آمدن میں اضافہ نہ ہوسکا، مالی خسارہ 5 فیصد، معیشت شدید مشکلات کا شکار

  • بدھ 22 / مئ / 2019
  • 330

پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی سال میں  ملک کا مالی خسارہ  مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک جاپہنچا ہے۔ جبکہ آمدنی (ریونیو) کی کارکرددگی تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ خسارے کی تفصیلات کے مطابق 9 ماہ کے عرصے میں ملک کا مجموعی خسارہ 19 کھرب 22 روپے رہا۔  یہ ایک دہائی کے عرصے میں تین سہہ ماہیوں کا بلند ترین خسارہ ہے جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کیا گیا خسارہ 14 کھرب 80 ارب روپے تھا۔

اخراجات اور آمدنی کے بارے میں خسارے کے اشاریے خرابی کی نشاندہی کررہے ہیں جس کے مطابق ایک جانب اخراجات قابو میں نہیں تو دوسری جانب ریونیو اکٹھا کرنے کی شرح کم ہوئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی مایوس کن صورتحال سے حکومت پر ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے مزید دباؤ بڑھے گا اس کے ساتھ  جون میں آنے والے بجٹ میں اخراجات کو روکنے کا پختہ عزم بھی درکار ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2019 سے مارچ 2019 پر مشتمل تیسری سہ ماہی کے دوران خسارے میں زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 9کھرب روپے یعنی جی ڈی پی کا 2.3 فیصد رہا۔ یہ رقم ابتدائی 2 سہ ماہیوں، جولائی سے جنوری، کے مجموعی خسارے سے ذرا سی ہی کم ہے جب مجموعی خسارہ 10 کھرب 2 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کا 2.7 فیصد تھا اور ترقیاتی اخراجات میں 34 فیصد کمی کے باوجود اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

2000 کے بعد اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ خسارہ مالی سال 13-2012 کے دوران 8 فیصد تھا لیکن اُس سال بھی 9 ماہ کے دوران ریونیو اور اخراجات کا فرق جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تھا۔

شرح سود تقریباً دگنی ہوچکی ہے اور روپے کی قدر میں خاصی کمی آچکی ہے اس صورتحال کے باعث حکومت کے لیے تازہ قرضوں میں مارک اپ کی لاگت بڑھے گی۔ تیسری سہ ماہی کے دوران دفاعی اخراجات میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 9 ماہ کے عرصے میں جی ڈی پی کے 2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 11 سال کے عرصے میں کبھی پورے سال کے لیے بھی 1.9 فیصد سے آگے نہیں بڑھا تھا۔

یوں جولائی سے مارچ کے عرصے میں گزشتہ برس سے اب تک دفاعی اخراجات 24.1 فیصد بڑھ کر 7 کھرب 74 ارب 80 کروڑ روپے ہوچکے ہیں جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 6 کھرب 23 ارب 80 کروڑ روپے تھے۔

ٹیکس کے علاوہ ہونے والی آمدنی کا حجم گزشتہ برس کے 5 کھرب 6 ارب روپے کے مقابلے اس برس  4 کھرب 21 ارب 60 کروڑ روپے رہا۔ یوں اس آمدنی کی شرح 09-2008 کے بعد سے کم ترین سطح پر آگئی اور یہ جی ڈی پی کا 1.1 فیصد حصہ رہا جو گزشتہ عرصے میں 1.5 فیصد تھا۔

موجودہ اخراجات 09-2008 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ اور جی ڈی پی کا 12.5 فیصد ہیں جو گزشتہ برس 40 کھرب 7 ارب 50 کروڑ کے مقابلے میں اس سال 40 کھرب 79 ارب 90 کروڑ روپے ہیں۔

loading...