جسٹس (ر) جاوید اقبال کے توتا مینا اور جاوید چوہدری کی داستان گوئی

ان دنوں پاکستان میں جاوید نامہ (جدید) لکھا جا رہا ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال بات کرتے ہیں اور جاوید چوہدری بیان کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آئی ایم ایف کا وفد آئی ایم ایف کے سابق اہل کاروں سے مذاکرات کرتا ہے۔ محترم جاوید چوہدری نے رواں مہینے کی 16 اور 17 تاریخ کو روز نامہ ایکسپریس میں  ’چیئرمین نیب سے ملاقات‘ کے عنوان سے دو کالم تحریر کئے۔ 17 مئی کو نیب  نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے جاوید چوہدری کے مندرجات کی عمومی تردید کی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’کالم نگار نے حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ بعض افراد اور مقدمات کے حوالے سے غلط نتائج بھی اخذ کئے ہیں۔‘

اس پریس ریلیز میں انٹرویو سے انکار نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں متعین طور پر بتایا ہے کہ ان کی جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال سے منگل 14 مئی 2019 کو ملاقات ہو ئی۔ اس کے بعد 20 مئی کو جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ قبل ازیں چیئرمین کی ایسی پریس کانفرنس کی نظیر موجود نہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے اس پریس کانفرنس میں جاوید چوہدری کا نام نہیں لیا اور نہ ہی ان کے مذکورہ کالموں کا کوئی ذکر کیا۔ اگرچہ کہ و مہ کو معلوم تھا کہ یہ پریس کانفرنس اسی تناظر میں بلائی گئی ہے۔

اس کے ایک روز بعد سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ردعمل سامنے آنے کے بعد نیب کی طرف سے ایک اور پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے جاوید چوہدری کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ صحافتی حلقوں میں تاثر یہ ہے کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال ملاقات اور انٹرویو کے ممکنہ ابہام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اعلیٰ ریاستی منصب پر فائز کوئی شخص صحافی سے وقت طے کرکے ملاقات کرے اور اپنے پیشہ ورانہ امور پر سوال جواب کی صورت میں مکالمہ کرے تو اسے اصطلاحاً انٹرویو ہی کہا جاتا ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے ملاقات سے انکار نہیں کیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر جاوید چوہدری نے جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کے نام پر من گھڑت قصے سنائے ہیں تو نیب کا چیئرمین اور سپریم کورٹ کا سابق جج اس غلط بیانی پر قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کرتا؟

اس مبینہ انٹرویو یا ملاقات یا گفتگو میں پاکستان کے سابق قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے ایک جگہ مبینہ طور پر فرمایا کہ ’ ہم اگر آج حکومت کے اتحادیوں کو گرفتار کرلیں تو یہ حکومت دس منٹ میں گر جائے گی لیکن خدا گواہ ہے ہم یہ حکومت کے لیے نہیں کر رہے، ہم یہ ملک کے لیے کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک قدم سے ملک میں خوفناک بحران پیدا ہو جائے گا، ملک کو نقصان ہو گا اور ہم یہ نہیں چاہتے۔‘ سرکار اعتراف فرما رہے ہیں کہ سیاسی مصلحت کے باعث کچھ معاملات میں نیب کو جان بوجھ کر کارروائی سے روک رکھا ہے۔ کیا یہ فیصلہ چیئرمین کے صوابدیدی اختیار کا حصہ ہے کہ کرپشن کے کسی مقدمے سے سیاسی بحران پیدا ہو گا یا نہیں؟

جاوید چوہدری نے لکھا ہے کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کے بقول ’ کوئی منسٹر کالونی کے بنگلہ نمبر 29 میں اندر داخل ہوا‘ تلاشی لی اور فائلیں چوری کر کے غائب ہو گیا‘۔ کیا چوری کی اس واردات پر کوئی قانونی کارروائی کی گئی؟ اگر ہاں تو اس کا ریکارڈ ہونا چاہیے؟

17 مئی کو نیب کی تردیدی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نیب کا ریکارڈ دفتر سے باہر نہیں لے جایا جاتا۔ جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں لکھا کہ منسٹر کالونی کے بنگلہ نمبر 29 سے نیب کی فائلیں چوری کی گئیں۔ کالم نگار کا واضح اشارہ تھا کہ یہ فائلیں مبینہ بدعنوان عناصر نے اپنے خلادف شواہد ختم کرنے کے لئے چوری کروائیں۔ اگر چیئرمین نیب نے ایسا نہیں کہا تو جاوید چوہدری کے خلاف غلط بیانی پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

جاوید چوہدری کے مطابق جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے مالم جبہ کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ’میں صرف پرویز خٹک کی صحت سے ڈرتا ہوں‘ یہ اگر گرفتار ہو گئے اور انہیں اگر کچھ ہو گیا تو نیب مزید بدنام ہو جائے گا‘۔ یہ تو واضح ہو گیا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ نیب بدنام ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو وزیر دفاع کی صحت کے بارے میں کیا معلومات ہیں اور کیسے؟ کیا پاکستان کے وزیر دفاع علیل ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو اس بارے میں خیال رکھنا نیب کے چیئرمین کے منصبی تقاضوں کا کیسے حصہ ہے؟

