طاقت کی سیاست اور مُخنّث اسمبلیاں

پاکستان اس وقت سنگین مالی بے ضابطگیوں اور معاشی انتشار کا شکار ہے ۔  ایک طرف  ادائیگیوں کے مبالغہ آمیز عدم توازن نے قومی معیشت کی کمر توڑ رکھی ہے جب کہ دوسری طرف  سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش اور سیاسی مفادات کی آویزش نے ملک ِ خُداداد کامعاشرتی امن و سکون غارت کر رکھا ہے۔

 جسے الیکٹرانک میڈیا کے مختلف چینل اپنی اپنی جماعتی وابستگیوں  کے مطابق بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ، افواہوں کو مہمیز دیتے ہیں اور  مختلف پارٹیوں کی سیاسی حکمتِ عملی کا آلہ ء کار بن کر میڈیا بازی کرتے ہیں  تاکہ وہ اپنے مالی مفادات کا ہدف پورا کر سکیں ۔   اور ان کی یہ ابلاغی حکمتِ عملی  لوگوں کے اضطراب اور بے چینی میں روز افزوں اضافے کا سبب بن رہی ہے جو ملک و قوم کے لیے ہر اعتبار سے اور ہر سطح پرنقصان دہ ہے ۔ مہنگائی کا جن اس قدر بے قابو ہے کہ اُس نے لوگوں کی روزمرہ کی اشیائے ضرورت کو اُن کی دسترس سے دور رکھ کر گھروں کے چولہے اس رمضان میں ٹھنڈے کر رکھے ہیں ۔ اور اس پر المیہ یہ کہ  قانونی نظام کی گرفت بہت ڈھیلی ہے ۔رمضان  بازار میں اشیائے ضرورت چینی ، گھی ، آٹا ، دالیں یوٹلٹی سٹوروں  پر دستیاب نہیں  اور حالات اس حد تک دگرگوں ہیں  کہ  کسی بھی ادارے کو اپنے اختیارات سہولت سےاستعمال  کرنے کی تاب اور مجال نہیں ۔ اور تو اور ملک کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین میں اتنی سکت نہیں کہ وہ حسبِ ضرورت قانون سازی کے ذریعے قیمتوں کے اضافے کو روک سکیں اور لوگوں کو ریلیف دے سکیں ۔

پاکستان میں قانون ساز اسمبلیوں کی تاریخ ہمیشہ ایسی قابلِ رحم  رہی ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے آ گے بے بس اور لاچار رہتی ہیں اور خلائی مخلوق کے طعنے ایجاد کرنے والوں میں بیس تیس برس تک اقتدار میں رہنے والے بھی موجود ہیں مگر  حکومت کے طویل تجربے کے باوجود کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ فوجی اسٹبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہ سکیں کہ فوج سول معاملات میں داخل اندازی نہ کرے اور اپنے کام سے کام رکھے ۔ فوج جب چاہتی ہے سیاست دانوں کو فرنچ لیدر کی طرح استعمال کرتی ہے اور پھر بعد از استعمال  تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے ۔

 ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ ء دار پر لٹکانے والے فوجی آمر نے سیاست دانوں اور ملکی آئین کے بارے میں جو تاریخی کلمات کہے تھے ، وہ کسے یاد نہیں ۔ جنرل ضیا نے کہا تھا کہ یہ آئین ، یہ کاغذوں کا پلندہ ، اسے جب چاہیں پھاڑ دیں اور اس کی جگہ نیا پلندہ لکھ لیں اور یہ سیاست دان ، انہیں جب پکارو یہ دُم ہلاتے ہوئے چلے آئیں گے ۔ یہ اُس فوجی آمر کے کلمات تھے جس نے میاں نواز شریف کو سیاست دان بنایا اور اُس کے ہاتھ میں اپنی سول حکومت کی باگ ڈور دی  تو کیا وہ کٹھ پُتلی نہیں تھا ؟ یہ سیاست دان فوج کے بارے میں ہمیشہ بالواسطہ بات کرتے ہیں اور ہمیشہ مخالف سیاسی جماعتوں کےاپنے سیاسی حریفوں کے کندھے پر کمان رکھ کر جی ایچ کیو پر تیر چلاتے ہیں ، براہِ راست کبھی بات نہیں کرتے۔ جب زرداری صاحب کا لائق بیٹا بلاول بھٹو زرداری عمران خان کو کٹھ پتلی کہ کر طعنہ دیتا ہے کہ تمہاری ڈور تو کوئی اور ہلا رہا ہے تو اُس وقت ڈور ہلانے والوں کو ، جی ایچ کیو کو براہِ راست مخاطب کر کے صاف صاف واشگاف کیوں نہیں کہتا کہ کٹھ پتلیاں نچانا چھوڑ دو اور ملک کے سیاسی اداروں کو سول انداز میں چلنے دو ۔

