اظہارِ وجوہ کا نوٹس

میں نہ مُلا ہوں  مفتی نہ کوئی مذہبی اتھارٹی مگر میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ادارہ ء رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری ہونے والے ایک ہدایت نامے کے مطابق ہر مسلمان ذمہ دار بھی ہے اور جواب دہ بھی ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جب ہم اُمتِ خیر ہونے کے دعویدار ہیں ، خود کو دنیا کی بہترین اُمت قرار دیتے ہیں تو ہماری معاشرت میں رونما ہونے والے کم سنوں سے جنسی زیادتی اور اُن کے قتل جیسےقبیح اور انسانیت سوز واقعات ، ہمارے اپنے دعوؤں کا مونہہ چِڑاتے محسوس ہوتے ہیں  ۔ )

منجانب : اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے غریب اور بے بس عوام

بنام : علمائے اسلام از قسم مولانا فضل الرحمان ، مولانا سراج الحق ، مولوی خادم حسین ، مولانا طارق جمیل ، مفتی منیب الرحمان ، مفتی پوپلزئی وغیرہم بشمول وفاقی شرعی عدالت ، اور اسلامی نظریاتی کونسل

مملکتِ خُداد اد پاکستان میں پچھلے دو سیاسی ادوار اور حالیہ حکومت  کے دوران کم سن بچیوں اور بچوں سے جنسی  زیادتی کے بعد قتل کی جو وارداتیں ہوئی ہیں اور جس تعداد میں ہوئی ہیں وہ نہ صرف المناک ہیں بلکہ شرمناک بھی ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بے راہروی کا ذمہ دار کون ہے ؟ کون سا ادارہ ہے جو اپنی تدریسی اورتعلیمی کوتاہیوں سے انسانوں کی کھال میں بھیڑیوں کی روح کی پرورش کر رہا ہے ؟ کون سا ادارہ ہے جو  غیر ذمہ داری اور گمرہی کو ہوا دے کر آج کے انسان کو انساانی منصب سے سبکدوش کر رہا ہے ؟

میں اور مجھ جیسے کروڑوں لوگ ، علما اور مفتیانِ کرام کے کے نقطہ ء نظر کو بچپن سے سنتے سنتے بوڑھے ہوگئے ہیں اور جانتے ہیں کہ امت کی  گمرہی اور بے راہروی کا سارا الزام شیطان کے سر تھونپنا کتنا آسان ہے ، مگر رمضان کے اس مہینے میں ، جس میں شیطان قید میں ہے ، جنسی بے راہروی کے درندے اور قاتل کیوں  کھلے پھرتے ہیں جو شیطان کے خصوصی ایجنٹ اور گماشتے ہیں ۔مگر یہ شیطان رہتا کہاں ہے ؟ یہ منافق کے طرزِ عمل میں ،  کاروباری مُلا کے کاروباری فسانوں میں ،  کرپٹ سیاستدان کے منی لانڈرنگ کے کرتوتوں میں رہتا ہے ۔ مگر شیطان کی ترغیب سے اجتناب کر کے اُمت کو صراطِ مستقیم دکھانا کس کا کام ہے ؟

 یقیناًعلمائے اُمت کا  ہے مگر وہ  اپنے فرضِ منصبی سے روگردانی کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے کے بجائے فرقہ واریت کے جوتے پہنے کافر کافر کھیل رہے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اُمت کا ایک بہت بڑا گروہ دہشت گردی میں پل کر وحشی بن چکا ہے ۔ وہ اپنی  اعلیٰ دینی اور انسانی قدریں کھو چکا ہے ۔ یہ واقعات  صرف گلی محلوں سے کم سن بچیوں کے اغوا کی بات ہی نہیں بلکہ بعض شہروں کے دینی مدارس سے بھی خبریں آتی رہی ہیں کہ وہاں کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد اُنہیں چھت سے گرا کر ہلاک کر دیا گیا ۔ مفتی قوی کی کہانی بھی کوئی نہیں بھولا کہ ایک قتل کی واردات میں ایک مذہبی مفکر بھی ملوث تھا ۔

