کیا صور پھونکا جا چکا ہے ؟

انسانی نفسیات بھی کیا عجوبہ ہے۔اگر میں کہوں کہ پاکستان میں ہر سال پانچ لاکھ بچے پیٹ کی قابلِ علاج بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہماری انفرادی و اجتماعی ، سماجی و ریاستی لاپرواہی کے سبب مر جاتے ہیں تو ننانوے فیصد امکان ہے کہ آپ کے کان پر جوں تک نہ رینگے اور آپ کا دل اسے شائد این جی او کلچر کا مالیخولیا سمجھ کر غور کرنے سے پہلے ہی مسترد کردے اور دماغ میں لال بتی روشن ہوجائے کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک اور سستا جھوٹ۔

لیکن جیسے ہی آپ کو یہ بریکنگ نیوز ملتی ہے کہ احمد پور شرقیہ میں قومی شاہراہ پر ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے دو سو سے افراد جھلس کر مر گئے تو آپ کو اچانک شاک لگے گا۔ کیونکہ آپ ان بدقسمت لوگوں کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں اور وہ بھی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات سمیت۔ مگر پیٹ کی قابلِ علاج بیماریوں سے پانچ لاکھ بچے چونکہ ایک ساتھ  ایک جگہ بیک وقت نہیں مر رہے اور ان کے لاشے تین سو پینسٹھ دنوں پر پھیلے  پڑے ہیں۔لہذا آپ کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے کے لیے ان کی اجتماعی تصویر آپ کو نہیں دکھائی جا سکتی، یوں ایک عظیم المیہ دل و دماغ میں پیوست ہونے سے رہ جاتا ہے۔

جب دو جون کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سو ستانوے ممالک کے درمیان طے پانے والے پیرس عالمی ماحولیاتی معاہدے دو ہزار پندرہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تو مجھ جیسے پاگلوں کے حساب سے یہ اس سال کی سب سے اندوہناک خبر تھی۔ خبر کیا تھی گویا صورِ اسرافیل تھا جس کی آواز کسی چینل یا اخبار کو سنائی نہ دی۔ اگر میں یہ کہوں کہ جس قیامت کا اللہ تعالی نے وعدہ کیا  اس کی آمد کی بنیاد شائد ٹرمپ نے رکھ دی ہے تو کیا آپ اگلی سطریں پڑھ لیں گے۔ ہم دیوار پہ موٹا موٹا لکھا پڑھیں نہ پڑھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوائے یہ کہ ہماری اگلی نسل سر پکڑ کر سوچے گی کہ پچھلی نسل کتنی سفاک اور بے حس تھی۔

تو پھر سنیے کہ دو ہزار پندرہ ، سولہ اور سترہ انسان کی معلوم تاریخ میں سب سے گرم سال کے طور پر ریکارڈ  کیے گئے ہیں۔اور اگلے برس کے بارے میں بھی یہی پیش گوئی ہے کیونکہ ہماری بے اعتدالیاں اور مجرمانہ غفلت زمین کا درجہِ حرارت مسلسل بڑھا رہی ہیں اور اس کے سبب موسم باؤلے ہو چکے ہیں۔ جب بارش ہونی چاہیے تو خشکا پڑ جاتا ہے۔ جب بالکل نہیں ہونی چاہیے تو موسلا دھار ہو جاتی ہے۔

جہاں کبھی جھکڑ یا سمندری طوفان نہیں آئے وہ جگہیں طوفانوں کی زد میں ہیں اور جو علاقے روایتی طور پر سمندری و زمینی طوفانوں کے عادی ہیں وہاں سناٹا ہے۔ جن علاقوں نے سیلاب کا کبھی نہیں سنا تھا وہاں سیلاب آ رہے ہیں اور جو پہلے سے سیلاب زدہ علاقے کہے جاتے ہیں وہاں ان کی تعداد دگنی ہو رہی ہے۔ اس موسمیاتی اتھل پتھل سے نہ صرف آنے والے برسوں میں کھربوں ڈالر کا مسلسل اقتصادی نقصان سر پہ کھڑا ہے بلکہ کروڑوں انسان پانی کی تلاش یا پانی سے بچنے کے لیے نقلِ مکانی پر بھی مجبور ہوں گے۔ ذرا سوچئے کہ اس صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں اضافہ روکنے کی موجودہ کوششیں اگر ناکام ہوتی ہیں تو پھر یہ درجہ حرارت دو ہزار ننانوے تک تین ڈگری اور بڑھ جائے گا۔تب کیا حال ہوگا ؟

