سنبھالا اور دوڑ لگا دی۔

اس کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب کو کئی بار دیکھا۔ کبھی ان کے گھر کے پاس، کبھی کشمیری گھاٹی کی طرف، کبھی شیرانوالے کی جانب جاتے ہوئے اور کبھی طویلے کے باہر سے گزرتے ہوئے۔ ایک بار کچھ یوں ہوا کہ ہم اجّی کی مارکیٹ کے باہر کرکٹ کھیل رہے تھے اور میں گلی میں فیلڈنگ کر رہا تھا۔ مجھ سے مِس فیلڈ ہوئی اور میں گیند کے پیچھے بھاگتے ہوئے بازار کی طرف آ گیا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو دِلّی دروازے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔ میں نے گیند واپس پھینکا اور تھوڑی دیر کے لئے رخصت لی۔ ڈاکٹر صاحب گرو رام داس کے جنم استھان کے پاس پہنچ چکے تھے۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، انہیں پشت سے دیکھتا رہا اور خوفزدہ ہوتا رہا۔ چوٹہ پہنچنے تک میں نے ان کا پیچھا کیا اور پھر وہ اکبری منڈی کی جانب چلے گئے اور میں لڈّو پیٹھی والے کھا کر لوٹ آیا۔

اس کے بعد میں نے انہیں آخری بار دیکھا۔ ارمغان کو ناف پڑی تھی اور ہم اس کے ماموں سے ناف نکلوانے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے گلے میں سے دھاگہ نکالا اور ارمغان کو قمیض اُٹھانے کو کہا۔ پھر انہوں نے ناف سے لے کر دائیں بائیں چوچی تک پیمائش کی اور بولے ’تمہیں ناف کیسے پڑ گئی؟‘ ان کے پوچھنے کا انداز کچھ ایسا تھا کہ مجھے لگا جیسے ناف کوئی ایسی چیز ہے جو نہیں پڑنی چاہئے۔ میں نے بلاوجہ خجالت سے منہ دوسری طرف کیا تو ڈاکٹر صاحب گزر رہے تھے۔ وہی ڈاکٹر صاحب جن کے متعلق میں نے سُن رکھا تھا جو ’جس کی کہانی لکھتے ہیں وہ مر جاتا ہے‘۔ اب میں بھی کہانیاں لکھتا تھا۔ مگر میرے سارے کردار زندہ تھے۔

اس کے بعد میں کتابیں پڑھتا رہا مگر کبھی ڈاکٹر صاحب کو نہیں پڑھا۔ لکھنے لگا تو کبھی ڈاکٹر صاحب کے متعلق نہیں لکھا۔ سنجے دت کی فلم ’شبد‘ آئی تو میری آنکھوں کے سامنے چُونا منڈی کے ڈاکٹر صاحب آ گئے۔ میں جب بھی مذکورہ فلم دیکھتا تو ڈاکٹر صاحب یاد آ جاتے۔ اور جب بھی کہیں ٹی وی، اخبار یا سوشل میڈیا پر ڈاکٹر صاحب کو دیکھتا تو ’شبد‘  کا سنجے دت یاد آ جاتا۔

پھر یوں ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بیمار ہو گئے۔ مفلوک الحال زندگی گزارنے لگے۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر صاحب کی تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں۔ ڈاکٹر صاحب کے حق میں آوازیں اُٹھنے لگیں۔ یہ آوازیں مجھے بِھک منگوں کی آوازیں لگتیں۔ ان میں کئی آوازیں میرے دوستوں کی بھی تھیں۔ مجھے لگتا جیسے سب لوگ بھیک مانگ رہے ہیں۔ میرے دوست بھیک مانگ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بھی بھیک مانگ رہے ہیں۔ میں کبھی ان بھیک مانگنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر رونا آتا۔ دل چاہتا وہ بھیک نہ مانگیں، بس کہانی لکھیں۔ اس معاشرے کی کہانی لکھیں اور یہ معاشرہ مر جائے۔ اس قوم کی کہانی لکھیں اور یہ قوم مر جائے۔ بلکہ وہ اس دنیا کی کہانی لکھیں اور یہ دنیا ہی مر جائے۔ بچپن میں کان پڑی سچ ہو جائے۔

کئی بار دل چاہا کہ ڈاکٹر صاحب سے جا کر ملوں۔ مگر پھر سوچتا، میں مل کر کیا کروں گا؟ دل چاہتا کہ انہیں بچپن کے وہ سب لمحے سناؤں جب جب میں نے انہیں دیکھا۔ جب میں نے ان کا پیچھا کیا۔ انہیں بتاؤں کہ میں ان کے متعلق کیا سوچتا تھا۔ شاید وہ میری باتیں سُن کر مسکرا دیں۔ یا پھر شاید رو دیں۔ کیونکہ میں نے ان کی آخری بار جو ویڈیو دیکھی اس میں وہ مسکراتے ہوئے یوں لگ رہے تھے جیسے رونے لگے ہیں۔ خیال آتا کہ ایسا نہ ہو میں ان سے ملنے جاؤں اور وہ کہیں ’ہاں بھئی کدھر؟‘ مگر یہ بھی سچ ہے کہ دل چاہتا اگر میں ان سے ملنے جاؤں تو وہ یہی کہیں ’ہاں بھئی کدھر؟‘

کل ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ نہ مجھے کوئی فون آیا اور نہ ہی میں نے سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی۔ میں پشاور سے آئے ایک دوست کو لاہور گھما رہا تھا۔ جہاں میں اسے بہت سی جگہوں پر لے کر گیا وہیں میں اسے دِلّی دروازے بھی لے کر گیا۔ شاہی حمام، تنگ بازار، مسجد وزیر خان دکھا کر اسے گرو رام داس کے جنم استھان کے دروازے پر لے گیا۔ اسے وہ طویلہ بھی دکھایا جہاں اب اعظم مارکیٹ کا ایک پلازہ بن چکا ہے۔ پھر چُونا منڈی سے گزر کر اندرون مستی کی طرف نکل گیا۔ اور صبح تین بجے کے قریب گھر پہنچ کر سو گیا۔

ابھی جب سو کر اُٹھا تو سوشل میڈیا پہ ہر طرف ڈاکٹر صاحب کے وصال کی خبریں تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے جنازے میں شرکت نہ کرنے پر روؤں یا شکر کروں۔ شاید میرا شکر کرنا بنتا ہے۔ اگر میں چلا جاتا تو وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے ’ہاں بھئی کدھر؟‘۔ کیونکہ میرے اور ڈاکٹر صاحب کے رشتے میں صرف ایک اسی جملے کی گنجائش تھی۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...