سعودی عرب نے مفتی منیب اور فواد چوہدری کی مشکل آسان کردی

رمضان المبارک  کے آغاز   اور عید الفطر  کے چاند دیکھنے کا معاملہ ہمیشہ سے ہی تنازعہ کا شکار رہتا ہے اور ملک میں ایک روز عید منانے  کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپاتا۔ اگرچہ اس بات کا بھی کوئی جواز موجود نہیں ہے کہ اگر دنیا کے مختلف ممالک مختلف ایام میں عید مناسکتے ہیں تو پاکستان  کے مختلف حصوں میں  ایک ہی روز عید منانے یا رمضان کا آغاز کرنے  پر اصرار کیوں کیا جاتا ہے۔

  البتہ   اس بار وزارت اطلاعات سے   وزارت سائنس  و ٹیکنالوجی‘ میں  ’کھڈے لائن ‘ لگائے گئے فواد چوہدری کو  عید کے سوال پر قوم کو متحد کرنے کا خیال آیا  تھا۔ اور انہوں نے  واضح کردیا تھا  کہ اب وزارت مذہبی امور کے زیر انتظام   1974 سے کام کرنے والی  مرکزی رویت ہلال کمیٹی  چاند  کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ ماہرین کی ایک پانچ رکنی کمیٹی  یہ کام کرے گی۔ کیونکہ  فواد چوہدری کا خیال ہے  کہ چاند دیکھنا مذہبی نہیں سائنسی معاملہ ہے۔

یوں   وزیر سائنسی امور  فواد چوہدری اور رویت ہلال کمیٹی کے چئیر مین مفتی منیب الرحمان  کے درمیان  مذہبی احکامات اور سائنس کی ضرورت کے سوال پر تلخ   بحث کا آغاز ہوگیا جس میں یہ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے آزماتے رہے اور عوام ٹکر ٹکر دونوں کا منہ دیکھ کر حیران و پریشان ہوتے رہے۔   فواد چوہدری کی طرف سے رویت ہلال کمیٹی کے ’دائرہ اختیار‘ میں مداخلت   کو اشتعال انگیز ی  سمجھتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے  واضح کردیا کہ وہ ’ پوری دنیا کی سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں‘ کیوں کہ  چاند کی رویت کے حوالے سے اسلامی اور شرعی احکامات واضح ہیں اور سب علما کا ان پر اتفاق بھی ہے۔

پشاور کی مسجد قاسم خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی  اگرچہ سرکاری رویت ہلال کمیٹی  کو نہیں مناتے اور  چاند دیکھنے  کے سوال پر  ان  کی ’اجارہ داری‘ کو قبول نہیں کرتے  بلکہ  اس کے  مقابلے میں اپنی  پرائیویٹ رویت ہلال  کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتے ہیں اور ایک روز پہلے روزہ رکھنے یا عید کرنے کا اعلان کردیتے ہیں۔  تاہم جب فواد چوہدری نے رویت کا معاملہ مذہبی رہنماؤں  کے اختیار سے لے کر فلکیات اور موسمیات کے ماہرین کے سپرد کرنے  کا اعلان کیا تو انہوں نے بھی مفتی منیب کی دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ   فواد چوہدری باقی اسلامی مہینوں کا جو  چاہے کریں لیکن رمضان اور عید کا چاند دیکھنے میں مداخلت نہ کریں۔

فواد چوہدری نئے نئے وزارت اطلاعات سے نکالے گئے  ہیں اور وزیر اطلاعات کے  طور پر  روزانہ کی بنیاد پر خبروں میں رہنے کا  چسکا کسی طور  منہ سے چھوٹنے کا نام نہیں لیتا۔ اس لئے انہوں نے بھی ان دو متحارب علما کے  ’اتحاد‘ سے پریشان ہونے کی بجائے  وزارت سائنس و ٹیکنالوجی  کی نگرانی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کرکے یہ انقلابی اعلان  کردیا کہ  عید الفطر  5 جون بروز بدھ ہوگی۔  اس کے ساتھ ہی مفتی منیب اور مفتی پوپلزئی کی مخالفت کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ’ ان مولویوں  نے لاؤڈ اسپیکر اور چھاپہ خانہ کو شرعی ماننے میں دو سو برس لگائے تھے اس لئے  رویت کےسوال پر  سائنس کی بالادستی ماننے  میں انہیں چند برس تو ضرور لگیں گے‘۔  

