چیرمین نیب کی پریس کانفرنس اور میرے سوال کا بھنبھناتا مچھر

یوں تو انیس مئی اتوار چھٹی کا دن تھا۔ مگر اس روز چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی پریس کانفرنس کا شیڈول غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ عام طور پر چھٹی کے دن سرکاری ادارے پریس کانفرنس کرنے کا خطرہ اس لیے مول نہیں لیتے کہ صحافی کم ہی آئیں گے۔ مگر ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر نیب کی پریس کانفرنس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شاید نیب کو بھی اپنی اہمیت کا مکمل احساس تھا۔

پریس کانفرنس کا وقت دن 12 بجے مقرر تھا۔ مگر صحافی ساڑھے گیارہ بجے ہی نیب اسلام آباد کے پرانے ہیڈکوارٹر کی عمارت میں پہنچنا شروع ہو گئے۔ اکثرصحافتی چھٹی کے دن اس پریس کانفرنس کے بارے میں کھسر پھسر کررہے تھے۔ جاوید اقبال جب سے اس عہدے پر براجمان ہوئے ہیں میری یادداشت کے مطابق انہوں نے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی۔ سابق چیرمین نیب قمرزمان چوہدری کبھی کبھی ضرور میڈیا سے بات کرتے تھے۔ جاوید اقبال شاید ایسا کربھی نہیں سکتے کیونکہ پریس کانفرنس میں سوال ہوتے ہیں اور بعض سوال ایسے ہیں جن کا جواب شاید ان کے پاس شرمندگی کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو۔ مفت میں سب کچھ لیا جا سکتا ہے، شرمندگی نہیں۔

میں دی نیوز کے سینئرصحافی عاصم یسین کے ہمراہ بیٹھا تھا۔ میرا خیال یہی تھا کہ چیرمین نیب جاوید چوہدری کے کالم میں چھپنے والی اپنی گفتگو پر رائے کا اظہار کریں گے اور نکلتے بنیں گے۔ ہمیں سوال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا۔ ابھی ہم انتظار ہی کر رہے تھے کہ نیب کے ترجمان نوازش علی عاصم سب سے ہاتھ ملاتے اور چھوٹی موٹی گپ لگاتے میری طرف بڑھتے نظر آئے۔  نوازش صحافیوں کو چیرمین کی بات غور سے سننے کی تاکید کررہے تھے۔ جونہی وہ میرے قریب آئے تو ایک دو صحافی بھی آن کھڑے ہوئے۔ نوازش اپنے چیرمین کی تعریف کرنے لگے۔ مجھے بازو پکڑ کر بولے دیکھو تم سوال کرنے کی بجائے چیرمین کی گفتگو غور سے سننا، وہ اہم باتیں کریں گے۔ میں پوچھ رہا تھا کہ جاوید چوہدری کی ملاقات میں کیا وہ بھی شریک تھے یا نہیں مگر نوازش کہاں صحافی کی مرضی کا جواب دیتے ہیں ؟ وہ واضح طور پر اشارہ کر رہے تھے کہ میں پریس کانفرنس میں ہاتھ ہولا رکھتے ہوئے سوال ہی نہ کروں۔

نوازش علی عاصم سے میرا عجیب تعلق ہے۔ اس سے لڑائی بھی ہوتی ہے اور دوستی بھی رہتی ہے۔ اس کی اپنے افسران سے وفاداری پر پیار بھی آتا ہے اور غصہ بھی۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی ادارے کی نوکری نہیں کر رہا بلکہ اپنے باس کے ساتھ ذاتی وفاداری نبھا رہا ہے۔ میڈیا مینجر اور صحافی پیشہ وارانہ اعتبار سے مخالف سمتوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ میڈیا مینجر منفی خبریں اور سوالات روکتے ہیں جبکہ صحافیوں کا دھندہ ہی تنازعات سے بھرپور خبروں، اسکینڈلز اور سوالات سے چلتا ہے۔

