آبی آلودگی اور بے صبری کا عذاب

( رمضان میں ایک تبلیغی کالم )

میں گزشتہ روز سے سوچ رہا ہوں کہ میں نے سابق صدر زرداری کی شان میں کیا گُستاخی کردی کہ پی پی کے ایک جیالے نے مجھے سخت سرزنش کی اور  آئندہ مجھے دو ٹوک جواب دینے کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔

 میں نے معذرت کرتے ہوئے بحث میں پڑنا مناسب نہیں سمجھا اور کہف میں جا کر چھپ گیا ۔ میں زرداری صاحب کو سوائے اس کے نہیں جانتا کہ وہ بے نظیر بھٹو کے شوہر سلیکٹ ہوئے اور پھر وزیر ، قیدی اور صدر رہے لیکن اپنے دورِ حکومت میں اپنی منکوحہ اور اپنے بچوں کی ماں سابق وزیرِ اعظم بے نظیر کے قاتلوں کو تلاش کر کے سزا نہ دلوا سکے ۔ یہ اُن کی بطور حکمران منفی کارکردگی کا سب سے نمایاں خال ہے ۔ تاہم اس بات سے کس کو انکار ہے کہ وہ پاکستان کے صدر رہے ہیں اور ایک بہت طاقتور آدمی ہیں اور نہ تینوں میں نہ تیروں میں ۔

میں جب بھی پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اور حکمرانی کی کہانی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے کتاب اللہ کی ایک آیت یاد آتی ہے جس کا متن حسب ذیل ہے :

" کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا  جنہوں نے خُدا کے احسان کو نا شُکری میں بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ۔" سورہ ء ابراہیم  ۔ ۲۸

میں اکثر اپنے اللہ سے گفتگو میں کہتا رہتا ہوں کہ ہاں میرے رب  !میں نے اُن سب کو دیکھا ہے  ، خوب دیکھا ہے اور اب بھی دیکھ رہا ہوں ۔

پاکستان ، میری جنم بھومی ، میرا مولد ، میری خاکِ پنج آب ، اس وقت جس عذاب سے گزر رہا ہے وہ ہے آبی آلودگی کا محرقہ اور عدم تحمل کا سرطان ۔  اور اس کا سبب من حیث القوم ہماری نالائقی ، غیر ذمہ داری اور نا عاقبت اندیشی ہے ۔

پانی اس زمین کا باپ ہے اور ہم سب کا بھی ۔ کیونکہ جب اللہ نے زمین اور آسمانوں کو بنایا تو ربِ ذوالجلال  کا عرش پانی پر تھا :

" و کانَ عرشہ علی الماء " وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں بنایا ۔ اُس وقت اُس کا عرش پانی پر تھا ۔ ( سورہ ھود ۔ ۷)

سورہ ء الانبیاء گواہ ہے کہ : " و جعلنا من الماء کُلَ شی " ۔ الانبیاء ۳۰ ۔ کہ ہر شے کو پانی سے زندگی دی گئی ہے لیکن ہم نے اپنی زندگی کے سر چشمے کو خشک سالی اور آلودگی مبتلا کر دیا  ہے ۔ ہم اس خشک سالی کے سبب اپنی زندگی کے تخلیقی جوہر سے دور ہو گئے ہیں جس کا مطلب میں یہی سمجھتا ہوں کہ ہم خُدا سے دور ہو گئے ہیں اور یہ سب ہمارا کیا دھرا ہے ۔ ہم نے خُدا اور اُس کے احکامات کو  لاؤڈ سپیکر ، الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں  جب بہت  بلند کیا تو پیچھے سے حضرت سُلطان باہو کی صدا آئی :

" اُچّے کلمے اوہی پڑھدے ، نیت جہناندی کھوٹی ہو "