اس چخ  چخ میں مفتی منیب اور  فواد چوہدری اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے اور اس بات کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر مفتی منیب الرحمان کی رویت ہلال کمیٹی کو 4 جون کی شب  چاند ہونے کی شہادتیں موصول نہ ہوئیں تو ملک میں اس بار ایک سائنسی عید اور دوسری مذہبی عید کا سماں پیدا نہ ہوجائے۔ تاہم سعودی عرب کے اعلان   سے یہ مشکل حل ہوگئی ۔ وہاں 3 جون کو اعلان کردیا گیا کہ عیدالفطر4 جون کو  ہوگی۔ اس طرح مفتی منیب الرحمان کو فواد چوہدری کی طرح یہ تسلیم کرنے  کے لئے معمولی ہی سہی بہر حال ایک عذر تو ہاتھ آ  گیا کہ  جب سب عرب ممالک اور باقی نصف دنیا میں 4جون کو عید ہو  گئی ہے تو وہ بھی اہل پاکستان کو اگلے روز عید منانے کی اجازت مرحمت  کردیں ۔ اس  کے باوجود رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین  کے طور رپر مفتی منیب الرحمان نے پورے تام جھام  کے ساتھ  چاند دیکھنے کا اہتمام کیا اور  اس کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ ’ملک میں عید کا چاند نظر آگیا ہے لہذا عید 5 جون بروز بدھ ہوگی‘۔ اب خیبر پختون خوا کے بیشتر علاقوں کے علاوہ  اہل پاکستان بدھ کے روز   عید کی نماز پڑھنے جائیں گے ۔ البتہ یہ طے نہیں ہوسکے گا کہ ان میں سے کون سی فواد چوہدری کی سائنسی عید  کی نماز ہے اور کون سی نیت  مفتی منیب الرحمان کے مذہبی عید کا حکم مانتے ہوئے  باندھی جارہی ہے۔

ابھی  میڈیا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی  یہ لڑائی   ایک  مذہبی عالم اور ایک وزیر کے درمیان ہی تھی اور عام سوچنے والا حیران تھا کہ دونوں ہی   حکومت وقت کے نمائندے ہیں۔ فواد چوہدری وفاقی وزیر ہیں جبکہ  رویت ہلال کمیٹی  وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیلی ادارے کی حیثیت سے گزشتہ 45 برس سے قائم ہے۔  تو ایک ہی حکومت کے یہ دو نمائیندے ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر اتفاق   کرنے کی بجائے  میڈیا کے ذریعے کیوں دست و گریبان ہیں۔ شاید عید الفطر گزرنے کے بعد اس معاملہ کو سنجیدگی سے کسی منطقی انجام تک پہنچانے کی کوئی کوشش سامنے آتی کہ  3 جون کو رات گئے  خیبر پختون خوا کے وزیر اطلاعات نے  اعلان کیا کہ عید کا چاند دکھائی دینے کی شہادتیں موصول ہوگئی ہیں اس لئے صوبے میں عید 4 جون کو منائی جائے گی۔  فواد چوہدری نے شوکت یوسف زئی کے اس فیصلہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا  کہ’ خیبر پختونخوا حکومت کا فیصلے کو نامناسب ہے ۔ اس حکومتی فیصلے سے جگ ہنسائی ہوئی ہے‘۔ ان کا  کہنا تھا کہ  دنیا کو یہ پیغام گیا کہ جیسے جھوٹ کوسرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ ساتھ ہی فواد چوہدری نے دریافت کیا کہ ’کیاحکومتیں  بھی کبھی مسلک اور مقامی لڑائیوں میں  پڑتی ہیں؟‘

وزیر سائنس  کا دعویٰ  ہے کہ’ گزشتہ روز شوال کے چاند کا نظر آنا ناممکن تھا۔ چنانچہ مذہبی تہوار کی بنیاد بھی جھوٹ پر رکھ دی گئی ہے۔ جو چاہے  جیسے عید کرے مگر جھوٹ کی بنیاد پر ایسا نہ کیا جائے‘۔  فواد چوہدری کی طعن زنی  پر خیبر پختون خوا کے وزیر اطلاعات کہاں نچلا بیٹھتے۔ وہ بھی آخر تحریک انصا ف کی صوبائی حکومت کے ترجمان ہیں ۔ انہوں  نے   ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے   کہا کہ ’مفتی منیب نےایک روز تاخیر سے روزہ رکھوایا تھا۔ اب ہم  ایک روزے کا کفارہ ادا کریں گے اور روزہ دوبارہ رکھیں گے‘۔ انہوں نے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’مفتی فواد کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں، حکومت اور علما کو ٹارگٹ نہ کریں‘۔