جاوید چوہدری کے مطابق جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے انکوائری کے دوران آصف علی زرداری کے ہاتھوں کی لرزش کا تفصیلی احوال بیان کیا۔ دوسری طرف نیب کی پریس ریلیز کہتی ہے کہ نیب تمام ملزمان کی عزت نفس کا خیال رکھتا ہے۔ آصف علی زرداری کو پارکنسن کا عارضہ لاحق ہے۔ اس بیماری میں ہاتھ پاؤں ہر وقت کانپتے رہتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے نیب کا چیئرمین مقرر ہونے سے پہلے فاروق نائیک کے ساتھ آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی۔ اگر ملاقات کی اس حکایت میں وزن ہے (اعزاز سید نے یہ خبر جنوری 2018 میں دی تھی اور 20 مئی کی پریس کانفرنس میں جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کے روبرو بھی یہ بات دہرائی) تو کیا اس ملاقات میں آصف علی زرداری کے ہاتھ مستحکم پائے گئے؟

جاوید چوہدری کے مطابق جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے کہا ’ میں سمجھتا ہوں ملک ریاض کو مزید کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے تھا‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک ریاض کو کام کرنے سے روکا گیا؟ اگر ہاں تو ملک ریاض کو کام کرنے سے کس نے روکا؟ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال بحیثیت چیئرمین نیب ملک ریاض کے بارے میں ذاتی تحسین کے اظہار کا استحقاق کیسے رکھتے ہیں؟  انہوں نے بھیس بدل کر ملک ریاض کے دسترخوان کا دورہ کیوں کیا؟ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی ملک ریاض میں دلچسپی کی لم کیا ہے؟ یہ سوال اٹھانا اس لئے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آ چکی ہیں کہ نیب کا چیئرمین مقرر ہونے کی بھاگ دوڑ میں جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے ملک ریاض سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

جاوید چوہدری کے مطابق جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے کہا کہ (احد چیمہ اور فواد حسن فواد) میں سے ’ایک کو تکبر لے بیٹھا اور دوسرے نے سفارشیں شروع کرا دی تھیں‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا تکبر نیب کے قانون کی روشنی میں قابل مواخذہ جرم ہے؟

یادش بخیر، جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین تھے۔ جاوید چوہدری کے بیان کے مطابق مبینہ انٹرویو (ملاقات) میں جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے ایک موقع پر فرمایا کہ ’ایبٹ آباد سانحے کی وجہ سے پورے ملک کا وقار خاک میں مل گیا‘۔ اس میں کیا شک کہ 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں پاکستان کی بھد اڑی۔ جہاں تک درویش کا حافظہ کام کرتا ہے، جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے دسمبر 2016 میں ایبٹ آباد کمیشن  کی رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب جب کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال پاکستان کے طاقتور ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں، وہ پاکستان کا  ’وقار خاک میں ملانے والے واقعے‘ کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

اس مبینہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے جاوید چوہدری نے تین اہم انکشافات کئے۔ جاوید چوہدری کے بقول جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کہتے ہیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ وہ سخت خطرے میں ہیں اور اپنے قیام کی جگہوں کو بار بار تبدیل کرتے ہیں اور خفیہ رکھتے ہیں۔ دوسرا انکشاف یہ کہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت کے آخری دنوں میں انہیں صدر پاکستان بنانے کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔ (اس مبینہ پیش کش کا انکشاف معروف صحافی ہارون الرشید بھی کر چکے ہیں۔ گویا مخصوص حلقوں میں یہ ذکر ہوتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 2018 میں دیوار سے لگی ہوئی مسلم لیگ نواز کس برتے پر کسی کو صدر پاکستان بنانے کی نوید سنا سکتی تھی؟) جاوید چوہدری نے تیسرا انکشاف یہ کیا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کے مطابق شہباز شریف مبینہ طور پر لوٹی ہوئی رقم لوٹانے پر آمادہ ہو گئے تاہم شرائط طے نہ پا سکیں۔ ان تینوں نکات پر جاوید چوہدری کے بقول جب ’کس نے؟ کب؟ اور کہاں؟‘ جیسے متعین سوالات کئے گئے تو جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے تینوں مواقع پر ایک ہی جواب دیا کہ ’یہ میں آپ کو چند روز بعد بتاؤں گا‘۔

چند روز بعد بتانے کا پیرائیہ اظہار دلچسپ ہے اور سیاسی زاویے رکھتا ہے۔ سیاست دان اس لب و لہجے میں بات کرکے دراصل کسی پس پردہ فریق کو اشارے دیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2017 میں چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ہاؤس میں طویل پریس کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا تو وہ آدھی بات کہتے تھے اور باقی آئندہ پہ رکھ چھوڑتے تھے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔ البتہ مقتدرہ کے خاص اعتماد کے آدمی ہیں۔ پرویز مشرف نے انہیں تب پریس فاؤنڈیشن کا سربراہ مقرر کیا جب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال اپنے برادر ججوں کے ہمراہ برطرف کئے جا چکے تھے۔ ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کو سونپی گئی۔ مسنگ پرسنز کمیشن کا سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کو بنایا گیا۔ 2017 کے آخر میں نیب کی سربراہی بھی جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کو سونپی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ’چند روز بعد مزید انکشافات‘ کا عندیہ دے کر کیا جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کسی نادیدہ حلقہ اختیار سے بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں؟ کیا ان افواہوں میں کوئی حقیقت ہے کہ نیب کے احتساب پر حکومت اور ماورائے حکومت بندوبست میں تزلزل آ چکا ہے؟

غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر

محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسمان جیسے

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...