یکساں انصاف کا اصول اور سول ملٹری مفاہمت میں پڑتی دراڑ

موجودہ حکومت کا مستقبل ایک بار پھر پوری قوت سے قومی مباحث کا حصہ بنا ہؤا ہے۔ اب یہ بات بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ حکومت  کے اراکین اور پارٹی لیڈروں میں اختلافات صحتمند جمہوری روایت سے کہیں زیادہ سنگین اور تشویشناک ہیں۔ پارٹی کے مختلف دھڑے کابینہ کی کارکردگی اور وزیر اعظم کی رائے کو متاثر کرنے  کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ عمران خان بطور وزیر اعظم  ابھی تک یہ واضح کرنے میں کامیاب نہیں  ہوئے کہ وہ حالات  کا ادراک  کررہے ہیں۔ ان پیچیدہ اور مشکل معاملات  کو حل کرنا تو بعد کا مرحلہ ہے۔

وزیر اعظم کو ایک بات  کا اطمینان ہے کہ انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہو ، طالبان  کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکہ کی تابعداری کا سوال ہو یا پشتون تحفظ  موومنٹ کے  بارے میں فوج کی حکمت عملی اور ان سے نمٹنے کے  ہتھکنڈے ہوں، ملک کی منتخب حکومت کسی قسم کی  متبادل رائے کا اظہار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ اختلاف کرنا  یا عسکری اداروں کو سول اداروں  اور منتخب حکومت کے زیر اختیار لانے کا سوال  تو بہت دور کی بات ہے۔ عمران خان نے یہ سبق بہت اچھی طرح یاد کیا ہے کہ اس ملک پر حکومت کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے پہلے  جی ایچ کیو کی مکمل اعانت اور سرپرستی درکار ہوتی ہے۔  وہ  سمجھتے ہیں کہ  چونکہ وہ مکمل تابعداری کا مظاہرہ کررہے ہیں،  اس لئے   سیاسی دشمن یا  پارٹی میں اختلاف رائے رکھنے والوں کی سازشیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ تاہم یہ سبق ازبر کرتے ہوئے وہ یہ جاننا بھول رہے ہیں  کہ فوج کو ہر منتخب حکومت سے کچھ توقعات وابستہ کرتی ہے۔  اور  ان  توقعات (جن  میں فوجی بجٹ  بنیادی اہمیت رکھتا ہے) کو پورا کئے بغیر کسی بھی لیڈر کی  تابعداری بہت دیر تک اس کے اقتدار کی ضامن نہیں ہو سکتی۔

موجودہ سیاسی منظر نامہ اور حکومت اور اداروں کے تعلقات میں فی الوقت  کوئی دراڑ دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی عمران خان ایسا کوئی موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے سرپرست ان سے مایوس ہونے لگیں۔ لیکن  تحریک انصاف کی حکومت  ملکی معیشت  سے نمٹنے میں جس بری طرح ناکام ہوئی ہے، وہ   ایک  پیج والی خیر سگالی کو بھسم کرنے کی چنگاری اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے۔  آئی ایم ایف کے ساتھ معاملہ طے کرنے میں الجھنوں کو دور کرنے کے لئے اپریل میں  وزیر خزانہ اسد عمر سے استعفی  لینے کے علاوہ  ایف بی آر اوراسٹیٹ بنک کے سربراہان کو تبدیل کیا جاچکا ہے۔ لیکن  ان تبدیلیوں کے بعد بھی قومی معیشت میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔

 عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ  کے مضمرات  چند روز بعد پیش کئے جانے والے بجٹ میں پوری طرح عیاں ہوں گے جس کے بعد مہنگائی میں اضافہ  پر عوام  کا رد عمل  سیاسی  خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔  قرائن یہی بتاتے ہیں  کہ  اس ردعمل کا اندیشہ  عمران خان کے لئے پریشانی کا سبب نہیں  ہے۔ اور نہ ہی انہیں اس بات کی تشویش ہے  کہ ملک کی متحدہ اپوزیشن عیدالفطر کے بعد احتجاجی تحریک شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور عام گھر وں  کی معیشت پر  بجٹ  کےمنفی اثرات اس تحریک کو مہمیز دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہیں تو صرف یہ  یقین ہے کہ  اگر فوج ان کی  پشت پر ہے تو ان کی حکومت کو  کوئی خطرہ  لاحق نہیں ہوسکتا۔

عمران خان کا یہ اندازہ شاید کسی حد تک درست بھی ہو۔ اسی لئے  اپوزیشن بھی براہ راست احتجاج کرنے کا کوئی واضح اشارہ دینے سے گریز کررہی ہے۔ فوری طور سے بجٹ اور اس پر سامنے آنے والے عوامی ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے عوامی غم و غصہ کو مہمیز دینے   کی کوششیں بھی ضرور  ہوں گی۔     بجٹ کے نتیجہ میں ہونے والی مہنگائی اور نئے محاصل شاید  عوام کو حکومت کے خلاف  اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور نہ کرسکیں۔   تاہم اگر حکومت کوئی ایسا بجٹ پیش کرنے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں معیشت کا جمود توڑا جاسکے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکے تو عوام کے علاوہ خواص  کی پیشانی بھی شکن آلود ہوسکتی ہے۔

 کابینہ میں بعض عناصر  اخراجات میں کمی  کی بات کرتے ہوئے غیرپیداواری اخراجات کم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان میں ترقیاتی منصوبوں  پر سرمایہ کاری میں کمی   کے علاوہ  حکومت کے دیگر اخراجات کو محدود کرنا ضروری ہوگا۔ اسی حوالے سے دفاعی بجٹ میں کمی  کی بات بھی دبے لفظوں سے زبان پر لائی گئی ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی  عملی اقدام عمران خان  کے خوابوں کو چکنا چور کرسکتا ہے۔

اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے لئے  قومی پیداوار اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ بے حد ضروری ہے۔ ملک  کی وزارت خزانہ اور دیگر مالیاتی اداروں کو چلانے کے لئے  ’پیشہ ور ماہر ین‘ کی خدمات بھی حاصل کی  گئی ہیں۔      مشیر برائے مالیات  حفیظ شیخ اور  گورنر ڈاکٹر  رضا باقر   کا تعلق بالترتیب  ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے  رہا ہے ۔ اس لئے امید کی جارہی ہے کہ  وہ عالمی مالیاتی اداروں سے معاملات طے کروانے اور مراعات لے کر دینے میں مثبت کردار ادا کرسکیں گے ۔ جبکہ فیڈرل بیورو آف ریوینو کے سربراہ شبر زیدی کا تعلق براہ راست ملک کے  صنعتکاروں اور بڑے سرمایہ کاروں سے رہا ہے۔ البتہ  اس نئی ٹیم نے ابھی تک کوئی ایسا معاشی پروگرام پیش نہیں کیا ہے جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ بجٹ میں معیشت کے حوالے سے کوئی نئی  روشنی دکھائی جاسکے گی۔

عالمی اداروں کی حکمت عملی کو نافذ کرنے والے ٹیکنوکریٹ عام طور سے ترقی پذیر معیشت کی حساسیات  کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں تین برس تک وزیر خزانہ رہ چکے ہیں لیکن کوئی خاص کارنامہ سرانجام نہیں دے  سکے تھے۔ اسی لئے ماہرین اقتصادیات کو ان سے اب بھی کوئی امید نہیں ہے۔ ڈاکٹر باقر رضا  مصر میں  آئی یم ایف کے نمائیندے کے عہدے پر کام کررہے تھے کہ   اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر بنائے گئے ۔ مصر میں ان کی پالیسیوں  کا مطالعہ کرنے والے بتاتے ہیں کہ  وہ جو طریقے مسلط کریں گے  ، وہ عام شہریوں  کی مشکلات میں اضافہ کریں  گی۔ شبر زیدی کو  حکومت کی آمدنی بڑھانے کے کام پر مامور کیا گیا ہے لیکن انہوں نے   یہ واضح کردیا ہے کہ پورا ٹیکس نظام تبدیل کئے بغیر حکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن نہیں ہوگا۔ گویا نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔

اس دوران  ’کلا مضبوط ہونے‘  کے  زعم میں عمران خان کی حکومت نت نیا سیاسی محاذ کھولنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ ان میں تازہ ترین سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے ججوں  کے خلاف  ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ ہے  جس کے بارے میں کابینہ کے اجلاس کے بعد مشیر اطلاعات فردوس  فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ  حکومت ملک میں سب کو انصاف کے کٹہرے میں لانے  کے اصول پر گامزن ہے ، اس لئے ججوں کے خلاف دائر کئے گئے ریفرنس واپس لینے کا کوئی امکان  نہیں ہے۔ تاہم  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسی شہرت اور صلاحیت کے حامل   جج کے خلاف ریفرنس( جو تین برس بعد ملک کا چیف جسٹس بھی بن سکتا ہے)  حکومت کے گلے کی ہڈی بن سکتی ہے۔  عمران خان اس  مشکل کو سمجھنے  سے قاصر دکھائی دیتے ہیں ۔ لہذا وہ کسی متبادل طرز عمل پر غور بھی نہیں کررہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کوئٹہ دہشت گردی کی رپورٹ اور فیض آباد دھرنا  کیس میں ایسے ریمارکس اور تجاویز دی تھیں جنہیں براہ راست عسکری اداروں  کی ’ریڈ لائن ‘ عبور کرنے کے مترادف سمجھا جارہا ہے۔ اس لئے عام تاثر  بھی یہی ہے کہ  حکومت نے یہ اقدام دراصل فوج کو خوش کرنے کے لئے ہی کیا ہے تاکہ یہ تاثر قوی کیا جاسکے کہ حکومت فوج کو راضی رکھنے کے لئے ہر حد سے گزرنے کے لئے تیار ہے۔  اس فیصلے  سے چونکہ فوج کی شہرت براہ راست متاثر ہوتی ہے اور وکلا کی طرف سے فوج کے کردار پر تنقید بھی سامنے آنے لگی ہے لہذا یہ بات خارج از امکان نہیں  ہے کہ فوجی حلقے  بھی اس حکومتی اقدام سے نالاں و پریشان ہوں۔

ججوں کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ اگر عمران خان کا ذاتی فیصلہ ہے اور انہوں  کابینہ اور پارٹی کی طرح  فوج کو بھی اس سوال پر اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیوں کہ وہ بزعم خویش  اس ’انقلابی اقدام‘ سے فوجی قیادت کو خوش   و حیران کرنا چاہتے تھے تو  اسے تحریک انصاف کی حکومت اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے  تعلقات   میں   پہلی دراڑ سمجھنا چاہئے۔ تعلقات میں دراڑ پڑ جائے تو شبہات اور غلط فہمیوں کے انبار  جمع  ہونا   شروع ہوجاتے ہیں۔

اس پس منظر میں عمران خان  کی قسمت کا فیصلہ بجٹ پر عوامی ردعمل سے زیادہ اس بات سے بھی جڑا رہے گا کہ سپریم جوڈیشل کونسل حکومتی ریفرنس پر کیا فیصلہ صادر کرتی ہے۔  اس کے علاوہ ستمبر اکتوبر کے دوران   عمران خان کو  نئے فوجی سربراہ  کی تقرری  یا جنرل قمر جاوید باجوہ  کو توسیع دینے کا  فیصلہ بھی کرنا ہوگا۔  وہ جو بھی فیصلہ کریں ،  اس امکان کو مسترد  نہیں  کیا جا سکتا  کہ   حکومت کے مستقبل پر،  اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

loading...