چیرمین نیب چالیس منٹ تاخیر سے بارہ بجکر چوالیس منٹ پر کمرے میں داخل ہوئے۔ ایک باریش شخص نے تلاوت کی اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنی تقریر کرنا شروع کردی۔ وہ مسلسل بول رہے تھے۔ نیب کی کارکردگی اور اپنی غیر جانبداری کے یک طرفہ دعوے بڑے احسن انداز میں جاری تھے۔ جب کوئی شخص اپنے ہی منہ سے اپنی تعریفیں کرتا ہے تو بڑا عجیب لگتاہے۔ ویسے یہ وہ غلطی ہے جو مجھ سمیت ہم سب کبھی نہ کبھی ضرورکرتے ہیں لیکن بڑے عہدوں پر براجمان اشخاص ایسا کریں تویہ اس لیے بھی زیادہ برا لگتا ہے کہ ان کی کارکردگی ہم کسی نہ کسی طریقے سے دیکھ ہی رہے ہوتے ہیں۔ وہ کارکردگی عام طور پر ان کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ ظاہر ہے یہ خود ستائی ایسی شخصیات کا کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتی۔

چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنی تقریر میں حکومت کو بھی نصیحتیں کیں اور نیب کی صفائیاں بھی پیش کیں۔ مجھے علم تھا کہ وہ صحافیوں کے سوالوں کا جواب ہرگز نہیں دیں گے۔ وہ چاہیں گے کہ اخبارات اور ٹی وی ان کے خطاب کو پریس کانفرنس سے خطاب کے طور پر شائع اور نشر کریں مگر عملی طور پر وہ پریس کانفرنس کے بنیادی اصول یعنی سوالوں کے جواب کو پامال کرنا چاہتےتھے۔ کم و بیش دو دہائیوں سے اس ملک میں صحافت کرتے ہوئے مجھے اتنی تو سمجھ آ گئی ہے کہ بڑی شخصیات اور اہم عہدیدار بیسیوں کیمرے اور درجنوں صحافی دیکھ کر لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں مگر جب صحافیوں کے کڑے سوالات کی باری آتی ہے تو وہ وقت کی کمی کا بہانہ کرکے اکثر موقع سے فرار ہو جاتے ہیں۔ دراصل پاکستان میں طاقت، اختیار اور قانون کے یکساں اطلاق کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور اہم عہدوں پر بیٹھے اکثرافراد عہدوں اور طاقت کے حصول کے لیے کچھ بنیادی اخلاقی اصول بھی پامال کردیتے ہیں۔ اسی لیے وہ سوالوں کے جواب دینے سے گریز ہی کرتے ہیں۔

چیرمین نیب جاوید اقبال کس طرح اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے اور ماضی میں وہ کہاں کہاں کیا کیا کچھ کرتے رہے یہ سب میری نظر میں تھا اس لیے مجھے اندازہ تھا کہ وہ سوالوں کے جواب ہرگز نہیں دیں گے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنی تقریر کے آخر پر اعلان کیا کہ آپ کو سوالوں کی تشنگی ضرور ہوگی مگر آج نہیں، عید کے بعد سوال جواب ہوں گے۔ میں جسٹس جاوید اقبال کے سامنے موجود میز پران کے سامنے بائیں ہاتھ کی رو پر دسویں نمبر پر بیٹھا تھا۔ صورتحال کو بھانپتے ہوئے میں بلند آواز میں معزز چیرمین سے مخاطب ہوا اور انہیں عرض کی کہ جناب آپ سوالوں کا جواب نہیں دیتے لیکن اس ادارے کی خاطر میرے سوال کا جواب ضرور دے کر جائیں۔ چیرمین نیب نے کمال فراخدلی سے ادارے کے وسیع تر مفاد میں مجھے بولنے کی اجازت دی۔