اس طرح  جو لڑائی حکومت کے دو نمائیندوں کے درمیان ہو رہی تھی اب وہ چومکھی بن  چکی ہے  جس میں  خیبر پختون خوا کی حکومت نے بھی  فریق ہونے کا اعلان کردیا ہے۔  شوکت یوسف زئی نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے   کے لئے  وزیر اعظم عمران خان   کا حوالہ  دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے   ’خیبر پختونخوا میں عید کے اعلان سے قبل وزیراعظم عمران خان کو اطلاع دی تھی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ کا معاملہ ہے آپ بہتر سمجھتے ہیں‘۔ جس معاملہ کو تحریک انصاف کا چئیر مین اور ملک کا وزیر اعظم،   شوکت یوسف زئی اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی صوابدید پر چھوڑ چکا ہو ، اس میں فواد چوہدری کس  اختیار سے مداخلت کریں گے۔

رمضان یا  عید کی رویت کے حوالے سے زیادہ تنازعہ پاکستان میں یا ان ملکوں میں دیکھنے میں آتاہے  جہاں پاکستانی  باشندے ترک وطن  کرکے آباد ہوگئے ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں ان دونوں مواقع پر مقامی مذہبی لیڈر ایک دوسرے کے خلاف حکم صادر کرنے میں مشغول رہتے ہیں اور نتیجہ میں مسلمانوں کو ایک،  دو یا بعض صورتوں میں تین روز مختلف ایام میں عید منانا پڑتی ہے۔  حالانکہ فلکیات کے ماہر تو عرصہ دارز سے یہ واضح کرچکے ہیں  کہ وہ نئے چاند کی پیدائش اور اس  کے دکھائی دینے کا معین وقت بتانے کی استعداد رکھتے ہیں ۔ تاہم ننگی آنکھ سے چاند دیکھنے  کی ضد پر اڑے ہوئے مولویوں کو یہ بات سمجھانا  کسی کے بس  کی بات نہیں ہے۔

ناروے شاید یورپ کا واحد ملک  ہے جہاں مختلف مسالک کے  علما  نے دو دہائی  پہلے مسلمانوں  کی مشترکہ تنظیم اسلامی کونسل کے پلیٹ فارم سے یہ طے کیا تھا کہ  سائنسی   تقویم کے مطابق   اسلامی مہینوں  کے آغاز کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس طرح اس ملک میں اس بارے میں کوئی تنازعہ نہیں ہوتا اور سب مساجد میں پہلے سے مقرر کردہ دن کو ہی رمضان شروع ہوتا ہے اور عید الفطر بھی منائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہاں بھی  بعض  ایسے چھوٹے گروہ موجود ہیں جو سعودی عرب میں ایک روز پہلے عید کا اعلان ہونے کی صورت میں سعودی عرب  کی پیروی میں ہی عید مناتے ہیں۔

اکثر اسلامی ممالک میں بھی اس سوال پر کوئی تنازعہ دیکھنے میں نہیں آتا کیوں کہ وہاں کی حکومتیں جس وقت جو اعلان کرتی ہیں، سب کسی اختلاف کے بغیر اسے مان لیتے ہیں۔  مذہبی علوم کے ماہرین بھی اس حوالے سے حکومت کے اختیار کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے مفتی منیب جیسے لوگ سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے چئیر مین جیسی سرکاری پوزیشن پر متمکن ہونے کے باوجود  حکومت کو ہی نہیں ملک کے آئین کو ہی چیلنج کرنے سے نہیں چوکتے۔ آج عید الفطر  کا اعلان کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے  یہ بھی فرمایا  کہ ’ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اٹھارویں ترمیم ہو یا اٹھائیسویں، یہ سب مذہب کے تابع ہیں۔ مذہب کسی کا تابع نہیں‘۔

چاند دیکھنے کے  آسان اور سہل معاملہ کو ملک کے آئین کو چیلنج کرنے کا جواز بنانا کسی طور بھی اسلامی تعلیمات کی درست  تفہیم نہیں ہوسکتی۔ اگر مفتی صاحب کی اس بات سے اتفاق کرلیا جائے تو معاشرہ میں انتشار اور انارکی کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ مفتی صاحب،   فواد چوہدری سے اپنی لڑائی جاری رکھیں لیکن اگر وہ ملک کے آئین کو بیچ میں لانے سے گریز کریں   تب ہی وہ   اپنی علمی پوزیشن اور سرکاری حیثیت کے ساتھ  انصاف کرسکیں گے۔

loading...