خدا کی دنیا میں قول اور فعل ایک ہی کاغذ کے دو صفحے اور ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں ، تا آنکہ اپنی ماہیت میں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ کوئی وہ بات کہے جس پر وہ عمل نہ کرتا ہو لیکن ہم نے تبلیغ و دعوت کے نام پر قول کو عمل سے جُدا کرکے ایک خود مختار شعبہ بنا دیا ہے جس پر ہمارا تکیہ ہے ۔ چنانچہ پاکستان میں مذہبی ادارے اور کارکن تو لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں جو صبح و مسا حمد و نعت اور میرے مولا بلا لو مدینے مجھے  کی قوالی گاتے ہیں مگر اسلام عملاً نافذ نہیں ہے ۔ اس رمضان میں جب  ہر روز یہ کہا جاتا رہا  کہ اس مہینے میں شیطان قید کر دیا جاتا ہے ، شیطان کے بچے بدستور فعال ریتے ہیں جنہیں سورہ ء الانعام کی ۱۱۳ھویں آیت میں انسانوں اور جنوں کے شیطان کہا گیا ہے ۔ جی ہاں ، حکم یہی ہے کہ جن قید میں رہے مگر وہ نہیں رہتا کیونکہ یہ وہی ہے جس نے روزِ ازل بھی انکار کیا تھا اور اب بھی کرتا ہے اور ایسا کیوں ہے ، اللہ خوب جانتا ہے :

اُسے صبحِ ازل انکار کی جراءت ہوئی کیونکر

مجھے معلوم کیا وہ رزاداں تیرا ہے یا میرا ( اقبال)

پانی ہم سے کیا دور ہوا ، عرش کا وہ خالق ہم سے دور ہوگیا جس نے پانی کے عرش پر بیٹھ کر یہ دنیا بنائی اور پھر انسان کو بنایا ۔  پانی سے دوری ہماری رب سے دوری کا استعارہ ہے ۔ پانی کو آلودہ کرنا اللہ کی شان میں گستاخی اور گناہِ کبیرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے  کہ پانی زمین کی تہوں سے نکل کر محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ رہا ہے تاکہ اس آلودگی سے شانِ کریمی کو ناگوار نہ ہو ۔

خُدا سے دوری کا دوسرا  پہلو یہ ہے کہ اس قوم نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے ۔ کتاب کہتی ہے : " ان اللہ مع الصابرین" ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ لیکن ہم صبر و تحمل سے عاری ہیں ۔ ہم  اسمبلیوں میں ، میڈیا ٹاکس میں ، ٹویٹس میں ، فیس بُک پر اور روزہ مرہ معاملات میں صبر کا خون بہاتے رہتے ہیں اور پھر یہ بے صبری گلی کوچوں میں گندے پانی کے سیلاب کی طرح بہنے لگتی ہے ۔ ہمارے بچے موت کے جھولوں میں جھول رہے ہیں ، ہسپتالوں میں موت انجکش کی سوئیوں سے بدن میں اُتاری جاتی ہے ، دوائیاں مہنگی بھی اور ملاوٹ سے آلودہ بھی ۔ کھانے پینے کی اشیاء  کے سٹال جراثیموں کے سموسوں  ، بیماریوں کی کچوریوں اور رشوت اور نا انصافی کے پکوڑوں سے بھنبھنا رہے ہیں ۔

یہ سب دیکھ کر نوجوان ملک سے فرار کی راہیں تلاش کرتے ہیں تاکہ کسی یورپی ملک میں سکھ کا سانس لے سکیں لیکن اس مہم جوئی میں وہ بارہا زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اسی دعا میں رہتے ہیں کہ :

" اے پروردگار ! ہم کو اس ظالموں کے شہر سے نکال کر کہیں اور لے جا اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار  بنا ۔" النساء ۷۵

میری پی پی کے اس جیالے سے ، جس نے میری گوشمالی کی  ، گزارش ہے کہ وہ میری خطا معاف فرمادے اور میری دعا ہے کہ اللہ اُسے زرداری صاحب کے دامنِ سوئس بنک میں پناہ دے !

اللہ مجھے معاف کرے مگر اس رمضان میں ایک تبلیغی کالم میرا بھی تو حق بنتا ہے کیونکہ میں نہ صرف داتا کی نگری کا ہوں بلکہ شاہ حسین لاہوری کے مرشد حضرت بہلول دریائی کے شہر کا خاص درویش ہوں ۔ اور درویش کی طرف سے قارئینِ کاروان کو عید مبارک !

loading...