 کم سن بچیوں کے قتل اور ریپ کے بعد تو علمائے کرام کو ان سنگین ، شرمناک اور انسانیت سوزواقعات کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا چاہیے تھا اور اُس وقت تک نچلا نہیں بیٹھنا چاہیے تھا جب تک کہ بے غیرتی کا یہ گند صاف نہیں ہوجاتا ۔ان جنسی دہشت گردوں کا صفایا نہیں ہوجاتا ۔ یاد رہے کہ ان جنسی دہشت گردوں کو پولیس یا ناقص قانونی نظام نہیں بلکہ اخلاقی ، روحانی اور دینی تعلیم کا فقدان جنم دیتا اور پالتا پوستا ہے ۔ اور ہماری بد قسمتی کہ ہمارے یہاں آٹھ لاکھ مساجد اور ان کے کروڑوں مذہبی کارکن تبلیغ کی نیند سو کر جنت کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ اور کسی کو فکر نہیں کہ اس سنگین اخلاقی بے راہروی کا قلع قمع کرنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ کیوں نہیں کیے جا رہے ۔

 کیا مسلمان بچیوں اور بچوں کو ان جنسی درندوں سے بچانا ضروری نہیں ؟ اب کہہ دو کہ جس طرح دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ، اسی طرح جنسی درندگی ، ریپ اور قتل کا بھی کوئی مذہب نہیں ، تو طے یہ ہوا کہ یہ لوگ جو اس طرح کے قبیح واقعات میں ملوث ہیں ، وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ اور جب وہ مسلمان نہیں تو وہ مملکتِ خُداداد میں مسلمانوں کی شکل بنائے کیا کرتے پھر رہے ہیں ۔ اگر ہمت ہے اور ضمیر زندہ ہے تو کہو کہ جنسی اور سیاسی دہشت گرد واجب القتل ہیں کیونکہ وہ اسلامی شریعت کے غدار ہیں ۔

شریعت محمدی کے قوانین سے روگردانی اسلام سے صریح انکار ہے اور شریعتِ محمدی کے منکر سے بڑا توہینِ رسالت ؐ کا مجرم کون ہو گا ؟ مگر اس مسئلے پر بھی مذہبی آڑھتی کرسی کی سیاست کر رہے ہیں ۔ اور سیاست دانوں کے طرح مولوی سراج الحق  بھی اگر مقتول فرشہ کے گھر جا کر سیاسی انداز میں تعزیت کرتے ہیں تو وہ اپنی دینی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے بجائے سیاست کے شلغموں سے مٹّی جھاڑتے ہیں  اور یہ اپنی اصلی ذمہ داری سے گریز ہے کیونکہ اگر مسلمانوں کی درست شرعی تربیت ہوتی تو یہ سب کیوں ہوتا جو ہو رہا ہے ۔

 اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا جواب اُن اکابرین ، علماء ، فقہا اور رٹو طوطوں کو دینا ہے جو دینی اداروں سے وابستہ ہیں  اور خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی چُوری کھا رہے ہیں اور اس وقت جو قومی دینی منظر نامہ سامنے ہے اُس میں مولوی تو موجود ہے مگر میدانِ عمل میں اسلام کہیں موجود نہیں ۔ اور جس قسم کا نمائشی اور پراپیگنڈہ اسلام موجود ہے ، وہ مذہبی ٹھیکداروں کی روزی روٹی اور حلوے مانڈے کا وسیلہ تو ہے مگر اُمت کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا وسیلہ نہیں ہے ۔ اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں وہ نہ صرف خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بد ترین منکر ہیں بلکہ پاکستان کے غدار بھی ۔ وما علینا الالبلاغ

loading...