آزاد صحافت کا محاذ اور وجاہت مسعود کی ادھوری امید

عزیز دوست وجاہت مسعود پاکستان کے ان چند لکھنے والوں میں شامل ہیں جو جمہوری روایت، آزادی اظہار، مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کی پاسداری کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ہر قسم کے حالات میں انہوں نے وہی کہا جو مساوات، برابری، احترام ، اختلاف کرنے اور برداشت کے عالمگیر اصولوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ ان کا پرکار قلم فسوں ساز ہے۔
وجاہت مسعود کا قلم نغمے بکھیرتا اور جمہوریت کی رنگ برنگی تصویر بناتا ہے۔ ان کے شگوفہ الفاظ ہیرے کی کنی کی طرح پتھر کا جگر کاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے لفظوں کے موتیوں سے ایسی مالا تیار کرتے ہیں کہ پڑھنے والا تادیر سر دھنتا رہے۔ ایسا ہی ایک زرنگار کالم انہوں نے تیرہ مئی کو ارزاں کیا ہے۔ یہ کالم پاکستان میں بنیادی جمہوری ، تمدنی اور انسانی اقدار پر نوحہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے روشن آرا بیگم کے خاموش تانپورہ اور شاکر علی کی ادھوری تصویر کا مرثیہ لکھتے ہوئے صحافت کو اس قوم کا آخری تمدنی مورچہ قرار دیا ہے۔ وجاہت کا غم یہ ہے کہ اگر یہ مورچہ ویران ہوگیا تو صحافی کا قلم روشنی بکھیرنا بند کردے گا۔ لفظ خاموش اور آوازیں معدوم ہوجائیں گی۔
یہ المیہ ایک سچائی ہے لیکن وجاہت شاید بھول رہے ہیں کہ اس معاشرے نے روشن آرا بیگم کو بھینسیں نہلانے پر لگا کر موسیقی کے سُر دبانے کا کارنامہ ہی سرانجام نہیں دیا اور اس نے صرف شاکر علی کے موقلم کو تصویر مکمل کرنے سے ہی نہیں روکا۔ اس کے ہاں گل جی کے سینے میں گڑا خنجر بھی نوحہ کناں ہے کہ کیا قوم کو تہذیب و تمدن کے راستے پر ڈالنے کی قیمت یوں لہو بہا کر چکانا ہوگی؟ کیا زندہ قومیں یوں ہی اپنے فنکاروں کی قدر افزائی کرتی ہیں۔ جہاں فنکار کا لہو ارزاں ہو، وہاں قلم کی روشنائی کا خواہاں کون ہو گا۔ سوچنا چاہئے کہ ہمارے مقدر میں اندھیروں کا یہ سفر کیوں لکھ دیا گیا۔
13 مئی کے کالم میں وجاہت رقم طراز ہیں کہ ’حامد میر نے لکھا ہے۔ ’آزادی اظہار پر پابندیاں ہی اصل ففتھ جنریشن وار ہے کیونکہ یہ پابندیاں وہ حالات پیدا کرتی ہیں جن سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے‘ ۔ یہ وہ سچ ہے جو عشروں سے غور و فکر کرنے والے کے قلم پر ایک صبح یوں بن بتائے اترتا ہے جیسے اندھیری رات میں بجلی کی چمک سے راستہ روشن ہو جائے‘۔ وجاہت کو حامد میر کے ایک فقرے میں پیغمبری شان دکھائی دی ہے اور اس نے پوری فراخ دلی سے اس کا اعتراف کیا لیکن قوم کے مقدر پر چھائے اندھیروں اور عقل پر پڑے پتھروں کا حساب کرنے کے لئے اس توصیف سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ وجاہت کو پوچھنا چاہئے تھا کہ حامد میر جیسے کہنہ مشق صحافی کے قلم سے کیا یہ عکاس فقرہ ضمیر کی کسی خفتہ چنگاری سے ابھری ہوئی لو ہے یا یہ کسی خاص ترکیب سے قومی سیاسی و سماجی بساط پر چلی گئی ایسی چال ہے جس میں جمہوری محاذ کے دونوں طرف ایک ہی شاہ کے پیادے ہیں۔
اس ملک کا المیہ یہ نہیں کہ فنکار کی آواز بند کردی گئی یا تصویر ادھوری چھوٹ گئی یا کہ صحافت کے مورچے پر لڑنے والے کب تک اس محاذ پر ڈٹے رہیں گے بلکہ باعث فکر نکتہ یہ ہے کہ صحافی پیدا کرنے والی کوکھ بانجھ ہوچکی۔ آزادی کے لفظ کو غلامی کے معنی عطا کردیے گئے۔ نصاب کی کتاب میں جھوٹ کو سچ بنا کر ثبت کردیا گیا۔ جوان ہونے والی نسل اسی جھوٹ کو انسانیت کی معراج اور قوم کا مفاد سمجھتی ہے ۔ وہ انہی اقدار کے ساتھ صحافت کے مورچے میں ایستادہ ہے۔ جہاں ایک باپ کا فگار دل نگاہوں سے اوجھل اور ’سب سے پہلے، سب سے تیز ‘ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔
یہاں اینکر جس انسانیت کو دن رات بیچ رہا ہوتا ہے اس کا اس کی اپنی زندگی میں دور دور نشان نہیں ملتا۔ یہاں کا قلم بردار اس شاہ کی مصاحبی کو قابل اعزاز سمجھتا ہے جس کے جبر کا احوال بیان کرنے کی امید اس سے وابستہ کی گئی تھی۔ جب صحافی کو خبر دینے والے اور خبر کا گلا گھونٹنے والے کا ایک ہی نام ہو تو سوچنا پڑے گا کہ یہاں صحافت ، آزادی اور خود مختاری کے کون سے مورچے کی بات ہورہی ہے۔ جب اینکروں ، نام نہاد سینئر صحافیوں ، کالم نگاروں اور تجزیہ نگار وں کو اپنی آمدنی کا حساب کرنے کے لئے اکاؤنٹنٹ کی ضرورت پڑتی ہو اور دن رات خبر کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ’ہرکارہ ‘ مہینہ بھر بعد دفتر سے تنخواہ کا خواہاں ہو تو اسے انتظار کرنے کی نوید سنائی جائے اور ہر سو سناٹا ہو۔ بیمار بیوی ، بچے یا ماں کا کوئی پرسان حال نہ ہو اور گھر میں چولہا جلانے کے لئے ادھار ملنا بند ہوچکا ہو۔ تو صحافت کا مورچہ کس کے خون جگر سے آباد ہوگا۔ ان مورچوں میں تو وہ اینکراور قلمکار میں بٹھا دیے گئے ہیں جو اپنے ہی بھائی بندوں کے ٹھنڈھے ہوتے چولہے کا کرب محسوس نہیں کرسکتے۔
ایسے میں آزاد صحافت کے مورچے میں کسے ایستادہ کریں گے۔ کیا یہ لڑائی پیغمبری فقروں کے آدھار پر لڑی جائے گی۔یہ لڑائی لڑنا ضروری ہے لیکن اس کے لئے فوجی کہاں سے آئیں گے۔ ہم نے تو وہ درس گاہیں ہی بند کردیں جہاں سے قلم کو حرمت کا نشان سمجھنے کا سبق سکھایا جاتا تھا۔ اب تو قلم ہو یا گفتگو ، اگر یہ نوٹ چھاپنے کی مشین نہیں بنتے تو ان کی دو کوڑی کی اوقات نہیں سمجھی جاتی ۔ اگر قلم نوٹ چھاپ رہا ہو تو وہ ان روشن راستوں کی نشان دہی کیسے کرے گا جہاں سچ کا کڑا سورج جھوٹ کے مومی مجسموں کو پگھلانے کی طاقت رکھتا ہے۔
پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں ماس کمیونیکشن کے کسی طالب علم سے پوچھ لیجئے۔ وہ کون سی قدر کے لئے ڈگری پانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے آدھے اینکر اور باقی ’سینئر صحافی ‘ بننا چاہتے ہیں ۔ صحافت کب کی بے آبرو ہوچکی۔ اب ہر رائے کی ایک قیمت ہے یا یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ہر لفظ بکتا ہے۔ اس کی قیمت ادا کرنے والے گلی کوچوں بازاروں میں نوٹوں کے بنڈل لئے من پسند کالم لکھنے والوں کو لفافے بانٹ رہے ہیں۔ اگر کسی کے حصے کا لفافہ مکتوب الیہ تک نہ پہنچے تو سوشل میڈیا کے سراغ رساں لمحہ بھر میں اس کی پوری رام کتھا سامنے لانے کو تیار رہتے ہیں۔
صحافت کو ملک میں موٹر سائیکل یا گاڑی پر ’پریس‘ کا ٹھپہ لگانے یا گلے میں تصدیق شدہ صحافی ہونے کا شناخت نامہ لٹکانے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اب صحافی وہ نہیں جو ضمیر کے مطابق خبردے یا رائے کا اظہار کرسکے۔ اب صحافت ان کے نام سے معنون ہے جو خبر اور تبصروں کے مہر بند لفافے وصول کرتے اور انہیں پھیلانے کے کام پر مامور ہیں۔
آزادی رائے کو قومی غیرت کے منافی قرار دینے والے کب کے صحافت کے محاذ پر قابض ہوچکے۔ سوال ہے کیا سرزد ہونے والے ’پیغمبری ‘ فقرے اس محاذ کو غنیم سے آزاد کروالیں گے؟

loading...