میونخ کی افطار پارٹی میں مسیحی و یہودی راہنماؤں کی شرکت

ماہ رمضان کے بابرکت مہینہ میں  جرمنی کے مشہور اور تاریخی شہر میونخ میں مسلمانوں کے اعزاز میں گزشتہ اتوار ایک گرینڈ افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔

 اس میں سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی و ترک مسلم مردو زن اور بچوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مسیحی و یہودی راہنماؤں سمیت سیاسی جماعتوں کے سرکردہ عہدیداروں، مقامی مئیر نے بھی شرکت کی۔ مذہبی رواداری اور ریاست کی ذمہ داری کے تناظر میں یہ ایک بڑی اور اہم تقریب تھی۔

تقریب کا اہتمام میونچن فورم اسلام کی طرف سے کیا گیا تھا جو کہ میونخ میں اسلام کی ایک بڑی نمائندہ تنظیم ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی کے نام سے ایک گرینڈ افطار کا اہتمام گیا تھا۔  

افطار ڈنر میں شامل ہونے والوں میں برسراقتدار پارٹی ایس پی ڈی کے نمائندہ قونصلر، سٹی قونصلر سی ایس یو، بورڈ ممبر یہودی کمیونٹی اور مقامی امریکن قونصلیٹ جنرل بھی شامل تھے۔ گرینڈ افطار میں مسلمانوں سمیت سبھی کی پرتکلف کھانوں اور مشروبات سے تواضع کی گئی۔ یہ ایک خوبصورت شام تھی۔

میونخ فورم میونخ کے امام بنجامن ادریس نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اسلام کا تعارف کرایا اور کہا کہ اسلام اس شہراور ملک کا حصہ ہے۔ ہم مسلمان اس خوبصورت شہر و ملک کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔

گرینڈ افطار ڈنر میں معروف یہودی و مسیحی شخصیات اور مقامی شہریوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کے کھانا کھایا۔ ایک مخلوط افطار پارٹی تھی جس میں متعدد مذاہب سے تعلق رکھنے والے مرد وں اور خواتین نے شرکت کی۔ جس میں اسکارف اور بغیر اسکارف کے خواتین بھی شامل تھیں۔

loading...