انہیں شرم کیوں آتی ہے ۔ بات کرتے ہوئے  ان کے چہروں پر شرمیلی نازنینوں کی طرح   حیا کی سرخی کیوں دوڑ جاتی ہے ۔ وہ مردوں کی طرح جرنیلوں اور کور کمانڈروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیوں نہیں کہتے کہ بس بس بہت ہو چکا  ، اب اس ملک کو سول معاشرہ بننے دو اور ملک کے دفاعی بجٹ کو بے قابو نہ ہونے دو ۔ مگر ایسا نہیں ہوتا ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ فوج صرف انہی کو بر سرِ اقتدار لائے اور  بلا شرکتِ غیرے وہی پیا کی سہاگن بن کر رہیں ۔ کوئی مجھے ایمان سے ، اپنے رب کی قسم کھا کر بتائے کہ اس ملک میں کتنے برس کھری اور سچی جمہوریت رہی ہے ؟ کس زمانے میں عام آدمی کا اوسط  معیارِ زندگی اتنا معقول رہا ہے کہ ہر شخص کو دو وقت کی عزت کی روٹی ، تن پر سادہ سا صاف لباس ، سر پر چھت اور بچوں کو تعلیم اور طبی سہولتیں مفت  میسر رہی ہوں ۔ یہاں کبھی جمہوریت نافذ نہیں  رہی بلکہ ہمیشہ طاقت کی سیاست کا دور دورہ رہا ہے ۔  ملکی وسائل ہمیشہ فوج اور چند گھرانوں کی اجارہ داری رہے ہیں ۔ ہمیشہ اس ملک میں دولت اور طاقت کی حکمرانی رہی ہے ۔ اور ہمارے عظیم مورخ حبیب جالب نے اس ملک کی جو تاریخ لکھی ہے ، اُس میں رقم ہے :

بیس گھرانے ہیں آباد

اور کروڑوں ہیں ناشاد

ملک کے دشمن کہلاتے ہیں

جب ہم کرتے ہیں فریاد

صدر ایوب زندہ باد ، صدر ایوب زندہ باد

اس ملک پر ایوب خان ، یحیٰ خان ، جنرل ضیا الحق اور پرویز مشرف نام کے فوجی حکمرانوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک براہِ راست حکومت کی ہے ، باقی عرصے میں جی ایچ کیو کی حکومت بالواسطہ رہی ہے  ، چنانچہ ملک خُداداد پاکستان کی ستر سالہ سیاسی  تاریخ عسکری جمہوریت کی تاریخ ہے ۔ اور یہاں کا اسلام بھی عسکری ہی رہا ہے اور ہم نے اپنی قومی شاعری میں بھی ہمیشہ ہر زمانے میں ، میریا ڈھول سپاہیا کے انترے گائے ہیں ۔ ایسے میں دیانت داری اور ایمان کی بات تو یہ ہے کہ فوج اور سیاسی گھرانوں کی حکومت باری کی حکومت رہی ہے ۔

ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کا  عام آدمی بے چارہ نہیں جانتا کہ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے کیوں کہ کچھ حکمران ووٹ  کو عزت دو کے فلسفے کے بل پر بر سرِ اقتدار آتے ہیں اور کچھ  عدلیہ کے عین  اور ملائیت کی میم سے مارشل لا لگا کر ۔ دونوں صورتوں میں حکمرانوں کی اولادیں خوشحالی کے کھلونوں سے کھیلتی ہیں جب کہ عوام مہنگائی ، بے روزگاری ، مفلسی ، لاقانونیت اور بد امنی کی چکی میں پستی رہتی ہے ۔

 اس وقت وزیرستان میں داوڑ سنڈرم ، عام آدمی کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے ، فوجی چوکیوں پر پتھراؤ ہو رہا ہے ، لوگ زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں  اور بے چارہ عام پاکستانی نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ آئندہ چند مہینوں کیا ہونے والا ہے اس لیے کہ کوئی سی بھی حکومت رہی ہو اس نے نہ کبھی عوام کے آنسو پونچھے ہیں اور نہ ہی بنیادی ضرورتوں کے پورا ہونے کی ضمانت دی ہے ۔ اور پاکستان ہمیشہ کی طرح غیر یقینی کے زندان کا قیدی ہے مگر پھر بھی سینے پر ہاتھ رکھ کر ہر پاکستانی  گا رہا ہے :

پاک سر زمین شاد باد

کشورِ حسین شاد باد

loading...