اس زمین پر کھارا پانی ستانوے اعشاریہ آٹھ فیصد اور پہاڑی برف ، گلیشیرز، براعظم انٹارکٹیکا اور بارشوں کی شکل میں میٹھے پانی کی مقدار محض دو اعشاریہ دو فیصد ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے ہمارا میٹھے پانی کا بینک یعنی برف پگھل رہی ہے اور برف پگھلنے سے سطحِ سمندر بڑھ رہی ہے۔ اور سطح سمندر بڑھنے سے بہت سے ساحلی علاقے زیرِ آب آ رہے ہیں۔ اس وقت درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں سطح سمندر میں اوسطاً تین اعشاریہ تین ملی میٹر سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اور یہ مقدار انیس سو ترانوے سے دو ہزار چار کے درمیان کے سالانہ اوسط اضافے سے پچیس تا تیس فیصد زیادہ ہے۔ یعنی اگر پچاس برس بعد مالدیپ ، بنگلہ دیش اور آدھا سری لنکا اور آدھا انڈونیشیا وغیرہ آپ کو نقشے میں دکھائی نہ دیں تو حیران مت ہوئیے گا۔

درجہ حرارت میں اضافے سے روس تا کینیڈا پھیلے ہوئے بحیرہ منجمد شمالی ( آرکٹک سرکل ) کی تہہ بھی پگھل رہی ہے۔ انیس سو اکیاسی سے دو ہزار دس تک یہ برفیلی تہہ (آئس شیٹ ) ساڑھے چودہ ملین کیلو میٹر پر پھیلی ہوئی تھی جو آج سکڑ کر محض چار اعشاریہ چودہ ملین کیلو میٹر تک رہ گئی ہے۔ چنانچہ بحیرہ منجمد شمالی کی جنگلی حیات بالخصوص برفانی ریچھ اور برفانی چیتا پہلی بار بقا کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جانوروں کی آٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ اقسام کی زندگیاں اس وقت دنیا کے مختلف علاقوں میں درجہِ حرارت میں اضافے کے بحرانی پھندے سے جھول رہی ہیں۔

درجہ حرات میں یہ اضافہ گیسوں کے اخراج کے سبب ہو رہا ہے۔ اسی لیے تقریباً بیس برس تک سر مارنے کے بعد بالآخر دو ہزار پندرہ میں پوری ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دنیا کے اربابِ اقتدار پیرس ماحولیاتی معاہدے پر متفق ہو سکے۔ اس کے تحت عالمی درجہِ حرارت کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے ایسے اقتصادی و صنعتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا جن  کے نتیجے میں دو ہزار تیس تک گیسوں کے اخراج میں چھبیس تا اٹھائیس فیصد کمی لائی جا سکے۔ یوں درجہِ حرارت میں اس صدی کے آخر تک دو ڈگری تک کمی کا ہدف حاصل کرنے کے بارے میں سوچا گیا ہے۔ اس کے لیے اشد ضروری ہے کہ آلودگی نہ پھیلانے والی کلین یا گرین ٹیکنالوجی استعمال ہو اور زمینی ایندھن یعنی پٹرولیم مصنوعات اور کوئلے کی جگہ ہوا ، پانی اور سورج سے توانائی کے وسیع حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔ یہ کام تب تک ممکن نہیں جب تک دو بڑی صنعتی طاقتیں چین اور امریکا ساتھ نہ دیں۔ کیونکہ یہی دو ممالک کرہِ ارض پر پینتیس تا چالیس فیصد صنعتی و غیر صنعتی آلودگی کے ذمے دار سمجھے جاتے ہیں۔