میں نے عرض کی کہ جناب آپ کہتے ہیں کہ نیب کسی کے استعمال میں نہیں ہوتا، یہ بڑا غیر جانبدار ہے ، یہ بیان تو بہت اچھے ہیں۔ آپ نے اپنی تقریر میں بلوچستان کی بیوروکریسی کا حوالہ دیا۔ اس حوالے سے نیب نے بلوچستان کے افسر رئیسانی اور خالد لانگو کی ضمانتوں کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا مگر اپیل نہیں کی۔ اس پر جسٹس جاوید اقبال نے مجھے ٹوکا ، کہ آپ کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ میں دوبارہ بولا جناب مجھے میری بات مکمل کر لینے دیں۔ دراصل شروع میں ہلکا سوال کرکے میں چیرمین نیب کو انگیج کرنا چاہتا تھا کہ وہ میری پوری بات سنیں۔ مجھے علم تھا کہ میرے سوال میں ایک نہیں، تین سوالات چھپے تھے۔ ایک شیریں اور دو تلخ۔

بات جاری رکھتے ہوئے میں نے کہا علیم خان کے بارے میں نیب نے اپیل نہیں کی۔ علیم خان حکمران تحریک انصاف کے رہنما تھے جنہیں عدالت نے حال ہی میں ریلیف دیا تھا۔ میں نے بات مزید جاری رکھی ، ’ ہم دیکھتےہیں کہ جب سیاستدانوں کے خلاف کیسز آتے ہیں نیب سیاستدانوں کوگرفتار کرتی ہے مگر جب ملک ریاض صاحب کا کیس آتا ہے، پانچ کیسز ہیں ملک ریاض صاحب کے خلاف، آپ پر الزام ہے کہ آپ نے چیرمین نیب تعینات ہونے کے لیے ملک ریاض صاحب اور آصف زرداری سے ملاقاتیں کیں’۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے ایک براہ راست سوالیہ حملہ کیا ، ’میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ان سے ملے ہوِئے ہیں مگر یہ سنگین الزامات ہیں‘۔

دوسری طرف چیرمین نیب کے چہرے کے تاثرات جو تھوڑی دیر پہلے تقریرکرتے ہوئے بڑے خوشگوارتھے مکمل سنجیدگی میں بدل گئے۔ وہ بولے کہ علیم خان کے بارے میں اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ ہم نے لانگو کے بارے میں اپیل کی ہے۔ سیکرٹری صاحب نے پلی بارگین کی درخواست کی ہے جسے عدالت نے دیکھا ہے۔ یہ باتیں کرکے چیرمین نیب اپنی تعیناتی سے قبل آصف زرداری اور ملک ریاض سے اپنی ملاقاتوں کے سوال کی جانب آئے اور ان کا نام لیے بغیر بولے، ’جن شخصیات کا نام آپ نے لیا ہے اگر میرے ان کے ساتھ اتنے ہی مراسم ہوتے تو ان کے خلاف ریفرنس دائر نہ ہوتے‘۔ یہ کہتے ہی چیرمین نیب روسڑم سے ہٹے اور ہماری نظروں کے سامنے ہال کے باہر جا کر گم ہو گئے۔

بات واضح تھی چیرمین نیب میری بات کا براہ راست جواب نہیں دے پائے۔ وہ چیرمین نیب تعیناتی کے لیے اپنی ملاقاتوں پر بات ہی نہیں کر پائے۔ دراصل چیرمین نیب کی ساری پریس کانفرنس کو غور سے سنا جائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے مشہورصحافی جاوید چوہدری کے دو قسطوں پر لکھے گئے کالم کے کم و بیش تمام حصوں کی تصدیق کی ہے ہاں کچھ کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

معروف بھارتی فلم سٹار نے کسی فلم میں مشہورڈائیلاگ بولا تھا، ایک مچھر ہیجڑہ بنا دیتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حقائق پر مبنی ایک سوال بھی طاقتور سے طاقتور آدمی کو۔۔۔ کیا کیا کچھ بنا دیتا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...