جب پیرس معاہدے کو صدر اوباما اور صدر ژی پنگ نے بھی تسلیم کر لیا تو اس کی عالمی افادیت مستحکم ہوگئی۔ مگر پھر افق پر ٹرمپ نازل ہوگیا۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ہی اعلان کردیا کہ پیرس ماحولیاتی معاہدے کے پردے میں دیگر ممالک امریکا کو عالمی اقتصادی قیادت سے محروم کرنے کے لیے ماحولیات بہتر بنانے کے بہانے اربوں ڈالر اینٹھنا چاہتے ہیں اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ٹرمپ نے کہا کہ ماحولیات کی تباہی کا واویلا محض ڈھکوسلے بازی ہے۔ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ واقعی درجہِ حرارت بڑھ بھی رہا ہے یا یہ چند نام نہاد سائنس دانوں کی دماغی اختراع ہے۔

ٹرمپ کو سب سے زیادہ ووٹ ان ریاستوں سے ملے جہاں کوئلے اور تیل کی صنعت سے وابستہ لابی اور کارکنوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ اور پھر ٹرمپ نے پچھلے ماہ کے شروع میں یہ کہتے ہوئے اپنا وعدہ پورا کردیا کہ مجھے ووٹ پٹس برگ والوں نے دیا ہے سینٹ پیٹرز برگ نے نہیں۔ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے گرین کلائمیٹ فنڈ کے لیے امریکی چندہ بھی روک دیا اور تیل اور گیس کی صنعت کو نئی دریافتوں اور انھیں بروئے کار لانے کی اجازت دے دی۔ ٹرمپ پہلے ہی امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور ماحولیاتی ادارے ای پی اے کے بجٹ میں کٹوتی کا اعلان کر چکے ہیں۔

پیرس معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بانکی مون اور سابق امریکی صدر اوباما نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کی بھد اڑاتے ہوئے اوباما نے کہا ،’’ اگر سو میں سے ننانوے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ مجھے ذیابطیس ہے اور مجھے لازماً میٹھا چھوڑنا ہوگا تو میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ ننانوے ڈاکٹر میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ سو میں سے ننانوے سائنسداں کہہ رہے ہیں کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے مگر سینیٹ کی ماحولیاتی کمیٹی کے ری پبلیکن سربراہ برف کا گولہ پکڑ کے کہہ رہے ہیں کہ میرے ہاتھ میں برف ہے  جو اس بات کا ثبوت ہے کہ درجہِ حرارت کم نہیں ہو رہا‘‘۔

اچھی بات یہ ہے کہ چین اور یورپی یونین نے ٹرمپ کے اس یک طرفہ اقدام کے ماحولیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانویل میکخواں نے امریکا کے ماحولیاتی سائنسدانوں کو فرانس منتقل ہو کر اپنی تحقیق جاری رکھنے کی پیش کش کی ہے۔ امریکا کی تین صنعتی ریاستوں یعنی کیلی فورنیا ، واشنگٹن اور نیویارک نے ٹرمپ کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی ریاستی حدود میں پیرس ماحولیاتی معاہدے میں طے پانے والی حدود و قیود پر بدستور عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تینوں ریاستیں امریکا کی کل قومی پیداوار کا بیس فیصد پیدا کرتی ہیں اور یہاں امریکا کی بیس فیصد آبادی رہتی ہے۔

جب دو ہزار دو میں صدر جارج بش جونئیر کے امریکا نے ماحولیات کی بہتری کے جامع معاہدے کیوٹو پروٹوکول سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا تب بھی دنیا میں ماحولیات کی مزید ابتری کے خدشات نے سر اٹھایا تھا مگر اگلے صدر براک اوباما نے بش کی ماحولیاتی پالیسی کا ازالہ کردیا۔ مگر ٹرمپ نے اوباما کی ماحولیات نواز پالیسی کو الٹا کر دیا ہے۔ چنانچہ ہم جیسوں کی امیدیں اب اگلے امریکی صدارتی انتخابات سے وابستہ ہیں۔ خدانخواستہ صدارتی نتائج یہی آئے تو  ماحولیاتی نتائج اور برے نکلیں گے۔

(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

loading...